سری نگر میں جی 20 اجلاس کے انعقاد کے خلاف پاسبان حریت جموں کشمیر کا احتجاج

?️

سرینگر: (سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں جی 20 ٹورزم ورکنگ گروپ کا اجلاس منعقد کرنے کے فیصلے کے خلاف مقامی تنظیم نے احتجاجی ریلیاں منعقد کیں جس میں جی 20 کے دیگر رکن ممالک سے اپیل کی گئی کہ چین کی طرح اس متنازع اجلاس کا بائیکاٹ کریں۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق یہ ریلی سدھنوتی کے ضلعی ہیڈکوارٹرز پالندری میں پاسبان حریت جموں و کشمیر کے زیر اہتمام منعقد کی گئی، یہ 26 اپریل سے آزاد جموں و کشمیر کے کئی شہروں اور قصبوں میں اس تنظیم کی جانب سے منعقد کی جانے والی 16ویں ریلی تھی۔

ریلی کے شرکا نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر 22 مئی سے مقبوضہ سرینگر میں جی 20 جلسہ منعقد کرکے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کے لیے بھارتی سازشوں کے خلاف نعرے درج تھے۔

ایک بینر پر درج تھا کہ ’مقبوضہ کشمیر میں بے گناہوں کے قتل کا ذمہ دار بھارت ہے، جی 20 کے رکن ممالک کو چاہیے کہ اگر کشمیر میں سربراہی اجلاس منعقد ہوا تو وہ اس کا بائیکاٹ کریں‘، ایک اور بینر پر لکھا تھا کہ ’بھارت واپس جاؤ، کشمیر سے واپس جاؤ‘۔

مقامی تنظیم کے شرکا نے سیاہ پرچم بھی اٹھا رکھے تھے، انہوں نے پریڈ کرتے ہوئے آزادی کے حق میں اور بھارت مخالف نعرے لگائے۔

سربراہ پاسبان حریت جموں و کشمیر عزیر احمد غزالی نے کہا کہ جی 20 اجلاس کی میزبانی ایک قابض ملک عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقے میں کر رہا ہے، یہ ان تمام ممالک کے لیے ناقابل قبول ہونا چاہیے جو اقوام متحدہ کے تقدس اور اس کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں پر یقین رکھتے ہیں۔

انہوں نے چین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دیگر ممالک سے بھی اجلاس کے حوالے سے ایسا ہی مؤقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ چینی حکومت کا بیان حقیقی پوزیشن کا درست عکاس ہے جس نے ہمارے دلوں کو چھو لیا ہے، ہم اپنے عظیم پڑوسی اور دوست ملک کے شکر گزار ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ متنازع علاقے میں بھارتی سازش اور فوجی جبر کے خلاف پیر کو مظفر آباد کے برہان وانی چوک میں ایک عظیم الشان ریلی نکالی جائے گی۔

دریں اثنا چین کی جانب سے جی 20 اجلاس کے بائیکاٹ کے اعلان اور ترکیہ اور سعودی عرب کی جانب سے رجسٹریشن نہ کرانے کے فیصلے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے علاقائی صدر چوہدری محمد یٰسین نے امید ظاہر کی کہ یورپی یونین سمیت دیگر رکن ممالک بھی اس کی پیروی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ چین نے نہ صرف پاکستان کے ساتھ اپنی مثالی دوستی کو زندہ رکھا ہے بلکہ اس نے جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کا بھی واضح اعلان کیا ہے، اسی طرح ترکیہ اور سعودی عرب نے بھی متنازع جی 20 اجلاس میں شرکت سے انکار کر کے خود کو امت کے رہنما کے طور پر منوایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ تمام اقوام جو مظلوم لوگوں کے بنیادی حقوق پر یقین رکھتی ہیں، انہیں بھارت کی چالوں کا شکار نہیں ہونا چاہیے کیونکہ جی 20 اجلاس میں ان کی شرکت نہ صرف بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظر انداز کرنے کی ترغیب دے گی بلکہ انہیں خطے میں امن کی تباہی کے لیے بھی برابر کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

مشہور خبریں۔

امریکہ کسی کا نہیں

?️ 12 اگست 2022سچ خبریں:یمن کی انصاراللہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم علاقائی اور

جنین کیمپ میں صیہونیوں پر حملے کے لیے عوامی تیاری کا اعلان

?️ 16 مئی 2022سچ خبریں: داؤد الزبیدی کی شہادت کے بعد کل رات ہونے والے

میڈیا شیطانت ناکام

?️ 20 اکتوبر 2024سچ خبریں: سعودی چینل MBC کی جانب سے مزاحمتی تحریک کے رہنماؤں

مقبوضہ جموں وکشمیر : بھارتی فورسز کی محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں جاری

?️ 9 مئی 2024سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

یمنی جزیرہ سقطری میں صیہونی پرچم لہرائے جانے کی کہانی

?️ 14 جنوری 2022سچ خبریں:شوشل میڈیا کے صارفین نے یمن کے جزیرہ سقطری کے پہاڑوں

فلسطین کی سنگین صورتحال پروزیر اعظم اور مہاتیرمحمد کا ٹیلیفونک رابطہ

?️ 17 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں)فلسطین کی موجودہ سنگین صورتحال پر  وزیراعظم عمران خان سے

برطانیہ کا روس کے سب سے بڑے بینک کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان

?️ 8 اپریل 2022سچ خبریں:برطانوی وزارت خارجہ نے یوکرین میں ماسکو کی فوجی کارروائی کے

ملازمہ تشدد کیس: عدالت ایسا کچھ نہیں کرے گی، جس سے کسی کا حق متاثر ہو، چیف جسٹس عامر فاروق

?️ 19 ستمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) کم سن گھریلو ملازمہ پر تشدد کے کیس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے