پاکستان کا بھارت میں جوہری مواد کی چوری کی تحقیقات اور ایٹمی تنصیبات کی سیکیورٹی کا جائزہ لینے کا مطالبہ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی وزیر دفاع کے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق دیے گئے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے بھارت میں جوہری مواد کی چوری کی تحقیقات اور ایٹمی تنصیبات کی سیکیورٹی کا جائزہ لینے کا مطالبہ کردیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان شفقات علی خان نے ایک بیان میں کہا کہ یہ غیر ذمہ دارانہ بیانات پاکستان کے موثر دفاع اور روایتی ذرائع سے بھارتی جارحیت کے خلاف مزاحمت پر اس کے شدید عدم تحفظ اور مایوسی کو ظاہر کرتے ہیں، پاکستان کی روایتی عسکری صلاحیتیں بھارت کو روکنے کے لیے کافی ہیں، اور ہمیں نئی دہلی کی طرح کسی خودساختہ ’ایٹمی بلیک میلنگ‘ کی ضرورت نہیں۔

ترجمان نے مزید کہا بھارتی وزیر دفاع کے تبصرے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کے ایک مخصوص ادارے، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے مینڈیٹ اور ذمہ داریوں سے مکمل طور پر لاعلم ہیں۔

شفقت علی خان نے بھارت میں جوہری اور تابکار مواد کی بار بار چوری اور غیر قانونی اسمگلنگ کے واقعات پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ آئی اے ای اے اور عالمی برادری کو ان معاملات کی زیادہ فکر ہونی چاہیے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ گزشتہ سال بھارت کے بھابھا ایٹمی تحقیقاتی مرکز (بی اے آر سی) سے چوری شدہ تابکار آلہ رکھنے والے پانچ افراد کو دہرادون میں گرفتار کیا گیا، اس کے علاوہ ایک گروہ کو 10 کروڑ ڈالر مالیت کے غیر قانونی طور پر رکھے گئے تابکار اور زہریلے مادے کالیفورینیم کے ساتھ پکڑا گیا، 2021 میں بھی کالیفورینیم کی چوری کے تین واقعات رپورٹ ہوئے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ نئی دہلی نے تابکار مواد اور ایٹمی تنصیبات کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟ اور یہ بھی کہا کہ یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت میں حساس، دہرے استعمال والے مواد کی ایک بلیک مارکیٹ موجود ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان ان واقعات کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے اور بھارت پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنے ایٹمی اثاثوں اور تنصیبات کی سلامتی یقینی بنائے۔

قبل ازیں، بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آج ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے تحت ہونا چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کیا ایٹمی ہتھیار ایک غیر ذمہ دار اور باغی ملک کے ہاتھوں میں محفوظ ہیں؟ اور کہا کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو آئی اے ای اے کی نگرانی میں لایا جانا چاہیے۔

مشہور خبریں۔

دوسرے مرحلے کے معاہدے کے لیے اسرائیل کی شرائط پر حماس کا ردعمل

?️ 20 فروری 2025 سچ خبریں:حماس کے ترجمان عبداللطیف القانوع نے اسرائیل کی طرف سے

ایران اور سعودی عرب کے درمیان معاہدے کی نئی تفصیلات کا انکشاف

?️ 19 مارچ 2023سچ خبریں:ایک سعودی اہلکار نے اعلان کیا کہ چینی صدر شی جن

سپریم کورٹ کا پنجاب انتخابات کیس اور ریویو ایکٹ کے خلاف درخواستیں ایک ساتھ سننے کا فیصلہ

?️ 7 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم کورٹ نے پنجاب میں انتخابات کرانے کے فیصلے

عافیہ صدیقی کیس: وزیراعظم سمیت وفاقی کابینہ کو رپورٹ پیش نہ کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری

?️ 21 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ میں عافیہ صدیقی کی رہائی

موسم سرما کی چھٹیوں کے بارے میں تین تجاویز سامنے آگئیں

?️ 14 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزرائے تعلیم کانفرنس میں موسم سرما کی چھٹیوں

سردی غزہ کے بچوں کے لیےایک بڑی تباہی 

?️ 27 فروری 2025سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزارت صحت نے بدھ کے

سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 29.42 فیصد پر آگئی

?️ 17 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) ادارہ شماریات پاکستان کی جانب سے جاری کردہ

صیہونی حکومت کے جرائم کی حمایت میں پانچ مغربی ممالک کا مشترکہ بیان

?️ 10 اکتوبر 2023سچ خبریں:غزہ کی پٹی پر عبوری صیہونی حکومت کے مجرمانہ حملوں اور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے