?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) ایک سینیئر پاکستانی سکیورٹی اہلکار نے بتایا ہے کہ خیبر پختونخواہ کے شمالی وزیرستان ضلع میں ہفتے کے روز ہونے والے خودکش حملے اور افغانستان کی سرحد سے متصل صوبے میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد غلام خان بارڈر کو بند کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حملے کے بعد شمالی وزیرستان میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور سرحد کو غیر متعینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
اس خودکش حملے میں کم از کم چودہ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے جب کہ متعدد سویلین اور سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
عبوری افغان حکومت کی بارڈر فورسز کے ترجمان عابد اللہ فاروقی نے اتوار کو بندش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکام نے اس اقدام کی کوئی واضح وضاحت فراہم نہیں کی ہے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق فاروقی نے ایک بیان میں کہا، ’’پاکستانی حکام نے کراسنگ پر موجود گاڑیوں کو متبادل راستے استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔‘‘
ایک علیحدہ پریس ریلیز میں، افغانستان کے صوبہ خوست کی صوبائی انتظامیہ نے کہا کہ غلام خان کراسنگ پر موجود اہلکاروں کو پاکستانی حکام نے ہفتے کی شام کو مطلع کیا کہ یہ راستہ سکیورٹی کے حالیہ خطرات کی وجہ سے عارضی طور پر بند کر دیا جائے گا۔
پاک افغان سرحدی تنازعہ، سینکڑوں ٹرک پھنسے ہوئے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سرحد کو دوبارہ کھولنے کے لیے کوئی مخصوص ٹائم لائن فراہم نہیں کی گئی ہے اور یہ بندش اگلے نوٹس تک نافذ رہے گی۔
غلام خان کراسنگ کی اہمیت
غلام خان کراسنگ خوست کو پاکستان کے شمالی وزیرستان کے علاقے سے ملاتی ہے۔ یہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان، خاص طور پر پاکستان کے شمالی وزیرستان کے علاقے میں افراد کے جانے اور سامان کے لیے ایک اہم تجارتی اور ٹرانزٹ پوائنٹ ہے۔
افغان حکام نے شہریوں، تاجروں اور مسافروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس راستے سے گریز کریں اور صورت حال کے حل ہونے تک طورخم یا اسپن بولدک جیسی دوسری کراسنگ استعمال کریں۔
طورخم بارڈر کی بندش: افغان طالبان کی پاکستان پر کڑی تنقید
غلام خان کراسنگ حالیہ برسوں میں اکثر سیاسی یا سکیورٹی تنازعات کی وجہ سے کئی بار بند کی گئی ہے۔
ان بندشوں نے تجارت کو متاثر کیا ہے اور تجارتی کاروبار اور عام شہریوں دونوں کو مالی نقصان پہنچایا ہے۔
سن دو ہزار تیئیس میں، طالبان اور پاکستانی حکام کے درمیان مذاکرات کے بعد دوبارہ کھولنے سے پہلے کراسنگ کو تقریباً تین ہفتوں کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔
بندش سے تجارت متاثر
مقامی تاجروں اور ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ اچانک بندش سے خوست اور پڑوسی صوبہ پکتیا میں تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو گئی ہیں۔
یہ راستہ اشیا کی درآمد اور برآمد، بشمول تازہ پیداوار، دواسازی اور صنعتی مواد کے لیے ایک اہم راستہ ہے اور افغانستان کی کمزور معیشت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ڈرائیوروں اور تاجروں نے دونوں ملکوں سے تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے اور سرحد پار تجارت کو مزید نقصان پہنچانے والے اقدامات سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ
اتوار کی شام تک، پاکستانی حکام نے بندش کے حوالے سے کوئی عوامی بیان جاری نہیں جاری کیا تھا۔ طالبان حکام نے کہا کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے پاکستانی ہم منصبوں سے رابطے میں ہیں۔
یہ بندش تازہ پھلوں اور سبزیوں کی نقل و حمل کے عروج کے موسم کے دوران ہوئی ہے، جس سے تاجروں کو بھاری نقصان کا خدشہ ہے۔


مشہور خبریں۔
پنجشیر میں شدید لڑائی ؛جنگ کی حدود بڑھنے کا امکان
?️ 4 ستمبر 2021سچ خبریں:متعدد افغان سیاسی اور عسکری کمانڈروں اور کارکنوں نے دھمکی دی
ستمبر
ٹرمپ: ہم نے چین سے ہندوستان اور روس کو کھو دیا
?️ 5 ستمبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر نے شنگھائی سربراہی اجلاس کے موقع پر ہونے
ستمبر
بیجنگ نے چین کی جہاز سازی کی صنعت میں سیکشن 301 کی تحقیقات کو معطل کرنے کے امریکی اقدام کا خیرمقدم کیا
?️ 11 نومبر 2025سچ خبریں: چین کی جہاز سازی کی صنعت اور بعض دیگر متعلقہ
نومبر
ٹرمپ خود جیل جائیں گے یا لے جائے جائیں گے؟
?️ 16 اگست 2023سچ خبریں: ریاست جارجیا میں 2020 کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کے
اگست
روس ڈونیٹسک صوبے میں گھسنا چاہتا ہے: لندن کا دعویٰ
?️ 9 جون 2022سچ خبریں: اسی وقت جب روسی وزیر دفاع نے اعلان کیا کہ
جون
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات عروج پر
?️ 11 اکتوبر 2021سچ خبریں:اگرچہ نیتن یاہو کے اقتدار سے ہٹنے صیہونی حکومت اور امریکہ
اکتوبر
پی ٹی آئی ایک طرف مذاکرات، دوسری جانب مزاحمت کی بات کرتی ہے۔ فیصل کریم کنڈی
?️ 26 دسمبر 2025پشاور (سچ خبریں) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ
دسمبر
کوئٹہ: پولیس موبائل کے قریب دھماکا، 2 افراد جاں بحق، 4 اہلکاروں سمیت 17 زخمی
?️ 27 مارچ 2025کوئٹہ: (سچ خبریں) کوئٹہ کے علاقے ڈبل روڈ پر پولیس موبائل کے
مارچ