فلائی دبئی طیارے کے واقعے پر عطوان کے 11 سوالات ؛ صیہونی بیانیے پر شدید شکوک

فلائی دبئی

?️

سچ خبریں:عبدالباری عطوان نے فلائی دبئی کے طیارے کے مبینہ واقعے کا تجزیہ کرتے ہوئے 11 نکات پیش کیے اور دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ صیہونی خفیہ اداروں کی جانب سے تیار کیا گیا ایک منصوبہ تھا۔

عرب تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے 11 نکات کی بنیاد پر فلائی دبئی کے اماراتی طیارے سے متعلق مبینہ دہشت گردی کے واقعے پر سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ایک صیہونی منصوبہ تھا اور اپنے پس پردہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

عطوان نے علاقائی تزویراتی امور سے متعلق اپنی ایک تحریر میں، جو ویب سائٹ رائے الیوم پر شائع ہوئی، لکھا کہ تمام شواہد اور قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلائی دبئی کا وہ اماراتی مسافر طیارہ، جو تل ابیب کی جانب پرواز کر رہا تھا، ایک ڈرامہ تھا جسے صیہونی خفیہ اداروں نے انتہائی احتیاط سے تیار کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس مبینہ منظرنامے کے پس پردہ اصل مقاصد اب بھی واضح نہیں ہیں، تاہم ان کے مطابق اس واقعے کے بارے میں صیہونی بیانیہ متضاد اور بظاہر غیر منطقی دعووں سے بھرا ہوا ہے۔

عطوان کے مطابق ان دعوؤں میں سب سے نمایاں دعویٰ یہ ہے کہ کاک پٹ میں پائلٹ اور معاون پائلٹ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، معاون پائلٹ نے چاقو سے پائلٹ پر حملہ کیا، پائلٹ زخمی ہوگیا اور خون بہنے لگا، جبکہ معاون پائلٹ طیارے کو گرا کر اس میں سوار تمام 174 افراد کو ہلاک کرنا چاہتا تھا۔ اس بیانیے کے مطابق مسافروں کی مداخلت کے باعث یہ منصوبہ ناکام ہوگیا۔

عطوان نے اس کے بعد 11 ایسے نکات پیش کیے جنہیں وہ اس واقعے میں صیہونی خفیہ اداروں کے مبینہ کردار کے شواہد سمجھتے ہیں:

1۔ پائلٹ اور معاون پائلٹ کی قومیت کے بارے میں متضاد بیانات

عطوان کے مطابق ابتدا میں بتایا گیا کہ طیارے کا پائلٹ روسی نژاد جبکہ حملہ آور معاون پائلٹ یوکرینی تھا۔ بعد میں یہ بیانیہ تبدیل کرکے کہا گیا کہ پائلٹ اماراتی اور معاون پائلٹ عمانی تھا۔ اس کے بعد ایک اور ترمیم کے ذریعے بتایا گیا کہ پائلٹ بھارتی جبکہ معاون پائلٹ عمانی شہری تھا۔

2۔ سعودی عرب کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان کیوں نہیں آیا؟

عطوان نے سوال اٹھایا کہ اب تک سعودی عرب کی جانب سے ایک بھی باضابطہ بیان یا موقف سامنے کیوں نہیں آیا، حالانکہ یہ کہا گیا تھا کہ طیارے نے سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کی، معاون پائلٹ کو گرفتار کیا گیا اور زخمی پائلٹ کو طبی امداد فراہم کی گئی۔

3۔ طیارہ اردن سے سعودی عرب کیوں گیا؟

عطوان نے سوال کیا کہ واقعے کے وقت طیارہ اردن کی فضائی حدود میں موجود تھا، تو پھر اس نے اردن کی فضائی حدود چھوڑ کر سعودی عرب کے تبوک انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

ان کے مطابق تبوک ایئرپورٹ اسرائیل کے ایلات ایئرپورٹ اور مصر کے شرم الشیخ ایئرپورٹ سے زیادہ دور نہیں، جبکہ عقبہ ایئرپورٹ بھی اس کے قریب واقع ہے۔

4۔ دو صیہونی پائلٹ اتفاقاً طیارے میں موجود تھے؟

عطوان نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ محض اتفاق تھا کہ اسی نوعیت کے طیارے اڑانے میں مہارت رکھنے والے 2 صیہونی پائلٹ اور ایک طبی ٹیم بھی طیارے کے مسافروں میں موجود تھی؟

5۔ کاک پٹ کا دروازہ کیسے کھولا گیا؟

عطوان کے مطابق کاک پٹ کا دروازہ باہر سے نہیں کھولا جاسکتا۔ ان کے بقول صیہونی بیان میں کہا گیا ہے کہ زخمی پائلٹ اپنی نشست سے اٹھا اور ان مسافروں کے لیے کاک پٹ کا دروازہ کھول دیا جو اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

عطوان سوال کرتے ہیں کہ اس وقت صحت مند اور زیادہ طاقتور معاون پائلٹ، جسے کوئی زخم نہیں آیا تھا، کہاں تھا اور اس نے پائلٹ کو روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟

6۔ معاون پائلٹ کا نام کیوں ظاہر نہیں کیا گیا؟

عطوان کے مطابق صیہونی بیانیے میں بھارتی پائلٹ اسمتھ ماشار کا نام بتایا گیا، لیکن اب تک اس معاون پائلٹ کا نام ظاہر نہیں کیا گیا جس پر طیارہ تباہ کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

7۔ صیہونی وزیر ٹرانسپورٹ کا بیان

صیہونی وزیر ٹرانسپورٹ میری ریگیو نے کاک پٹ میں عمانی معاون پائلٹ کی موجودگی پر حیرت کا اظہار کیا تھا۔

عطوان کے مطابق ریگیو نے کہا تھا کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت فلائی دبئی کی اسرائیل اور امارات کے درمیان پروازوں کے لیے ایسے پائلٹ یا معاون پائلٹ کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت نہیں جو اسرائیل کے اتحادی ممالک سے تعلق نہ رکھتے ہوں۔

عطوان نے اس بیان کو بنیاد بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر ایسا معاہدہ موجود ہے تو مبینہ معاون پائلٹ عمانی شہری کیسے ہوسکتا تھا؟

8۔ نیتن یاہو کا حملوں سے متعلق پیشگی انتباہ

عطوان کے مطابق نیتن یاہو نے اسرائیل میں انتخابات سے 2 روز قبل ممکنہ حملوں کے بارے میں انتباہ دیا تھا۔

عطوان کا کہنا ہے کہ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا نیتن یاہو کو اس مبینہ منصوبے کے بارے میں پہلے سے معلومات تھیں۔ ان کے مطابق ممکن ہے کہ وہ طیارے کی تباہی کے امکان پر یقین رکھتے ہوں اور اسے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے جواز یا انتخابات ملتوی کرنے کے بہانے کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہوں۔

9۔ مبینہ دہشت گردانہ حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیار کہاں ہیں؟

صیہونی وزیر جنگ یسرائیل کاتس نے زور دے کر کہا تھا کہ طیارہ دہشت گرد حملے کا نشانہ بنا۔

عطوان سوال کرتے ہیں کہ اگر ایسا حملہ ہوا تھا تو اس میں استعمال ہونے والے ہتھیار، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد کہاں ہیں؟

10۔ مسافر کاک پٹ تک کیسے پہنچے؟

عطوان نے اس مسافر اور اس کے ساتھیوں کے کردار پر بھی سوال اٹھایا جنہوں نے مبینہ طور پر طیارے کو بچایا۔

ان کے مطابق سوال یہ ہے کہ اگر طیارہ انتہائی تیزی سے بلندی سے نیچے آرہا تھا تو اس صورتحال میں یہ مسافر کاک پٹ تک کیسے پہنچے، دروازہ کیسے کھولا، طیارے کا کنٹرول کیسے سنبھالا، معاون پائلٹ کو کیسے گرفتار کیا اور اسے حرکت کرنے سے کیسے روکا؟

11۔ طیارہ بچانے والے مسافر کا دعویٰ

عطوان نے اس مسافر کے دعوے پر بھی سوال اٹھایا جس نے کہا تھا کہ اس نے طیارے کو بچایا تھا اور جس کا صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو نے استقبال بھی کیا تھا۔

عطوان کے مطابق مذکورہ شخص نے صیہونی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے مبینہ کارنامے کی تفصیلات بیان کیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ پائلٹ نہیں ہے اور اس نے طیارہ اڑانا صرف ویڈیوز دیکھ کر سیکھا ہے۔

عطوان کا اسرائیل پر الزام

عطوان نے اسرائیل کے سابقہ واقعات اور مختلف بیانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے، خصوصاً 7 اکتوبر کے واقعات اور خواتین و بچوں کے خلاف مبینہ کارروائیوں سے متعلق صیہونی دعوؤں کا ذکر کیا۔

ان کے مطابق اگر صیہونی حکومت اور اس کے اداروں پر ایسے الزامات درست ثابت ہوں تو ان سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اماراتی طیارے کے خلاف مبینہ دہشت گردانہ حملے کا ایک مصنوعی منظرنامہ تیار کرنے سے بھی گریز کریں گے۔

عطوان کا دعویٰ ہے کہ اس طرح کے واقعے کو مستقبل میں مزید جنگی کارروائیوں اور مبینہ جنگی جرائم کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی یک طرفہ نہیں ہونی چاہیے: ایروانی

?️ 8 مئی 2026 سچ خبریں:اقوام متحدہ کی پریس کانفرنس میں ایران کے مستقل مندوب

بیویوں کے بارے میں پوچھنے پر اسد عمر کیوں ناراض ہوئے

?️ 13 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ الیکشن

ناروے میں صیہونی ریاست کے ساتھ تعاون کی وجہ سے امریکی کمپنی کی سرگرمیاں معطل

?️ 8 جنوری 2023سچ خبریں:ناروے کی حکومت نے انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزی اور

امریکی امن منصوبے پر حماس کے ہوشیار ردعمل کے تین اہم پیغامات

?️ 5 اکتوبر 2025سچ خبریں: تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ غزہ جنگ کے خاتمے

حلب کی تازہ ترین صورتحال ؟

?️ 7 جنوری 2026 سچ خبریں: گذشتہ شب شدید تصادمات کے بعد، شام کے شمالی

صیہونی فوجی سربراہ کا غزہ کے عالمی صحافتی مرکز پر بمباری کرنے کے سلسلہ میں بے شرمانہ بیان

?️ 30 مئی 2021سچ خبریں:صیہونی فوج کے چیف آف اسٹاف نے دعوی کیا کہ غزہ

ریلوے اور پی آئی اے کے کرایوں میں کمی کا اعلان

?️ 16 جولائی 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے

ٹرمپ مادورو کے خلاف فوجی کارروائی سے محتاط 

?️ 6 نومبر 2025سچ خبریں: وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، امریکی عہدیداروں کا کہنا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے