?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) ڈیرہ اسمٰعیل خان میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے قافلے پر مبینہ حملہ جبکہ پولیس کے مطابق حملہ قافلے پر نہیں بلکہ یارک انٹرچینج چیک پوسٹ پرکیاگیا۔
جے یو آئی کے صوبائی ترجمان مولانا جلیل خان نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن ڈیرہ اسمٰعیل خان جا رہے تھے کہ سی پیک روٹ کے قریب پارک نامی علاقے میں ان کے قافلے پر فائرنگ ہوئی جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے قافلے میں 10 سے 15 گاڑیاں شامل تھیں۔
ریجنل پولیس آفیسر ناصر محمود نے بتایا کہ مولانا کےقافلے کی گاڑیاں فیول ڈلوانے کے لیے علاقے میں موجود تھیں، حملہ یارک انٹرچینج چیک پوسٹ پر کیاگیا۔
ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
دوسری جانب جے یو آئی کے مرکزی ترجمان اسلم غوری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے قافلے کے قریب فائرنگ بزدلانہ کارروائی ہے اور ہم بارہا متنبہ کر چکے ہیں کہ ہماری قیادت کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ آئے روز تھریٹس کے حوالے سے خط لکھتی ہے لیکن عملاً کوئی قدم نہیں اٹھاتی۔
ترجمان جے یو آئی نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری انکوائری کرائی جائے اور یہ بتایا جائے کہ ادارے کیونکر اپنی ذمے داری پوری نہیں کررہے کیونکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں صورت حال دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔
جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکریٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفورحیدری نے مولانا فضل الرحمٰن کے قافلے پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ ریاست کے لیے سوالیہ نشان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم مسلسل کہتے رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن کو سیکیورٹی تھریٹ ہے اور ان کی حفاظت کے لیے فول پروف سیکیورٹی کا انتظام کیا جائے مگر حکومت نے اس حوالے سے کوئی اقدام نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت صرف اطلاع دیتی ہے کہ دہشت گرد آج حملہ کریں گے، دہشتگردوں کا حلیہ اور نام بھی بتایا جاتا ہے مگر تدارک نہیں کیا جاتا۔
عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ہم کہتے رہے کہ ان حالات میں جب امن وامان کی صورتحال یہ ہو تو کیسے الیکشن ممکن ہے لیکن نہ ججز نے نوٹس لیا اور نہ ہی الیکشن کمیشن نے اور نگران حکومت میں جان ہی نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عنقریب مشاورت کے بعد لائحہ عمل طے کریں گے اور شکر ہے کہ اللہ نے مولانا فضل الرحمٰن کو اس بزدلانہ حملے میں محفوظ رکھا۔
ادھر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے مولانا فضل الرحمٰن کے صاحبزادے کو فون کر کے ان کے والد کے قافلے پر فائرنگ کی مذمت کی۔
صادق سنجرانی نے مولانا فضل الرحمٰن کی خیریت دریافت کی اور نئے سال کے موقع پر نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔


مشہور خبریں۔
بلوچستان: سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 23 دہشتگرد ہلاک، 18 اہلکار شہید
?️ 1 فروری 2025ضلع قلات: (سچ خبریں) بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے منگوچر میں
فروری
ٹرمپ کا دعویٰ: ہمارے پاس غزہ کے بارے میں اچھی خبر ہے
?️ 17 جولائی 2025سچ خبریں: اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات اور غزہ
جولائی
جنرل قاسم سلیمانی نے مزاحمتی محاذ کو کیسے عالمی سطح پر ایک مؤثر تحریک میں بدلا؟
?️ 29 دسمبر 2024سچ خبریں:جنرل قاسم سلیمانی نے اپنی فکری بالیدگی، میدانی موجودگی اور جہادی
دسمبر
ٹرمپ کے بیانات اب مالی منڈیوں کو مطمئن نہیں کر سکتے: فرانسیسی اخبار
?️ 1 اپریل 2026سچ خبریں:فرانسیسی روزنامہ لومونڈ کے مطابق ٹرمپ کے متضاد اور غیر واضح
اپریل
مراکش کے سابق وزیر اعظم کی ایران کی مکمل حمایت اور نارملائزیشن کو فروغ دینے والوں پر کڑی تنقید
?️ 2 جولائی 2025سچ خبریں: انصاف اور ترقی کے سکریٹری جنرل اور مراکش کے سابق
جولائی
کیلیفورنیا میں کیمیائی مواد کے ٹینک کے پھٹنے کا خطرناک انتباہ
?️ 25 مئی 2026سچ خبریں:امریکی ریاست کیلیفورنیا کے اورنج کاؤنٹی علاقے میں کیمیائی مواد کے
مئی
موساد نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کو ایران کے ساتھ جنگ کے لیے کیسے دھوکہ دیا؟
?️ 23 مارچ 2026سچ خبریں: نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ
مارچ
اسرائیل کا کاغذی گھر محاصرے میں
?️ 15 اگست 2024سچ خبریں: اسرائیلی حکومت کو ایک زمانے میں جنگ کے بعد غزہ
اگست