?️
سرینگر: (سچ خبریں) سیاسی تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کے ماہرین نے بھارتی قابض حکام کی طرف سے کشمیری سیاسی نظربندوں کی طویل حراست اور ان کے ساتھ روارکھے گئے غیر انسانی سلوک پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی نظریات اور خواہشات کو دبانے کی ایک منظم کوشش قرار دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کشمیری نظربند غیر انسانی حالات میں ایسی جیلوں میں قید ہیں جہاں پہلے ہی گنجائش سے زیادہ قیدی موجود ہیں۔ جیلوں میں انہیں علاج معالجے اور مناسب خوراک سمیت تمام بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا جارہاہے۔بھارتی جیلوںمیں قید کشمیری نظربندوں کے اہلخانہ کو ہمیشہ اپنے پیاروں کی سلامتی کی فکر لاحق رہتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کی طویل عرصے تک نظر بندی کا مقصد انہیں اپنے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کے حصول کی دہائیوں سے جاری جدوجہد سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنا ہے۔ایک سیاسی تجزیہ کار نے کہاکہ بھارتی اقدامات نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ قیدیوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے جنیوا کنونشن کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ مودی حکومت نے کشمیری نظربندوں کی رہائی کے عدالتی احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے انکی غیر قانونی نظربندی کو طول دینے کیلئے کالے قوانین کا بے جااستعمال کیا ہے۔
ماہرین کا مزیدکہنا ہے کہ گرفتاریوں کوکشمیریوں کی آواز کو خاموش کرانے کے لیے انہیںڈرانے دھمکانے کے ہتھیار طورپر استعمال کیاجارہا ہے ۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پرزوردیاگیا ے کہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں جاری ان خلاف ورزیوں کاسلسلہ فوری طورپر بند کرنے کیلئے بھارتی حکومت پر دبائو بڑھائیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کے جابرانہ ہتھکنڈے کشمیری عوام کو ان کی آزادی کے جائز مطالبے سے سے نہیں روک سکتے ۔
واضح رہے کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، نعیم احمد خان، آسیہ اندرابی، ایاز اکبر، معراج الدین کلوال، پیر سیف اللہ، فاروق احمد ڈار، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین ، شاہد الاسلام، مولوی بشیر احمد عرفانی، بلال صدیقی، ڈاکٹر حمید فیاض، مشتاق الاسلام، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، عبدالاحد پرہ، امیر حمزہ، ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم، ایڈووکیٹ نذیر احمد رونگا، ایڈووکیٹ محمد اشرف بٹ اور خرم پرویزسمیت ہزاروں کشمیری اس وقت بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔


مشہور خبریں۔
معروف اداکار قوی خان 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
?️ 6 مارچ 2023کراچی: (سچ خبریں) پی ٹی وی اور فلم انڈسٹری کے معروف اداکار
مارچ
ہم بیروت پر حملے کا جواب دینگے: حزب اللہ
?️ 21 نومبر 2024سچ خبریں: لبنان کی حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نعیم قاسم نے
نومبر
سکیورٹی خدشات؛ جعفر اور بولان ایکسپریس تین روز کیلئے معطل
?️ 10 اگست 2025کوئٹہ (سچ خبریں) سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کوئٹہ جانے والی جعفر
اگست
صیہونی حزب اللہ سے کیوں ڈرتے ہیں؟
?️ 24 جنوری 2024سچ خبریں: مقبوضہ علاقوں کی شمالی سرحدوں میں طاقت کے توازن کی
جنوری
غزہ میں جنگ بندی؛ تل ابیب اپنے جلے ہوئے پیادوں کا کیا کرے گا؟
?️ 10 اکتوبر 2025سچ خبریں: غزہ جنگ بندی کی کامیابی کی روشنی میں اس پٹی
اکتوبر
امریکہ کو کس نے ایران کے ساتھ مذاکرات پر مجبور کیا:عراقی تجزیہ کار
?️ 14 اپریل 2025 سچ خبریں:عراق کے سیاسی امور کے تجزیہ کار نے ایران اور
اپریل
نیٹن یاہو جنگ جاری رکھنے اور بہانے بنا کر معاہدے کی خلاف ورزی کرنا چاہتے ہیں: اسلامی جہاد
?️ 5 فروری 2026 سچ خبریں: فلسطینی تحریک جہاد اسلامی کے نائب سیکرٹری جنرل "محمد
فروری
سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 4 خوارج ہلاک
?️ 20 فروری 2026راولپنڈی (سچ خبریں) سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت
فروری