پی ڈی ایم کا پیر کو سپریم کورٹ کے سامنے احتجاج اور دھرنے کا اعلان

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پیر کو سپریم کورٹ کے سامنے احتجاج اور زبردست دھرنا دیا جائے گا۔

اسلام آباد میں پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ کہا گیا ہے کہ عمران خان کو کسی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی مقدمے کا علم نہ ہو تو اس میں بھی گرفتار نہ کیا جائے۔

انہوں نے عمران خان کی رہائی پر عدالتی فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہماری عدلیہ کہاں کھڑی ہے اور کس طرح وہ آئین و قانون سے ماورا فیصلے دے رہی ہے۔

پی ڈی ایم کے صدر نے کہا کہ کیا یہ رعایت تین بار ملک کے وزیراعظم منتخب ہونے والے نواز شریف کو دی گئی، جب ان کو اطلاع ملی کہ ان کی اہلیہ آئی سی یو میں چلی گئی ہیں تو انہوں نے درخواست کی کہ اہلیہ کی خیریت پوچھنے دیں لیکن ان کو ٹیلی فون تک فراہم نہیں کیا گیا اور جب وہ واپس اپنے سیل میں گئے تو تین گھنٹوں بعد انہیں بتایا گیا کہ ان کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیا اس قسم کی رعایت مریم نواز اور فریال تالپور کو دی گئی، آج ان (عمران خان) کو وی وی آئی پی پروٹوکول فراہم کیا جا رہا ہے، پورے ملک میں غنڈہ گردی، دہشت گردی ہو رہی ہے اور عدالت اس دہشت گردی کو تحفظ دے رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آرمی چیف اور کور کمانڈر کے گھر پر حملہ ہو رہا ہے، سرزمین وطن کے لیے قربانی دینے والوں کی یادگاروں کو اکھیڑا جا رہا ہے، ریاست کے محافظ اداروں کی توہین اور تذلیل کی جا رہی ہے، عدالت ان کے تحفظ کے لیے ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اب سپریم کورٹ کے رویے کے خلاف احتجاج ہوگا، پی ڈی ایم قیادت کی نمائندگی کرتے ہوئے پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ پوری قوم پیر (15 مئی) کے دن اسلام آباد کی طرف روانہ ہوجائے، سپریم کورٹ کے سامنے بہت بڑا دھرنا دیا جائے گا، زبردست احتجاج کیا جائے گا۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ ان کو بتایا جائے گا کہ سپریم کورٹ ’مدر آف لا‘ ہے ’مدر اِن لا‘ نہیں، آسمان سے اترے ہوئے نہیں، ہماری طرح کے انسان ہیں، آئین کے اس قدر ماورا آجائیں گے کہ وہ پارلیمان کو بھی سپریم نہیں سمجھیں گے، آسان طریقہ یہ ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے کو نااہل قرار دے دو۔

انہوں نے کہا کہ ہم واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ چیف جسٹس صاحب، سن لو ہم 2-3 کا فیصلہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ہمارے نزدیک 3-4 کا فیصلہ عدالت کا فیصلہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قانون بن جانے کے بعد اب آپ اکیلے کسی مسئلے پر ازخود نوٹس نہیں لے سکتے، تو آج کا متفقہ اعلان ہے کہ پیر کے روز اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے سامنے ملک بھر کے عوام اور ہماری پارٹی کا ایک ایک رکن گھر سے نکلے گا، کوئی یہ نہیں سوچے گا کہ میرا فلاں کام ہے میں رک رہا ہوں، اس کو سب کچھ چھوڑ کر اسلام آباد کی طرف آنا ہوگا اور سپریم کورٹ کے سامنے پرامن احتجاج دینا ہوگا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی پرامن احتجاج کیا تھا، اب بھی پرامن ہوں گے لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر کسی نے ہماری طرف ٹیڑھی آنکھ سے دیکھا یا ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی تو ڈنڈے، تھپڑ اور مکے سے بھی جواب دیا جائے گا۔

اس سوال پر کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود بھی احتجاج کی اجازت دی جائے گی؟ اس پر پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ یہ مسئلہ اب ہمارا نہیں ہے، ہم اس سے آگے نکل چکے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت، اخلاق، قانون، آئین سمیت سب کچھ عمران خان کے لیے داؤ پر لگایا گیا ہے، آج صرف حکومت نے اپنا فرض پورا نہیں کرنا بلکہ پاکستان کے ایک ایک شہری نے ملک کے آئین، جمہوریت اور اداروں کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنا ہے۔

مشہور خبریں۔

کیا حزب اللہ طویل مدتی جنگ کے لیے تیار ہے؟ صیہونی اخبار کی رپورٹ

?️ 15 اکتوبر 2024سچ خبریں: ایک صہیونی اخبار نے لکھا ہے کہ اسرائیلی فوج کا

تجارتی کشیدگی کے درمیان ٹرمپ اور جن پنگ نے فون پر بات کی

?️ 19 ستمبر 2025سچ خبریں: چین کے سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ ملک

نو منتخب وزیر اعظم کا عوام کو ریلیف

?️ 11 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد شہباز شریف نے

کیا امریکہ غزہ میں جنگ بندی کی کوشش کر رہا ہے؟ وائٹ ہاؤس کا دعوی

?️ 29 اپریل 2024سچ خبریں: امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے اسٹریٹجک امور کے رابطہ

فیکٹ چیک: چین نے 10 جی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی متعارف نہیں کرائی

?️ 26 اپریل 2025سچ خبریں: زیادہ تر غیر ملکی نشریاتی ادارے چند سے خبریں دے

ایران کا بائیدن انتظامیہ پر الزام

?️ 11 مارچ 2021سچ خبریں:ایران کے وزیر خارجہ نے جنوبی کوریا میں ایران کے اثاثوں

ملک میں سیاسی استحکام کیسے آئے گا؟؛ شاہ محمود قریشی

?️ 10 اگست 2024سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی نے

غزہ پر صیہونی جارحیت پھر سے شروع

?️ 2 دسمبر 2023سچ خبریں: صیہونی حکومت کے جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے