?️
سچ خبریں:ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، امریکی مؤقف میں تبدیلی، فوجی دھمکیوں اور سیاسی دباؤ کے تناظر میں اس معاہدے کی پائیداری پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
حالیہ صورتحال نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا امریکی حکومت بنیادی طور پر سیاسی مفاہمتوں کی پابندی کرتی ہے یا انہیں صرف مزید دباؤ ڈالنے کے لیے ایک وقتی حکمت عملی کے طور پر استعمال کرتی ہے۔
مفاہمت کے اعلان اور اس کے فوراً بعد ایران کے خلاف حملوں اور اس مفاہمت کی خلاف ورزی کے درمیان مختصر وقفہ واشنگٹن کے ایران کے حوالے سے غیر مستحکم طرز عمل کی ایک اور مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
اگر ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمت پر عمل درآمد کے لیے دستیاب مختصر وقت کو معیار بنایا جائے تو بعد ازاں امریکی حکام کے بیانات اور اقدامات نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ یہ مفاہمت استحکام حاصل کرنے سے پہلے ہی عملی طور پر کمزور پڑ گئی۔
فوجی کارروائی کی دھمکیوں کا دوبارہ اعادہ، آبنائے ہرمز کے حوالے سے متضاد مؤقف اور سیاسی دباؤ میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ واشنگٹن اب بھی دباؤ کی پالیسی کو ترجیح دے رہا ہے۔
یہ طرز عمل پہلی مرتبہ سامنے نہیں آیا، جوہری معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی، پابندیوں کی دوبارہ بحالی اور بین الاقوامی معاہدوں کے بارے میں بار بار مؤقف تبدیل کرنے جیسے اقدامات نے ایسا پس منظر پیدا کیا ہے جس کے باعث بہت سے تجزیہ کار امریکہ کو طویل المدت معاہدوں کے لیے قابل اعتماد فریق نہیں سمجھتے۔
اسی تناظر میں گزشتہ برسوں کے دوران بعض ایرانی سفارت کاروں نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن قانونی ذمہ داریوں سے زیادہ طاقت کے توازن اور اپنے اقدامات کی قیمت کو اہمیت دیتا ہے۔ اسی تصور کو ایرانی سیاسی حلقوں میں اس جملے کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے کہ امریکہ طاقت کی زبان بہتر سمجھتا ہے۔
اس مؤقف سے مراد صرف سیاسی ضمانتوں پر انحصار کرنے کے بجائے بازدارندگی پیدا کرنا اور معاہدوں کی خلاف ورزی کی صورت میں مخالف فریق کے لیے اس کی قیمت بڑھانا ہے۔
اسی سلسلے میں امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک جماعت کے رہنما چک شومر نے کہا، ٹرمپ اور ایران کے درمیان نام نہاد مفاہمت اس کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گئی۔
اس زاویے سے دیکھا جائے تو حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات کسی غیر متوقع پیش رفت سے زیادہ اس طرز عمل کا تسلسل معلوم ہوتے ہیں جسے بین الاقوامی مبصرین کے مطابق واشنگٹن بارہا دہراتا رہا ہے۔
سیاسی کارکن علی افشاری نے کہا، ٹرمپ اور اس کے عرب اور مغربی اتحادیوں کی نظر میں آبنائے ہرمز سے محصولات وصول کرنا اگر ایران کرے تو غلط ہے، لیکن اگر امریکہ کرے تو درست ہے۔ یہ ایک عجیب دنیا بن گئی ہے جہاں کھلی جارحیت کسی پردے کے بغیر کی جا رہی ہے۔
العربیہ الحدث نے بھی ٹرمپ کے حوالے سے ایران کے بارے میں نقل کیا ہے، ہم یا مذاکرات کے ذریعے کامیاب ہوں گے یا پھر فوجی راستے سے۔
ان تمام نکات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ چاہے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے یا جنگ کا، اس کا بنیادی مقصد ایران سے رعایت حاصل کرنا ہے۔ ایسے حالات میں اگر کوئی مفاہمت بھی طے پا جائے تو جب بھی امریکہ اسے اپنے مفاد کے خلاف سمجھے گا، وہ آسانی سے اس کی خلاف ورزی کر سکتا ہے، اور ایسی مفاہمتوں کی پائیداری معاہدے کی سیاہی خشک ہونے کے وقت سے بھی کم ثابت ہو سکتی ہے۔


مشہور خبریں۔
کیا ٹرمپ صیہونیوں کی حمایت میں حکم جاری کریں گے؟
?️ 30 جنوری 2025سچ خبریں: نیویارک پوسٹ نے اعلان کیا کہ اس نے ایک سرکاری
جنوری
پاکستان نے اپنے دفاع کا حق درست استعمال کیا، بلاول بھٹو زرداری
?️ 19 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرادری نے
جنوری
انتشارپھیلانے کے بجائے سنجیدہ سیاست کریں، بزدار کا اپوزیشن کو مشورہ
?️ 24 اکتوبر 2021لاہور ( سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب نے حالات کو نازک قرار دیتے
اکتوبر
صیہونی حکومت میں دفاعی بجٹ پر بحران
?️ 29 جون 2026سچ خبریں:صیہونی حکومت میں دفاعی بجٹ پر تنازع شدت اختیار کر گیا
جون
کیا امریکہ اس وقت کوئی جنگ جیتنے کے قابل ہے؟
?️ 2 اپریل 2024سچ خبریں: پینٹاگون کے سابق سینئر مشیر کا کہنا ہے کہ اس
اپریل
روس کے پاس قابل اعتماد ایٹمی ڈھال موجود ہے:پوتین
?️ 21 اگست 2025 روس کے پاس قابل اعتماد ایٹمی ڈھال موجود ہے:پوتین ماسکو: روسی
اگست
یوکرین کی جانب سے انڈونیشیا کا امن منصوبہ مسترد
?️ 4 جون 2023سچ خبریں:یوکرین کی وزارت خارجہ نے انڈونیشیا کی کریمیا اور روس کے
جون
شوکت ترین کے کاغذات نامزدگی کو چیلنج کر دیا گیا
?️ 9 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) مشیر خزانہ شوکت ترین کے کاغذات نامزدگی کو
دسمبر