سول سوسائٹی ارکان نے کشمیری خاندانوں، ماؤں کی حالت زار کو اجاگر کیا

?️

سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں سول سوسائٹی کے ارکان نے ان ہزاروں خواتین کو درپیش مشکلات اورتکالیف کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے جوآج بھی 1989سے بھارتی فورسز کی حراست میں لاپتہ ہونے والے اپنے بیٹوں اور شوہروں کی واپسی کی منتظر ہیں۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سول سوسائٹی کے ارکان ڈاکٹر زبیر احمد راجہ، محمد فرقان، محمد اقبال شاہین اور سید حیدر حسین نے آج خاندانوں کے عالمی دن اور مئی کی دوسری اتوار کو منائے جانے والے مائوں کے عالمی دن کے موقع پر سرینگر میں منعقدہ ایک اجلاس میں مختلف جیلوں میں نظر بند افراد کے اہلخانہ کو درپیش مشکلات اوردردکواجاگر کیاجو اپنے بیٹوں اورعزیزوں کی بحفاظت واپسی کا انتظارکررہے ہیں۔

انہوں نے کشمیری خواتین کی بھارتی مظالم کے خلاف مزاحمت اور بھارتی فورسز کی طرف سے ظلم و تشدد، گھروں پر چھاپوں، گرفتاریوں اور ریاستی دہشت گردی کو اجاگر کیا۔ اراکین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کشمیری خواتین بھارت کی ریاستی دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو بھارتی گولیوں کا نشانہ بنتے ہوئے اور اپنے عزیزوں کو جیلوں میں نظربند ہوتے ہوئے دیکھا ہے جبکہ کئی کشمیری مائیں کالے قوانین کے تحت جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں نظر بند ہیں۔

انہوں نے متنازعہ علاقے میں بھارتی افواج کی طرف سے خواتین کے ساتھ توہین آمیز سلوک اور تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے خواتین کے خلاف ظلم و ستم کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی مذمت کی۔انہوں نے کشمیری خواتین کی حالت زار کی طرف توجہ دلائی جنہوں نے اپنے حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے پر بھارتی جارحیت کے نتیجے میں اپنے شوہروں، بیٹوں اور بھائیوں کو کھو دیا ہے جبکہ اب بھی بہت سی خواتین قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کر رہی ہیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری اور خواتین کے حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ کشمیری مائوں کو درپیش مشکلات کو دور کریں۔ سول سوسائٹی ارکان نے آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ کے تحت بھارتی فورسز کو حاصل بے پناہ اختیارات کی بھی مذمت کی جو علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بنیادی وجہ ہے ، انہوں نے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہاکہ این آئی اے اورایس آئی اے جیسے بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی اداروں کوکشمیریوں کو نشانہ بنانے ، جھوٹے الزامات لگانے اوراجتماعی سزا دلانے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے خوف اور ناانصافی کی فضا قائم کی جاتی ہے تاکہ ان لوگوں کو خاموش کیا جائے جو خود ارادیت، انسانی حقوق اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔ این آئی اے منظم طریقے سے اختلاف رائے کو دبا رہی ہے، اندیشوںکے اظہار کو بغاوت یا دہشت گردی قراردے رہی ہے اور کالے قوانین کا سہارا لے کر خواتین کو ہراساں اورپریشان کررہی ہے۔

مشہور خبریں۔

صیہونیوں کی سخت بندشوں کے سائے میں فلسطینی انتخابات کا انعقاد

?️ 13 دسمبر 2021سچ خبریں:فلسطین میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے موقع پر، جو

شام اور صیہونی حکومت کے درمیان تعلقات کے معمول پر آنے کی نئی تفصیلات جاری کی گئی ہیں

?️ 27 جون 2025سچ خبریں: صہیونی اخبار یدیعوت احرونوت نے اپنی ایک رپورٹ میں شام

عزم استحکام کے عنوان سے ڈاک ٹکٹ جاری، ارشد ندیم اور مینار پاکستان بھی شامل

?️ 11 اگست 2024سچ خبریں: ملک کے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر "عزم استحکام”

ٹرمپ کا دعویٰ: میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہوں

?️ 19 نومبر 2025سچ خبریں: منگل کی شام سعودی ولی عہد سے ملاقات میں امریکی

داعش خراسان کا ترجمان سلطان عزیز عزام گرفتار

?️ 18 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) اقوامِ متحدہ کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ

مسجد اقصیٰ پر صیہونی حملوں میں شدت

?️ 25 ستمبر 2023سچ خبریں: صیہونی فوج کی بھرپور حمایت سے سینکڑوں قابض آباد کاروں

شام کے سرحد ی اڈ ے پر امریکی فوجی ساز و سامان جاتا ہوا

?️ 27 جولائی 2022سچ خبریں:    ایک سیکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ کچھ امریکی فوجی

شہید سلیمانی کی قبر کے بھی دشمن

?️ 4 جنوری 2024سچ خبریں: حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے کہا کہ ہم کرمان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے