ترکی میں ایک سیاسی ہلچل؛ پارلیمانی نظام کی واپسی کا امکان 

 ترکی میں ایک سیاسی ہلچل؛ پارلیمانی نظام کی واپسی کا امکان 

?️

سچ خبریں:ترکی میں استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو کی متنازع گرفتاری نے اس ملک کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے،ترک صحافیوں اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر سیاسی نوعیت رکھتا ہے اور اس کا سب سے بڑا ممکنہ نتیجہ ترکی کا دوبارہ پارلیمانی نظام کی طرف لوٹنا ہو سکتا ہے۔  

یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترکی کی عوام قبل از وقت انتخابات اور امام اوغلو کی بطور صدارتی امیدوار پیشی کا مطالبہ کر رہی ہے، اس گرفتاری نے صرف انسانی حقوق اور جمہوریت پر سوالات نہیں اٹھائے بلکہ سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، جو ممکنہ طور پر ووٹروں کے رویے اور حکومت کے خلاف عوامی مزاحمت کو تقویت دے سکتے ہیں۔
 امام اوغلو کی بڑھتی مقبولیت، اردگان کے لیے چیلنج 
اکرم امام اوغلو، جو 2019 سے استنبول کے میئر اور جمهوریت پسند خلق پارٹی (CHP)کے اہم رہنما ہیں، صدر رجب طیب اردگان کے سب سے مضبوط سیاسی حریف تصور کیے جاتے ہیں،استنبول کے میئر کی حیثیت سے ان کے پاس خاصی سیاسی طاقت ہے اور ان کی تعلیم، اثر و رسوخ اور مقبولیت حکومت کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
ان کی ڈگری کو منسوخ کرنا اور پھر گرفتاری، ایک سوچی سمجھی کوشش معلوم ہوتی ہے جس کا مقصد ان کی سیاسی راہ میں رکاوٹ ڈالناہے یہاں تک کہ حکومت نے واٹس ایپپر پابندی لگا دی اور حامیوں کے مظاہروں کو روکنے کے لیے سکیورٹی اقدامات سخت کیے۔
 ترکی میں سیاسی گرفتاریوں کی روایت 
ترکی میں مقبول سیاسی شخصیات کی گرفتاری کوئی نئی بات نہیں، اس سے قبل صلاح‌الدین دمیرتاشکی گرفتاری بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی، ایسے اقدامات سے ترکی کے عدالتی نظام کی شفافیت اور غیر جانبداری پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
 ماضی کا تجربہ اور عوامی ردعمل 
ماضی میں امام اوغلو نے جب پہلی بار میئر کا انتخاب جیتا تو اسے 15 ہزار ووٹوں کے معمولی فرق سے جیتا، جسے حکومت نے تسلیم نہیں کیا اور دوبارہ انتخابات کرائے،ؤلیکن اس بار امام اوغلو نے 8 لاکھ ووٹوں کے فرق سے جیت کر ثابت کیا کہ ترکی کی عوام ناانصافی کے خلاف ووٹ دیتی ہے۔
 پارلیمانی نظام کی واپسی کا امکان 
ترکی کی موجودہ سیاسی صورتحال، بڑھتی مہنگائی، بدعنوانی، اور اختیارات کا غلط استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ ملک پارلیمانی نظام کی واپسیکی طرف بڑھ سکتا ہے، جو اس سیاسی بحران کا سب سے اہم اور دور رس اثر ہو سکتا ہے۔
 حکومتی منصوبے اور قیم کی تقرری 
ترکی کی حکومت اپوزیشن کی شہروں میں جیت کو کمزور کرنے کے لیے قیم یعنی حکومتی نگراں مقرر کرتی رہی ہے۔ استنبول میں بھی اگر ایسا کیا گیا تو یہ واضح طور پر کانال استنبول جیسے تباہ کن منصوبوں کو زبردستی نافذ کرنے کی کوشش ہوگی، جسے پہلے ترک عدالتوں نے روک رکھا ہے۔
 امام اوغلو کی گرفتاری ایک مکمل سیاسی قدم 
اگرچہ حکومت نواز میڈیا اس گرفتاری کو سیکیورٹی مسئلہ قرار دے رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ فیصلہ سیاسی ہے، عدالتی نہیں، حکومت، جو انتخابات کے ذریعے امام اوغلو کو روکنے میں ناکام رہی، اب عدالتی ہتھکنڈوں سے ان کی سیاست کو ختم کرنا چاہتی ہے۔
 ترکی میں سیاسی تبدیلی کے آثار 
عوام میں غم و غصہ، اپوزیشن کی بڑھتی طاقت، اور اردگان کی پارٹی کی کم ہوتی مقبولیت واضح کرتی ہے کہ ترکی ایک سیاسی موڑ پر کھڑا ہے، امام اوغلو یا کوئی اور امیدوار اگر صدارتی انتخاب لڑے، تو جیتنے کے امکانات روشن ہیں، یہی وجہ ہے کہ حکومت اپنے تمام تر غیر آئینی اختیارات کو استعمال کر رہی ہےتاکہ اقتدار کا دائرہ باقی رہے۔

مشہور خبریں۔

آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے 2 حلقوں میں پی ٹی آئی نے میدان مار لیا

?️ 11 اکتوبر 2021میرپور(سچ خبریں)  تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے

نیتن یاہو کے جھوٹ ان کے بڑے جرائم کو چھپا نہیں سکتے: ترکی

?️ 11 جون 2026سچ خبریں: ترکیہ کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے صہیونی

اردگان کلیچداراوغلو کی واپسی کے خواہش مند کیوں ہیں؟

?️ 6 ستمبر 2025سچ خبریں: ترکی کی سیاسی و میڈیا فضاء میں ان دنوں ایک

بائیڈن اسرائیل کو بچانے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟

?️ 27 جنوری 2024سچ خبریں: امریکی صدر جو بائیڈن نے الگ الگ فون کالز میں

عالمی عدالت میں صیہونی حکومت کے خلاف جنوبی افریقہ کی قانونی شکایت

?️ 14 جنوری 2024سچ خبریں:دسمبر 2023 کے آخر میں جنوبی افریقہ نے بین الاقوامی قانون

’اس وقت تمام محکمے دیگر طاقتوں کے ہاتھ میں ہیں‘ جج اے ٹی سی اسلام آباد کے ریمارکس

?️ 18 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی کی

بائیڈن نے زیلنسکی کے بجائے صدر پیوٹن کو استعمال کیا

?️ 12 جولائی 2024سچ خبریں: امریکی بلومبرگ میڈیا کے مطابق جو بائیڈن کی بڑی زبانی

ہم چاہتے ہیں کہ اداروں کا وقار برقرار رہے:مریم نواز

?️ 5 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے