پاکستان کے بین الاقوامی بانڈز کی پریشان کن خرید و فروخت، ڈیفالٹ کا خطرہ تاحال مسترد

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی جانب سے دیوالیہ ہونے کے امکان کو مسترد کرنے کے زبردست بیانات کے باوجود پاکستان کے بین الاقوامی بانڈز کی خرید و فروخت پریشان کن سطح پر ہے۔

بلوم برگ کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے ظاہر ہوا کہ پاکستان کے جاری کردہ بانڈز پر سود کی شرح اسی مدت کے امریکی ٹریژری بانڈ کے مقابلے میں 30 اور 40 فیصد زیادہ پوائنٹس کے درمیان ہے۔

سیاق و سباق کے لحاظ سے فرق 2021 کے آخر میں سنگل ہندسوں میں تھا، کوئی بھی بانڈ جو امریکی ٹریژری ریٹ سے 10 فیصد پوائنٹس سے زیادہ کی پیداوار پیش کرتا ہے اسے پریشان کن قرض سمجھا جاتا ہے یعنی یہ سیکنڈری مارکیٹ میں نمایاں رعایت پر تجارت کرتا ہے کیوں کہ اس کے جاری کنندہ کو دیوالیہ کو ہونے کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے، آپٹیمس کیپیٹل مینجمنٹ لمیٹڈ کے ایگزیکٹو چیئرمین آصف قریشی نے کہا کہ پاکستانی بانڈز پر شرح سود کا امریکی قرضوں کی شرح کے ساتھ بڑھتا ہوا فرق تشویشناک ہے لیکن پاکستان کے دیوالیہ ہوجانے کا حتمی اشارہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جب چاہیں خود مختار ڈیفالٹ کو روک سکتے ہیں، ہمیں صرف عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ضرورت ہے،7 ارب ڈالر کے قرض کے پروگرام کی بحالی میں تاخیر نے معیشت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

آصف قریشی نے نے قرض کے پروگرام کی فوری بحالی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ ہم ابھی تک اس نکتے پر نہیں پہنچے جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو’۔

بانڈز کی عالمی مارکیٹ میں اس وقت پاکستان کے آٹھ روایتی اور اسلامی بانڈز کی تجارت ہو رہی ہے، ڈالر کے غلبے والے یہ تمام بانڈز بھاری رعایت پر تجارت کرتے ہیں، یعنی ان کی مارکیٹ کی قیمتیں ان کی اصل قیمتوں سے کم ہیں۔

پیر کو ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے جاری کردہ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ 10 سالہ پاکستان گورنمنٹ انٹرنیشنل بانڈ، جو اپریل 2024 میں میچیوز ہونے والا ہے، ایک ڈالر کے مقابلے میں 52.4 سینٹ پر ٹریڈ ہوا، آسان الفاظ میں اس کا مطلب ہے کہ قرض کا یہ آلہ اپنی قیمت کے صرف 52.4 فیصد پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

نتیجے کے طور پر، بانڈ کی پیداوار، جو ثانوی مارکیٹ میں اس کی قیمت کے برعکس متناسب ہے، 102٫79 فیصد پر پہنچ گئی۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی بانڈز اور سکوک کے ذریعے قرض لینے کا حصہ پاکستان کے عوامی بیرونی قرضوں میں نسبتاً کم ہے۔

مارچ تک 96 ارب 30 کروڑ ڈالر کے مجموعی سرکاری بیرونی قرضوں میں ان کی تعداد صرف 8.1 فیصد یا 7 ارب 80 کروڑ ڈالر تھی۔

اس کے برعکس، بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر واجب الادا کثیر جہتی قرضے کا حصہ 38.5 فیصد یا 37 ارب ڈالر تھا۔

خودمختار قرضوں پر بڑھتی ہوئی پیداوار کو آنے والے ڈیفالٹ کے ناقابل تردید اشارے کے طور پر کیوں نہیں لیا جا سکتا اس کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ بہت سے ممالک جن کی کارکردگی زیادہ خراب ہے بین الاقوامی منڈی میں اب بھی اپنا سر پانی سے اونچا رکھے ہوئے ہیں۔

مثال کے طور پر تیونس کے پیش کردہ بانڈز کا امریکی ٹریژری پر پھیلاؤ پاکستانی بانڈ سے زیادہ ہے۔

اسی طرح، گھانا اور بیلاروس, وہ ممالک جو پہلے سے ہی دیوالیہ ہیں، کے جاری کردہ بانڈز پاکستانی بانڈز سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ بانڈ کی پیداوار اس بات کا واحد اشارہ نہیں ہے کہ آیا کوئی ملک ڈیفالٹ ہونے جا رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

شہباز شریف کی شہزادہ بن سلمان سے ملاقات

?️ 30 اپریل 2022جدہ(سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے

تل ابیب امریکہ میں اپنی امیج بہتر بنانے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کرتا ہے: ہاریٹز

?️ 6 نومبر 2025سچ خبریں: اسرائیلی اخبار ہاآرتس نے اپنی ایک جامع رپورٹ میں موجودہ دستاویزات

مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کی جارحیت جاری، عرب لیگ نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

?️ 10 مئی 2021مقبوضہ بیت المقدس (سچ خبریں) مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کی جانب

پاکستانی فوجی سربرہ کا ایران کے بارے میں بیان

?️ 5 اگست 2023سچ خبریں: پاکستانی فوج کے کمانڈر نے ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ

جرمنی کا روس کے خلاف بڑا اقدام، جاسوسی کے الزام میں روسی سائنسدان کو گرفتار کرلیا

?️ 23 جون 2021جرمنی (سچ خبریں)  جرمنی نے روس کے خلاف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے

ماہرین نے پھلوں کے چھلکوں پر تجربہ کر کے اہم کامیابی حاصل کر لی

?️ 22 ستمبر 2021سنگاپور سٹی (سچ خبریں) ماہرین نے پھلوں کے چھلکوں پر تجربہ کر

18 ویں ترمیم اتفاق رائے سے ہوئی، بہتری کا راستہ کھلا، ہمارا مؤقف سنیں۔ رانا ثناءاللہ

?️ 22 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ

افغان طالبان تمام دھڑوں کو حکومت میں شامل کریں

?️ 18 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں)  تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے