وفاق، صوبے 600 ارب روپے ’سرپلس‘ دینے پر متفق

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں)ساتویں قومی مالیاتی کمیشن کے تحت تقریباً 15 سال قبل صوبوں کو دی گئی مالیاتی گنجائش کا کچھ حصہ دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے وفاقی حکومت نے کم از کم 600 ارب روپے کا مجموعی مالی سرپلس حاصل کرنے کے لیے چاروں صوبوں کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

 ان معاہدوں کا مقصد جون میں رواں مالی سال کے اختتام تک کھاد، گندم اور دیگر کھانے پینے، زراعتی اشیا، خام مال کی فراہمی کے لیے مزید قرض لینے سے بچنا ہے۔

اس پیشرفت سے متعلق وزارت خزانہ کی جانب سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو آگاہ کردیا گیا ہے تاکہ سخت مالیاتی نظم و ضبط پر عمل پیرا ہونے کی باہمی کوششوں کی نشاندہی کی کیا جا سکے۔

مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی-ستمبر 2023) میں صوبوں سے 51 ارب روپے کا معمولی مجموعی سرپلس رہا تھا، اس مدت کے دوران پنجاب اور خیبر پختونخوا نے اخراجات محدود کرنے کی کوشش کے بجائے ضرورت سے زیادہ اخراجات کیے اور اس طرح بالترتیب 29 اور 10 ارب روپے کے خسارے میں رہے جب کہ ان دونوں صوبوں کے برعکس سندھ اور بلوچستان میں 19 اور 71 ارب روپے کا سرپلس رپورٹ ہوا۔

تاہم اگلی سہ ماہی (اکتوبر-دسمبر) کے دوران وفاقی حکومت نے صوبوں میں آئی ایم ایف پروگرام کو آگے بڑھایا اور صوبوں سے تقریباً 290 ارب روپے کا سرپلس حاصل کرنے میں کامیاب رہی ، اس سرپلس میں سندھ سے 100، بلوچستان سے 97، خیبر پختونخوا سے 49 اور 43 ارب روپے پنجاب سے حاصل کیے گئے تھے۔

اب وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کو بتایا ہے کہ اس نے اپڈیٹ شدہ ایم او یوز کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مالیاتی ہم آہنگی کو بہتر بنایا ہے جس سے رواں مالی سال (2024)کے بجٹ کے اہداف کے حصول کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ وزارت خزانہ نے کہا کہ پنجاب حکومت نے اپنے ایم او یو کے تحت مالی سال 2024 کے اپنے اخراجات میں 115 ارب روپے کمی کا وعدہ کیا ہے تاکہ بجٹ سے منسلک سرپلس کو حاصل کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ بیان میں کہا گیا ہے کہ “صوبائی حکومتوں نے قرض کے بروقت خاتمے کے لیے طے شدہ منصوبہ بندی پر عمل درآمد کرتے ہوئے زراعتی اشیا، خام مال کے عشروں سے جمع ہونے والے قرضوں ( یہ وہ قرضے ہیں جو حکومتی مالیاتی دائرہ سے باہر صوبائی محکمہ خوراک کے ذریعے چڑھے ہیں) کے خاتمے پر اتفاق کیا ہے۔

مزید یہ کہ صوبوں نے اب اپنے زراعت سے متعلق قرضوں میں اضافے سے بچنے اور گورنمنٹ فنانس اسٹیٹسکٹس مینول کے مطابق صوبائی سرپلس کی تعریف کو اپنانے کا عہد کیا ہے۔

گورنمنٹ فنانس اسٹیٹسکس مینول آئی ایم ایف رپورٹنگ ٹیمپلیٹ ہے جو اس کے پروگرام سے منسلک تمام ممبران کے لیے ہے۔

آئی ایم ایف نے حال ہی میں اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وفاقی حکومت کی بھرپور کوششوں کے باوجود موجودہ مالی سال کے بجٹ میں 400 ارب روپے کے بنیادی اضافی ہدف کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

مشہور خبریں۔

گرین لینڈ اور ایران کے ساتھ ناٹو کی موت کی گھنٹی

?️ 6 اپریل 2026سچ خبریں: "ایکسیوس” نے لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی خودسرانہ پالیسیاں،

امریکی صدر کے یوکرین نہ جانے کی وجہ

?️ 20 دسمبر 2022سچ خبریں:وائٹ ہاؤس کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکی صدر سکیورٹی

اپنی ویڈیوز خود بنائی تھیں، انہیں ایک خاتون نے لیک کیا، رابی پیرزادہ کا انکشاف

?️ 23 جنوری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نازیبا ویڈیوز لیک ہونے کے بعد شوبز چھوڑ

عمان کی یمنی انصار اللہ کو دہشت گرد کہنے کی مخالفت

?️ 3 فروری 2022سچ خبریں:   ایک انٹرویو میں عمانی وزیر خارجہ نے یمن کی انصار

سی آئی اے کے عملے کو کم کرنے کے ٹرمپ کے فیصلے کے ساتھ امریکی حکومت کی صفائی کا منصوبہ

?️ 3 مئی 2025سچ خبریں: وائٹ ہاؤس نے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے)

امریکہ کی شکست واضح ہوچکی ہے:عبد المالک الحوثی

?️ 20 اگست 2021سچ خبریں:یمنی انصار اللہ تحریک کے رہنما نے یوم عاشورہ کے موقع

فیس بک اور انسٹاگرام کے خلاف یورپی کمیشن کی کارروائی

?️ 2 مئی 2024سچ خبریں: یورپی یونین کمیشن نے میٹا کمپنی کا کیس دوبارہ کھول دیا

59 فیصد فرانسیسی لوگ نہیں چاہتے کہ میکرون صدراتی انتخابات میں حصہ نہ لیں

?️ 8 ستمبر 2021سچ خبریں:فرانس میں ہونے والے تازہ ترین سروے کے مطابق صرف 32

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے