کشمیری عوام مودی حکومت کے نام نہاد دعوئوں کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں ، محبوبہ مفتی

?️

سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے نریندر مودی کی حکومت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں خاص طور پر اگست 2019 میں دفعہ 370کی منسوخی کے بعد صورتحال معمول پر آنے کے پروپیگنڈے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری عوام صورتحال معمول پر آنے کے مودی حکومت کے ڈرامے کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں ۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے ایک اداریے میں کہا کہ کشمیری نوجوانوں کوجموں و کشمیر اوربھارت کی جیلوں میں قید کر دیا گیاہے جبکہ باقی کشمیری اپنی جانوں اور آزادی کی قیمت ادا کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں علمائے دین اور امام صاحبان کو جمعہ کے اپنے ہفتہ وار خطبات کے بارے میں ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام کو پرامن احتجاج کی بھی اجازت نہیں ہے اور وہ اپنے روزمرہ کے مسائل جیسے بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر بھی انہیں احتجاج کا حق حاصل نہیں ۔انہوں نے افسوس ظاہر کیاکہ اپنے سیاسی کیرئیر کے دوران جتنے بڑے پیمانے پر ظلم و تشدد کا مشاہدہ انہوں نے اگست2019کے بعد کیا ہے اتنا پہلے کبھی نہیں کیاتھا۔انہوں نے کشمیریوں پر وحشیانہ تشدد کی سوشل میڈیاپر وائرل ایک حالیہ ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اس مختصر ویڈیو سے انہیں صدمہ اور دکھ ہوا ہے ۔انہوں نے کہاکہ وہ یہ بھیانک اور مکروہ ویڈیو دیکھ کر دنگ رہ گئیں۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ ایک منٹ سے بھی کم دورانئے کی اس ویڈیو میں بھارتی فوجیوں کو بے رحمی سے شہریوں کووحشیانہ تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دکھایاگیا ہے اور شہری تشدد کی وجہ سے نیم مردہ حالت میں ہیں جنہیں فوجی لاٹھیوں سے تشددکانشانہ بنانے کے بعد برہنہ کرنے کے بعد ان کے زخموںپرسرخ مرچوں کوچھڑکتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس ویڈیو کی تصدیق کے چند گھنٹے بعد ہی ایک اور افسوسناک حقیقت سامنے آئی کہ ان معصوم شہریوں میں سے ایک کو پہلے ہی قتل کردیاگیاتھا جبکہ باقی کو حراست کے دوران قتل کیاگیا۔

محبوبہ مفتی نے مزیدکہاکہ ان کے ذہن میں ایک پریشان کن سوال آیاکہ ان غیر انسانی حالات میں کون اس ویڈیوکو شوٹ کرنے کی ہمت کرے گا؟ یقینا وہ کوئی سویلین نہیں ہوسکتااور اس ویڈیو کو دانستہ طورپر کشمیریوںکو خوفزدہ کرنے کیلئے جاری کیاگیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یقینا اس لرزہ خیز ویڈیو کو بھارتی فوج نے ہی جاری کیا ہے جسے جموں و کشمیر کے چپے چپے کر کشمیریوں کی جانوں کے تحفظ کیلئے تعینات کیاگیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ یہ کہانی کا وہ رخ ہے جسے میڈیاپر پیش نہیں کیاجائے گا۔مقبوضہ علاقے میں جاری مسلح مزاحمت کاذکر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہاکہ اس سے مودی حکومت کے جھوٹے دعوئوں کی نفی ہوتی ہے کیونکہ اس نے دفعہ 370کی منسوخی کے بعد جموں وکشمیر سے عسکریت پسندی کے خاتمے کادعویٰ کیا ہے ۔جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے متنازعہ فیصلے کے بارے میں پی ڈی پی سربراہ نے کہاکہ صرف جموں و کشمیر اسمبلی کی صدر سے سفارش کے بعد ہی اس دفعہ کو منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

پاکستانی صدر کا عراق کے ساتھ دفاعی تعلقات اور زیارتوں کی سہولت پر زور

?️ 24 دسمبر 2025سچ خبریں:  صدر پاکستان آصف علی زرداری نے عراق کے صدر اور

ڈونلڈ ٹرمپ اپنے فیصلوں سے بنجمن نیتن یاہو کی مسلسل تذلیل کیوں کرتے ہیں؟

?️ 14 مئی 2025سچ خبریں: غزہ جنگ سمیت علاقائی پیش رفتوں کے بارے میں ٹرمپ

بادشاہت پسند وزیر اعظم جو کبھی بادشاہت کے خلاف تھا : ٹرس

?️ 14 ستمبر 2022سچ خبریں:    کس نے سوچا ہوگا کہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کی

اسلام آباد میں اسموگ خطرات پر پاک ای پی اے کی دفعہ 144 نافذ کرنے کی سفارش

?️ 2 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد میں اسموگ کے بڑھتے خطرات کے

کیریبین میں امریکی مہم؛ ٹرمپ وینزویلا میں عدم استحکام کیوں چاہتے ہیں؟

?️ 25 اکتوبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال ہے کہ وینزویلا میں

بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں خواتین کی بے حرمتی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے

?️ 29 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں وکشمیر

مزاحمتی کمیٹیوں کو صیہونی مخالف اقدامات کو تیز کرنے کا مطالبہ

?️ 20 اکتوبر 2024سچ خبریں: فلسطینی مزاحمتی کمیٹیوں نے صیہونیوں کی طرف سے غزہ کی

بھارتی عدالت کا بھی مسلمانوں کے ساتھ سوتیلا سلوک

?️ 16 مارچ 2022سچ خبریں:بھارتی ریاست کرناٹک کی عدالت نے اس ریاست میں تعلیمی اداروں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے