نیویارک میں فلسطین کے مسئلہ پر پاکستان کی ترجمانی کروں گا

وزیر خارجہ

?️

اسلام آباد (سچ خبریں) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے خلاف ترکی اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ نیویارک جاکر پاکستان کے عوام کی ترجمانی کریں گے شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں فلسطین کے حوالے سے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے فلسطین کے حوالے سے جن الفاظ اور جذبات کا اظہار کیا ہے میں ان کو سراہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بحیثیت وزیرخارجہ پاکستان اس ایوان کو مبارک باد پیش کروں گا کہ آج آپ نے میرے ہاتھ مضبوط کیے ہیں اور متفقہ قرار داد سے لیس کرکے مجھے بھیج رہے ہیں، اس سے یقیناً پاکستان کا وقار بلند ہوگا اور پاکستان کی ترجمانی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنا مؤقف دو ٹوک الفاظ میں پیش کردیا ہے، اس مؤقف کو سراہا گیا ہے، اس مؤقف کی تعریف کی گئی ہے، میرے سامنے فلسطین کی قیادت کا خط ہے، جس نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں خون کی ہولی کا آغاز 27 رمضان کی شب کو ہوا، وزیراعظم اس روز مکہ میں موجود تھے اور اگلے روز امہ اور پاکستان کی آواز کی ترجمانی کرتے ہوئے او آئی سی کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی اور اسی روز ملاقات منعقد کی گئی اور ایک لائحہ عمل مرتب کیا گیا۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ فلسطین میں جارحیت ہوئی ہے اور مسلسل جاری ہے ہم نے اس کی مذمت کی ہے اور کریں گے، کل 16 مئی کو دو اہم اجلاس منعقد کیے گئے، دوپہر 2 بجے او آئی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا اور مجھے پاکستان کی ترجمانی کا موقع ملا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا اور وہاں چین کے وزیرخارجہ صدارت کر رہے تھے، سلامتی کونسل پر امن کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور سلامتی کونسل کا فورم اہم ہے اور دنیا کی نظریں لگی ہوئی تھی کہ فورم کیا مؤقف اپناتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں چین کی قیادت اور وزیرخارجہ کو خراج تحسین پیش کرنا چاہوں گا جنہوں نے اپنی سفارتی کاؤشوں سے سلامتی کونسل کو یکجا کرنے کی کوشش کی اور تقریباً ایک طرف قائل ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے لیکن ایک طاقت جس کے پاس ویٹو کا اختیار ہے، یعنی امریکا نے مشترکہ بیان کے راستے پر رکاؤٹ ڈالی۔انہوں نے کہا کہ جب کل یہ مشترکہ بیان سامنے نہیں آیا تو میں نے ترکی کے وزیرخارجہ سے رابطہ کیا اور منصوبہ بندی کی ہے۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ مانا کہ دنیا کے میڈیا پر ایک طبقے کا غلبہ ہے اور ان کے ہاتھ کتنے لمبے ہیں لیکن آج چیزوں کو دبانا اتنا آسان نہیں ہے، سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، ہر شہری قلم بند کرسکتا ہے، نقشے اپنے فوج اور ویڈیو کے ذریعے کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی کے وزیرخارجہ کے ساتھ ہوئے رابطے میں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آج او آئی سی کے مستقل نمائندے کی حیثیت سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر سے رابطہ کریں گے اور وفد کی صورت میں ان کے سامنے پیش ہوں گے اور امہ اور دیگر مسلمان ممالک کی آواز ہیں اور فی الفور جنرل اسمبلی کا اجلاس بلا لیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کے فیصلوں پر ویٹو کیا جاسکتا ہے لیکن جنرل اسمبلی میں کوئی ویٹو نہیں کرسکتا، وہاں لوگ کھل کر مؤقف پیش کرتے ہیں اور ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ جنرل اسمبلی کا اجلاس بلا لیا جائے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اجلاس کے بعد میں ترکی جا رہا ہوں، جہاں فلسطین اور سوڈان کے وزرائے خارجہ آرہے ہیں اور سلامتی کونسل اور او آئی سی کے اجلاس پر تبادلہ خیال کرکے نیویارک جانے کا فیصلہ کیا ہے اور نیویارک جا کر پاکستان کی آواز بنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کل یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بلالیا گیا ہے، میں توقع کرتا ہوں کہ وہ یورپی یونین کے ممالک جو انسانی حقوق کے علمبردار ہیں وہ کل اپنے اجلاس میں انسانیت کے لیے اپنی ایک مؤثر آواز بلند کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 65 ملین مسلمان ہیں جو یورپ میں رہائش پذیر ہیں، میں آج کہنا چاہتا ہوں کہ یورپ اگر اپنے امن کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو، اگر اپنے معاشرے میں ایک تعلق اور توازن کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو ان 65 ملین اور دیگر بہت سے لوگ جن کا ضمیر سویا ہوا نہیں ہے، ان کی بات پر غور کرتے ہوئے درست فیصلہ کرے گا۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ 2 لاکھ 42 ہزار پٹیشنرز نے پٹیشن پر دستخط کیے ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ دستخط ہوں گے تو برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز کو اس معاملے کو ایوان میں زیر بحث لانا ہوگا، ایوان نمائندگان میں یہ زیر بحث آنا ہوگا اور وہ حقائق سامنے رکھے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کل رات امریکا کے سیکریٹری اسٹیٹ بلنکن سے بات ہوئی، امریکا کی اہمیت اور ان کا اسرائیل سے جو تعلق ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، اگر دنیا کا کوئی ان پر حاوی اور اثر انداز ہوسکتا ہے تو وہ امریکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے جہاں پاکستان اور امریکا کے تعلقات، افغانستان کی نازک صورت حال پر بات کی وہیں ان کے سامنے فلسطین کا مسئلہ سامنے رکھا اور گزارش کی، اگر کوئی طاقت اس خون خرابے کو روک سکتی ہے تو امریکا کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا، اگر جنگ بندی ہمارا مطمع نظر ہے تو اس میں امریکا کا کردار اہم ہے، تشدد روکنے کے لیے امریکا تنہا جتنی طاقت رکھتا ہے شاید کوئی اور نہیں رکھتا ہو۔

مشہور خبریں۔

چین نے کابل سے خواتین کے حقوق کے لیے اپنی کوششیں بڑھانے کو کہا

?️ 12 مئی 2023چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بِن نے ایک پریس

کیا اردغان اسرائیل کے لیے خطرہ ہے؟

?️ 28 جون 2025سچ خبریں: رائی ال یوم اخبار نے صیہونی حکومت اور ترکی کے

امریکہ نے داعش کے دہشت گردوں کو شام سے یوکرین بھیجا

?️ 20 مارچ 2022سچ خبریں:   شمال مشرقی شام کے صوبے حسکہ کے مقامی ذرائع نے

فلسطین کی مکمل آزادی کے خلاف کی جانے والی ہر کوشش ناکام ہوگی:حماس

?️ 16 دسمبر 2021سچ خبریں:حماس کے سیاسی بیورو کے ایک رکن نے اس بات پر

امریکہ، برطانیہ اور فرانس اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں۔ کیا نسل کشی؟!

?️ 6 اگست 2025سچ خبریں: اقوام متحدہ میں امریکی نمائندے نے صیہونی حکومت کی بھرپور

پاکستان کا یمن بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کے تسلسل کا مطالبہ

?️ 31 دسمبر 2025سچ خبریں:پاکستان نے یمن میں امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے حقائق بیان نہیں کیے

?️ 21 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران

غزہ کا سیاسی حل تلاش کیا ہے ؟

?️ 23 اکتوبر 2023سچ خبریں:صیہونی عبوری حکومت کو مغربی امداد میں اضافے اور غزہ کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے