?️
سرینگر: (سچ خبریں) بھارت نے حق پر مبنی کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے کیلئے دس لاکھ سے زائد فورسز اہلکار انکے سروں پر بیٹھا رکھے ہیں اور وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بندوق کی نوک پر قائم کی جانے والی خاموشی کو امن کا نام دے رکھا ہے۔
گزشتہ روز پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے حملے نے کئی سوالات کو جنم دیاہے اور امور کشمیر کے ماہرین بھی اس بات کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ بھارت کی طرف سے رچایا جانے والا ایک اور فالس فلیگ آپریشن ہے جسکا بنیادی مقصد تحریک آزادی کشمیر کو بدنام کرنے کیساتھ ساتھ پاکستان پر دہشت گردی کا الزام عائدکرنا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مقبوضہ علاقے میں سرینگر اور دیگر علاقے کے لوگوںنے بھی پلوامہ حملے پر اپنے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔سرینگر کے علاقے لالچوک میں ایک شہری نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت میں حملے کو سراسر سیکورٹی کی ناکامی قرار دیا۔انہوں نے سوال کیا کہ کشمیر میں لاکھوں بھارتی فوجی موجود ہیں اور اتنی بڑی تعداد میں فوجیوں کی موجودگی میں یہ حملہ کیونکر ممکن ہوا اور یہ فوجی کیا کر رہے تھے۔
شہری نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ انہیں صرف مسلمانوں کیخلاف بولنا آتا ہے ، خواہ یہ وقف بل ہو یا کوئی اور معاملہ وہ مسلمانوں کےخلاف ہی بولتے رہتے ہیں۔ شہری نے سوال کیا کہ وہ (امیت شاہ) اس وقت کہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام کا واقعہ محض کشمیری مسلمانوں کیخلاف ایک سازش ہے ، جس طرح چھٹی سنگھ پورہ ہوا ہے یہ بھی انہوںنے ویسے ہی کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی چند برس پہلے سرینگر ڈلگیٹ میں سیاحوں پر حملہ ہوا تھا، اگر اس کی رپورٹ دیکھی جائے تو سب پتہ چل جائے گا۔ پہلے وہ رپورٹ دیکھیں ، پھر بات کریں۔ شہری نے جذبات بھر ی آواز میں کہا کہ کشمیریوں کو بدنام کرنا بند کرو ، وہ کبھی بھی سیاحوں پر حملہ نہیں کریں گے۔ شہری کا کہنا تھا کہ وہ لالچوک کا رہائشی ہے اورمیں بچپن سے دیکھتا آرہا ہوں کہ یہاں کیا ہو رہا ہے ، کشمیریوں نے کبھی بھی سیاحوں پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔
سرینگر اور دیگر علاقوں میں شہری بھارتی صحافیوں کی جانبدارانہ رپورٹنگ پر سخت احتجاج اور پہہلگام واقعے پر اپنے دکھ اور افسوس کا بھر پور اظہار کررہے ہیں۔ ایسی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائر ہیں جن میں کشمیریوں کو بھارتی رپورٹرو ں کا گھیراﺅکرتے اور انہیںجانبدارانہ رپورٹنگ سے باز رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا جاسکتاہے۔


مشہور خبریں۔
وائٹ ہاؤس: ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات آئندہ سنیچر کو پاکستان میں ہوں گے
?️ 8 اپریل 2026 سچ خبریں: وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے تہران – واشنگٹن کے
اپریل
خواتین کے لیے برقع پہننا لازمی نہیں ہے: سینئر طالبان عہدیدار
?️ 11 مئی 2022سچ خبریں: اقوام متحدہ میں طالبان کے منتخب نمائندے سہیل شاہین نے
مئی
فواد چوہدری کا پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے مذاکرات پر حیرانی کا اظہار
?️ 3 جولائی 2024سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رہنما اور
جولائی
سرحدی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد طورخم بارڈر بند
?️ 7 ستمبر 2023خیبر پختونخوا:(سچ خبریں) خیبر پختونخوا کے خلع خیبر میں طورخم کے مقام
ستمبر
ہم ابھی تک معاہدے کے حتمی فیصلے تک نہیں پہنچ پائے ہیں: ایروانی
?️ 9 جون 2026سچ خبریں: اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر اور مندوب امیر
جون
امریکہ کا طالبان کے ساتھ سفارتی تعلقات معطل کرنے کا اعلان
?️ 31 اگست 2021سچ خبریں:امریکہ نے طالبان کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات معطل کرنے کا
اگست
آرمی چیف کی چینی فوجی کمانڈر سے ملاقات، باہمی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال
?️ 26 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) جنرل
اپریل
عرب وزرائے خارجہ کی لبنان اور مسئلہ فلسطین کی حمایت پر تاکید
?️ 2 جولائی 2022سچ خبریں: عرب وزرائے خارجہ نے ہفتہ کے روز بیروت میں ایک
جولائی