پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بالآخر 2 ماہ بعد کمی کا امکان

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) ہائی اسپیڈ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں یکم اکتوبر سے 15 اکتوبر تک کی مدت کے لیے تقریباً 5 روپے سے 19 روپے فی لیٹر کمی کا تخمینہ ظاہر کیا گیا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ کمی گزشتہ 2 ماہ کے دوران پہلی بار ہوگی، جس کی بنیادی وجہ روپے کی قدر میں اضافہ ہے۔

ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں آخری بار جولائی کے وسط میں کمی کی گئی تھی، جب پیٹرول 9 روپے فی لیٹر کم کرکے 253 روپے اور ڈیزل 7 روپے فی لیٹر کم کرکے 253 روپے 50 پیسے کا کر دیا گیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ موجودہ ٹیکس کی شرح اور دیگر اوورہیڈز کی بنیاد پر آئندہ جائزے میں پیٹرول کی قیمت میں 15 سے 19 روپے فی لیٹر تک کی کمی آسکتی ہے کیونکہ اس کی عالمی قیمت میں 2 فیصد کمی آئی ہے، جو 101 ڈالر فی بیرل سے 99 ڈالر فی بیرل پر آگیا ہے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں تقریباً 10.5 روپے کا اضافہ بھی ہوا ہے۔

یہ حساب کتاب ستمبر کے پہلے 12 روز کے اثرات اور آخری 2 روز کے تخمینوں پر مبنی ہے، پیٹرول بنیادی طور پر پرائیویٹ ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے اور یہ براہ راست مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس طبقے کے بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔

اسی طرح اگر حکومت پیٹرولیم لیوی کو 50 روپے فی لیٹر پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتی ہے تو ڈیزل کی قیمت بھی 9 سے 12 روپے فی لیٹر تک گر سکتی ہے، تاہم اگر وزارت خزانہ بجٹ کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے لیوی میں 5 روپے فی لیٹر اضافہ کرتی ہے تو ڈیزل کی قیمت میں 5 سے 8 روپے فی لیٹر کمی ہوگی، پیٹرول کے برعکس عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت حالیہ چند ہفتوں کے دوران تقریباً ایک ڈالر فی بیرل بڑھ کر 122 ڈالر تک پہنچ گئی۔

ٹرانسپورٹ کا شعبہ زیادہ تر ہائی اسپیڈ ڈیزل پر چلتا ہے، اس کی قیمت کو مہنگائی میں اضافے کا اہم عنصر سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ زیادہ تر ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال ہونے والی بھاری گاڑیوں، بسوں، ٹرینوں اور زرعی انجنوں مثلاً ٹرک، ٹریکٹر، ٹیوب ویل اور تھریشر میں استعمال ہوتا ہے، اس کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر سبزیوں اور دیگر اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

نگران حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا یہ پہلا موقع ہوگا، 15 اگست سے 15 ستمبر کے درمیان پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 58 روپے 43 پیسے اور 55 روپے 83 پیسے فی لیٹر کا اضافہ ہوا، دونوں مصنوعات فی الحال 333 اور 331 روپے فی لیٹر میں فروخت ہو رہی ہیں۔

اس وقت تمام پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی صفر ہے لیکن حکومت پیٹرول پر 60 روپے فی لیٹر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی جبکہ ڈیزل، ہائی آکٹین ملاوٹ والے اجزا اور 95 آر او این (ریسرچ آکٹین نمبر) پیٹرول پر فی لیٹر 50 روپے لیوی وصول کر رہی ہے، حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر تقریباً 22 سے 23 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی بھی وصول کر رہی ہے۔

مشہور خبریں۔

امریکہ اور اسرائیل غزہ کے ساتھ کیا کھیل کھلینے والے ہیں؟

?️ 14 اکتوبر 2023سچ خبریں: ایک باخبر ذریعہ نے غزہ کے بے دفاع لوگوں کے

امریکی آٹوموبائل کمپنیوں کے ہزاروں ملازمین کی ہڑتال

?️ 17 ستمبر 2023سچ خبریں: امریکی آٹوموبائل کمپنیوں اور لیبر یونین کے درمیان مذاکرات کی

عراق سیاسی بحران کا شکار ہے: العربی الجدید

?️ 31 جولائی 2022سچ خبریں:    25 جولائی کی شام کو عراقی شیعہ جماعتوں کی

جنرل سلیمانی کے قتل میں اسرائیل کا کردار؛صیہونی کمانڈر کی زبانی

?️ 12 جنوری 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کی انسداد انٹیلی جنس تنظیم آمان کے سابق سربراہ

سعودی عرب کی حمایت کے لیے مصر متحرک؛ پارلیمنٹ میں دفاعی تعاون کی منظوری پر غور

?️ 17 اکتوبر 2026سچ خبریں:مصر کی پارلیمنٹ 18 اکتوبر 2026 کو سعودی عرب کی دفاعی

خلیل زاد: دوحہ معاہدے کے بارے میں پاکستانی فوج کا تاثر غلط ہے

?️ 7 جنوری 2026سچ خبریں: سابق امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان امن نے کہا کہ

جولانی غیر ملکی منصوبوں کا ایجنٹ ہے

?️ 26 نومبر 2025 جولانی غیر ملکی منصوبوں کا ایجنٹ ہے  ولید الدرویش، سابق رکن

پاک-سعودی دفاعی معاہدے کی وجہ قطر پر اسرائیلی حملہ نہیں، خواجہ آصف

?️ 27 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے