پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک کے جی ایس پی پلس اسٹیس میں 4 سال کی توسیع

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) یورپی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان کے لیے موجودہ جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنس (جی ایس پی) میں 2027 تک توسیع کے حق میں ووٹ دیا، جس کے تحت یہ ممالک یورپی منڈیوں میں بغیر یا کم ڈیوٹی پر اشیا برآمد کر سکیں گے۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق یورپی یونین پارلیمنٹ نے جاری بیان میں بتایا کہ یورپی یونین کونسل میں جون میں نئے قوانین پر مذاکرات معطل کرنے کے بعد پارلیمان میں جی ایس پی اور جی ایس پی پلس کی توسیع کے حق میں 561 ووٹ اور مخالفت میں 5 ووٹ ڈالے گئے جبکہ 2 اراکین نے ووٹ نہیں دیا۔

رواں برس ستمبر میں یورپی یونین کی تجارتی کمیٹی آئی این ٹی اے نے 60 ترقی پذیر ممالک کے لیے جی ایس پی اسکیم میں توسیع کی منظوری دی تھی۔

نگران وفاقی وزیر تجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستانی برآمدکنندگان یقینی طور پر اپنی مصنوعات یورپی یونین کی منڈیوں میں فروخت کر سکیں گے، اور یورپ پاکستانی برآمدکنندگان کی بڑی منڈی ہے، مزید کہا کہ جی ایس پی کی تمام اسکیموں میں 4 سال کی توسیع کی گئی ہے۔

نگران وزیر کا کہنا تھا کہ میں اس موقع پر سب کی بہتری کے لیے اسکیم کے تحت پاکستان کے وعدوں کا اعادہ کرتا ہوں، مزید کہا کہ پاکستان تمام تر ذمہ داریوں اور یورپی یونین کی 27 کنونشز پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کرے گا۔

یورپی یونین کی سفارتکار برائے پاکستان رینا کیونکا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر بتایا کہ 2023 کے اختتام پر اس میں توسیع کی تجویز دی گئی ہے، یہ پاکستان یا کسی دوسرے ملک کی کارکردگی سے منسلک نہیں ہے، یورپی یونین ممالک جلد ہی فیصلہ کریں گے اور نگرانی جاری رکھیں گے۔

ایک اور پوسٹ میں رینا کیونکا نے کہا کہ یورپی یونین کی ٹیم کے ساتھ میں نگران وزیر گوہر اعجاز اور حکومت پاکستان کی جی ایس پی پلس کی تمام ذمہ داریوں کا اعادہ کرنے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، وہ 27 کنونشز پر عملدرآمد کا حوالہ دے رہے تھے، جس کا تعلق محنت، انسانی حقوق، سیاسی حقوق، آزادی صحافت سے ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ جی ایس پی قواعد رواں برس کے آخر میں ختم ہو رہے ہیں، نئے قوانین کی تشکیل کے لیے جنوری 2023 میں یورپی یونین کی پارلیمنٹ اور رکن ممالک کی کونسل کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے۔

جون میں بات چیت روک دی گئی تھی کیونکہ پارلیمنٹ اور رکن ممالک کی پوزیشن کے درمیان فرق تھا، جس کے نتیجے میں موجودہ قوانین میں توسیع کی گئی۔

ہیڈی ہوٹالا کی جانب سے مرتب کردہ رپورٹ کے مسودہ میں صرف تاریخ میں 31 دسمبر 2027 تک توسیع کی تبدیلی کی گئی ہے، اس کے بعد یورپی پارلیمنٹ اور رکن ممالک کے درمیان نئے قوانین پر اتفاق کے لیے زیادہ وقت ہوگا۔

ہیڈی ہوٹالا نے پلینری کے دوران بتایا کہ اس طوالت اور توسیع کے ساتھ تیزی سے اور مؤثر طریقے سے نمٹتے ہوئے پارلیمنٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ وہ فائدہ اٹھانے والوں کو مایوس نہیں ہونے دے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے جی ایس پی قواعد کی جاری نظر ثانی پر کونسل اور پارلیمان کے درمیان اتفاق تک نہ پہنچنا توسیع کا نتیجہ ہے، انہوں نے مزید کہا کہ 2 اہم مسائل ہیں، کونسل ٹیرف کی ترجیحات اور ذمہ داری کے درمیان ربط چاہتی ہے، اور دوسرا چاول کے پروڈیوسرز کو ضرورت سے زیادہ تجارتی رکاوٹیں پیدا کیے بغیر تحفظ فراہم کرنا ہے۔

مشہور خبریں۔

امریکہ یورپ سے اپنے جوہری ہتھیار لے جائے؛ روس کا مطالبہ

?️ 5 اپریل 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ میں روس کے نائب مستقل نمائندے نے یورپ میں

صہیونی دشمن کی جیلوں میں غزہ کے بہادر ڈاکٹر کی پہلی تصویر

?️ 21 فروری 2025سچ خبریں: گزشتہ شب پہلی بار صہیونی میڈیا نے اس حکومت کی جیلوں

بلوچستان: دالبندین میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی، فتنۃ الہندوستان کے 6 دہشتگرد ہلاک

?️ 22 اکتوبر 2025کوئٹہ: (سچ خبریں) بلوچستان کے علاقے دالبندین میں سیکیورٹی فورسز نے کامیاب

خیبرپختونخوا حکومت میں شامل کچھ لوگ طالبان کو بھتہ دیتے ہیں۔ خواجہ آصف

?️ 6 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ

صہیونی وزیر کا اسرئیلی قیدیوں کے متعلق اشتعال انگیز بیان

?️ 22 جولائی 2025صہیونی وزیر کا اشتعال انگیز بیان,جنگ جاری رہنی چاہیے، چاہے اسرائیلی قیدی

ویلش کے ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد برطانوی حکمران جماعت کا سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا ہے

?️ 25 اکتوبر 2025سچ خبریں: برطانیہ کی حکمران جماعت لیبر پارٹی کو ویلش کی علاقائی

نئی دستاویزات سے صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات میں لندن کے دوغلے پن کا انکشاف ہوا ہے

?️ 18 اکتوبر 2025سچ خبریں: حال ہی میں جاری ہونے والی دستاویزات سے پتہ چلتا

پاکستان کی صیہونیوں کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی مخالفت

?️ 25 ستمبر 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے