کُرم میں قیام امن کیلئے آپریشن تیسرے روز بھی جاری، 8 بنکرز مسمار

?️

ضلع کُرم: (سچ خبریں) خیبر پختونخوا کے شورش زدہ قبائلی ضلع کُرم میں قیام امن کے لیے آپریشن تیسرے روز بھی جاری ہے۔میڈیا کے مطابق آپریشن میں اب تک 8 بنکرز مسمار کردیےگئے ہیں جبکہ متاثرین کے لیے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے اشیائے خرودونوش بھیجنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

ڈپٹی کمشنر کرم کی جانب سے عارضی طور پر اپنی جگہوں سے ہٹنے والے افراد (ٹی ڈی پیز) کے لیے کیمپ قائم کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا گیا تھا جس کے بعد متاثرین کے لیے صدہ ،ٹل اور ہنگو میں کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں انتظامیہ کے مطابق ٹل ڈگری کالج، ٹیکنیکل کالج، ریسکیو اور عدالت کی عمارت میں بھی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ کیمپ آپریشن کے دوران آبادی کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے ہیں جبکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔

دوسری جانب کمشنر کوہاٹ نے کہا ہے کہ ضلع ہنگو میں متاثرین کے لیے کیمپ میں تمام سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اتوار کے روز کرم میں شرپسندوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق آپریشن کی وجہ سے 19 جنوری سے بگن اور گرد و نواح میں کرفیو نافذ ہے، جس کی وجہ سے کئی خاندان چپری پھٹک کے راستے ضلع ہنگو کے علاقے ٹل منتقل ہونے پر مجبور ہوئے ہیں۔

گزشتہ روز آپریشن کے دوران 2 گن شپ ہیلی کاپٹروں نے وسطی کرم کے علاقے پستوانی، مندرہ، سنگروبا اور جرنی میں عسکریت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر گولہ باری کی، تاہم شرپسندوں کی جانب سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔

شرپسندوں کے خلاف فوج کی قیادت میں شروع آپریشن سے باخبر ذرائع نے بتایا کہ 31 دسمبر کو دونوں گروپوں کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے مطابق مختلف مراحل میں ہتھیار جمع کیے جائیں گے، بنکروں کو مسمار کیا جائے گا، ریاست نے ضلع میں شرپسندوں کے خلاف بغیر کسی امتیاز کے سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ 2024 کے آخری مہینوں میں کرم ایجنسی کے علاقے پارا چنار میں مسافر بس پر فائرنگ سے 44 افراد جاں بحق ہوگئے تھے، جس کے بعد کرم ایجنسی کے مختلف علاقوں میں مسلح قبائلی تصادم اور فائرنگ کے نتیجے میں مزید درجنوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

متحارب فریقین کی جانب سے راستوں کی بندش اور احتجاج کی وجہ سے کرم ایجنسی میں کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کی قلت پیدا ہوگئی تھی، جس کے بعد وفاقی کابینہ کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہنگامی طور پر امدادی سامان پاراچنار بھیجا گیا تھا۔

مشہور خبریں۔

اسرائیلی فوجی امور کے ماہر نے صہیونی حکومت کی شکست کے بارے میں سنسنی خیز انکشاف کردیا

?️ 18 جون 2021تل ابیب (سچ خبریں)  اسرائیلی فوجی امور کے ماہر نے فلسطینیوں کے

فلسطینی قیدیوں کے خلاف قتل اور جرائم کے سلسلہ جاری

?️ 4 ستمبر 2022سچ خبریں:  فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک نے اس بات پر زور

بینی گینٹز نے شکست تسلیم کرنے کے بعد جنگی کابینہ سے استعفی دیا

?️ 10 جون 2024سچ خبریں: غزہ جنگ کے آغاز کے بعد صیہونی حکومت کی جنگی کابینہ

جہانگیر ترین پنجاب میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتےہیں

?️ 17 جنوری 2022لاہور (سچ خبریں) جہانگیر ترین فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔قبل ازیں ہارون

یوکرینی صدر کی صیہونیوں سے مدد کی اپیل

?️ 22 مارچ 2022سچ خبریں:یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ہفتے کی رات کہا کہ

شفقت محمود کی 34 سالہ سیاسی زندگی؛ کیا پایا کیا کھویا؟

?️ 22 جولائی 2024سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر برائے

پشاور ہائیکورٹ نے ٹک ٹاک کھولنے کی اجازت دے دی

?️ 1 اپریل 2021پشاور ( سچ خبریں) 11 مارچ کو پشاور ہائی کورٹ نے ٹک

کیا سعودی عرب اور فرانس کے ساتھ ہتھیار ڈالنے کے مذاکرات کی افواہیں جھوٹ ہیں؟

?️ 25 مئی 2025سچ خبریں: بلومبرگ کی حالیہ رپورٹ کے بعد، جس میں فرانس اور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے