مغرب کے دوہرے معیار پر چینی میڈیا کی تنقید، یوکرین پر ھنگامہ اور ایران پر خاموشی

چینی میڈیا

?️

سچ خبریں:چینی میڈیا نے ایران اور یوکرین کے معاملے میں مغرب کے دوہرے معیار پر سخت تنقید کی ہے۔

چینی میڈیا نے یوکرین جنگ اور ایران پر حملوں کے حوالے سے مغربی ممالک کے دوہرے معیار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔

سی جی ٹی این کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر اچانک حملہ، جو تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے دوران شروع ہوا، اور جس میں ایران کی قیادت اور اعلیٰ حکام کو نشانہ بنایا گیا، ایک واضح طور پر ایران کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے باوجود مغربی ممالک کی اکثریت نے اس اقدام پر خاموشی اختیار کی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ رویہ 2022 میں یوکرین جنگ کے دوران مغرب کے ردعمل کے بالکل برعکس ہے، جب مغربی ممالک نے سخت مذمت، پابندیوں اور بھرپور حمایت کے ذریعے یوکرین کا ساتھ دیا تھا۔ لیکن ایران کے معاملے میں، جہاں بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک ہوئے، مغرب کی خاموشی نمایاں رہی۔ برطانوی اخبار گارڈین نے بھی اپنے اداریے میں اس دوہرے معیار کو غلطی سے بڑھ کر ایک جرم قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق اس خاموشی کے پیچھے شہریوں کی بھاری جانی نقصان کی تلخ حقیقت موجود ہے،ایرانی ہلال احمر کے سربراہ پیرحسین کولیوند کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں 80 ہزار سے زائد غیر فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں 266 طبی مراکز اور 498 اسکول شامل ہیں۔

انہوں نے ان حملوں کو بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے شواہد عالمی اداروں کو فراہم کیے جائیں گے تاکہ ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی ہو سکے۔

مزید کہا گیا کہ جنگ کے ابتدائی دن ایک لڑکیوں کے اسکول پر حملہ کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں طالبات جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں، تاہم مغربی میڈیا نے اس واقعے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔

رپورٹ میں بعض مغربی رہنماؤں کے متضاد مؤقف کا بھی ذکر کیا گیا، جہاں اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ان حملوں کی مذمت کی، جبکہ آسٹریلیا اور جرمنی کے رہنماؤں نے امریکہ اور اسرائیل کی حمایت کی۔

رپورٹ کے مطابق اس دوہرے معیار کی بنیادی وجہ جیوپولیٹیکل مفادات اور اسٹریٹجک ترجیحات ہیں، جہاں مغربی ممالک اپنے مفادات کو بین الاقوامی قوانین پر فوقیت دیتے ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ اگر بین الاقوامی قوانین کو منتخب انداز میں لاگو کیا جاتا رہا تو ان کی حیثیت کمزور ہو جائے گی اور وہ طاقتور ممالک کے ہاتھ میں ایک آلہ بن کر رہ جائیں گے۔

چینی میڈیا نے زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین کی اصل اہمیت اس وقت برقرار رہتی ہے جب ان کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اور شہریوں کے تحفظ، قومی خودمختاری اور بنیادی انسانی اصولوں کو سیاسی مفادات کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے۔

مشہور خبریں۔

مودی اپنی فیس سیونگ کیلئے خطرناک حد تک جاسکتا ہے۔ عبدالقادر پٹیل

?️ 13 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر

سائفر کی ڈی کلاسیفائیڈ تمام کاپیاں وزارت خارجہ کو واپس موصول ہو گئیں

?️ 4 جون 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سائفر کی ڈی کلاسیفائیڈ تمام کاپیاں وزارت خارجہ

روس نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا

?️ 11 اگست 2022سچ خبریں:     صیہونی عبوری حکومت اور استقامتی گروہوں کے درمیان غزہ

الجولانی کی فلسطینی گروپوں کو شام سے نکالنے کی کوشش

?️ 25 مئی 2025سچ خبریں: شام کی عبوری حکومت کے سربراہ احمد الشعراء الجولانی کی

میں استعفیٰ نہیں دوں گا: برطانوی وزیراعظم کا کابینہ سے خطاب

?️ 7 جولائی 2022سچ خبریں:   کابینہ کے وزراء کے بڑے پیمانے پر استعفوں کے بعد

مقبوضہ مغربی کنارے میں صیہونی مخالف کارروائی کرنے والے کی شہادت

?️ 1 جون 2026سچ خبریں: صہیونی حکومت کے میڈیا نے بیت اللحم کے گش عتصیون

پاکستان میں 78 فیصد گھرانوں تک قدرتی گیس نہیں پہنچ پاتی

?️ 12 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)پاکستان میں 78 فیصد گھرانوں کو قدرتی گیس تک

حملے کے پہلے دن غزہ کے عوام پر 16 ٹن بم گرائے گئے

?️ 6 اگست 2022سچ خبریں:    صہیونی اخبار یدیوت احرونوت نے ایک خبر میں لکھا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے