پہلگام حملے کی تحقیقات میں نیا انکشاف

?️

سرینگر: (سچ خبریں) بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کا الزام بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیاتھا کہ تینوں حملہ آوروں کا تعلق پاکستان سے ہے ۔ تاہم بھارتی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ میں اس دعوے کی نفی کی گئی ہے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اپریل میں پہلگام حملے کے بعد بھارتی حکام نے فوری طور پربغیر کسی ثبوت کے اس کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ حملے میں ملوث تینوں حملہ آور پاکستانی شہری ہیں ۔

بھارتی پولیس نے حملے کے اگلے ہی دن تین افراد کے خاکے بھی جاری کیے تھے اور ان میں سے دو کو پاکستانی، جبکہ تیسرے کو مقامی کشمیری قرار دیاتھا۔ بعد ازاں مقامی کشمیری کو بھی پاکستانی قراردیاگیاتھا۔

پہلگام واقعے کے تقریبا دو ماہ بعد بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی رپورٹ میں مودی حکومت کے سرکاری بیانیے کی نفی کی گئی ہے۔این آئی اے کی رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ جن افراد کے خاکے جاری کیے گئے تھے وہ درحقیقت اس حملے میں ملوث ہی نہیں تھے اور ان خاکوں کی بنیاد ایک ہلاک عسکریت پسند کے موبائل فون سے ملنے والی ایک غیر تصویر پر رکھی گئی تھی۔

این آئی اے کے نئے موقف سے نہ صرف حملے کے بعد پاکستان پر مودی حکومت کی طرف سے لگائے گئے الزامات مشکوک ہو گئے ہیں بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ واقعے کو ایک طے شدہ ایجنڈے کے تحت پاکستان کے خلاف مذموم پروپیگنڈا مہم کے طور پر استعمال کیا گیا۔

بھارتی تحقیقاتی ادارہ، جس پر پہلے ہی متنازعہ ہونے اور سیاسی اثر و رسوخ کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں ، ایک بار پھر مشتبہ کردار ادا کر رہا ہے۔پہلگام واقعے کے بعد تین کشمیری شہریوں نے حملے کی آزادانہ اور اعلیٰ سطح کی تحقیقات کیلئے کمیشن کی تشکیل کی غرض سے بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

مگر عدالت نے انکی درخواست یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی کہ جج کب سے ایسے معاملات کے ماہر بن گئے ہیں؟عدالت نے مزیدکہاتھاکہ اس طرح کی درخواستوں سے بھارتی افواج کا مورال پست ہوتا ہے ۔بھارتی سپریم کورٹ کا یہ انکار نہ صرف شفاف انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی بلکہ اس نے پورے واقعے کو مزید مشکوک بنادیا ہے۔

بھارت کاہٹ دھرمی پر مبنی رویہ اور جنگی جنون خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے کیونکہ مودی حکومت نے غیر مصدقہ دعوئوں اور جلد بازی میں دیے گئے جارحانہ بیانات کے ذریعے دو ایٹمی طاقتوں کو جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیاتھا۔اگر خود بھارتی تحقیقاتی ادارے وزیراعظم مودی کی حکومتی بیانیے سے متفق نہیں تو عالمی برادری کیسے ان پر یقین کرسکتی ہے۔

مشہور خبریں۔

رفح کراسنگ کی مسلسل بلاکنگ کا سلسلہ جاری

?️ 24 جون 2024سچ خبریں: فلسطین ہلال احمر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اعلان

ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کو ایک اور کامیابی مل گئی

?️ 1 جنوری 2026لاہور (سچ خبریں) ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کو ایک اور

غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت ایک غیر معمولی سانحہ ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، اسحٰق ڈار

?️ 9 جون 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ

افغانستان کے ایک قصبے پر طالبان کا قبضہ

?️ 12 مئی 2021سچ خبریں:افغانستان میں طالبان نے دارالحکومت کابل سے 30 کلومیٹر دور نرخ

برازیل اور بھارت نے اہم معاہدوں پر دستخط کیے

?️ 21 فروری 2026اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، برازیل کے صدر

رفح میں قتل عام کے بعد؛ بائیڈن کی سرخ لکیر کہاں ہے؟

?️ 30 مئی 2024سچ خبریں: غزہ کے لوگوں کے خلاف اسرائیل کی تباہ کن جنگ

اسلام آباد دھرنے کے شرکا کا کوئٹہ واپسی پر پرتپاک استقبال

?️ 26 جنوری 2024کوئٹہ: (سچ خبریں) اسلام آباد میں ایک ماہ طویل احتجاجی دھرنا دینے

صیہونیوں کا ایک سال سے جاری بھیانک خواب؛ عالمی رسوائی اور تنہائی

?️ 14 اکتوبر 2024سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں غیرمسلح فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیلی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے