?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ جب مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف پاکستان واپس آئیں گے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا اور نگران حکومت نے سابق وزیراعظم کی آمد کے حوالے سے منصوبہ بندی کے لیے وزارت قانون سے رابطہ کیا ہے۔
اس ماہ کے اوائل میں مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نے اعلان کیا تھا کہ ان کے بڑے بھائی 21 اکتوبر کو وطن واپس آجائیں گے، نواز شریف کو 2018 میں العزیزیہ ملز اور ایوین فیلڈ ریفرنس میں سزا سنائی گئی تھی۔
تاہم نومبر 2019 میں انہیں طبی بنیادوں پر بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی گئی تھی جس کے بعد وہ کبھی وطن واپس نہیں آئے اور اگلے سال 2020 میں نے انہیں اشتہاری مجرم قرار دیا تھا۔
10 اگست کو مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے جب نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے پوچھا گیا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ مسلم لیگ(ن) کے قائد کو وطن واپسی پر قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسی ماہ جب اس حوالے سے لندن میں مسلم لیگ(ن) کے صدر سے پوچھا گیا تھا تو انہوں نے کہا تھا نواز شریف پاکستان آ کر قانون کا سامنا کریں گے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔
آج برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نگران وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے وزارت قانون سے پوچھا ہے کہ نواز شریف کی واپسی پر انتظامی اقدامات کے لحاظ سے نگران حکومت کی حیثیت کیا ہونی چاہیے، وطن واپس پہنچتے ہی میں اس سلسلے میں ایک اجلاس طلب کروں گا۔
انوار الحق کاکڑ نے مزید کہا کہ سابق وزیر اعظم کی گرفتاری سے متعلق فیصلہ عدالتیں کریں گی کیونکہ عدلیہ نے مسلم لیگ(ن) کے قائد کو استثنیٰ دیا تھا جس کے بعد وہ ملک سے روانہ ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ایک سزا یافتہ فرد کو ایگزیکٹو نے نہیں بلکہ عدالتوں نے ملک سے جانے کی اجازت دی تھی، وہ عدالتی اجازت نامے کے ساتھ ملک سے باہر گئے تھے، یہ سوال ایگزیکٹو کے پاس نہیں بلکہ عدالتوں کے پاس ہے۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی رہائی کے بارے میں بات کرتے ہوئے نگران وزیر اعظم نے کہا کہ اگر عمران خان عدالتوں سے ریلیف لینے میں کامیاب نہیں رہتے تو پھر انہیں نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ میرا مطلب ہے کہ عدالتی نظام میں جتنے بھی مواقع آپ کے پاس ہیں، اگر ان مواقع کے بعد بھی قوانین کے تحت ان کو الیکشن سے روکا گیا تو یہ ہمارے مینڈیٹ سے باہر ہے کہ ہم ان کو کوئی ریلیف دے سکیں، تو قانون اپنا راستہ خود اختیار کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی سے کوئی سختی نہیں برتی جائے گی لیکن جو لوگ ریاست کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث تھے، ان کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ مخصوص لوگ ہیں جن کی 25 کروڑ کی آبادی میں تعداد 1500 یا 2000 ہے، انہیں پی ٹی آئی سے جوڑنا کوئی منصفانہ تجزیہ نہیں ہے۔
جب ان سے سوال پوچھا گیا کہ اگر کچھ سیاسی رہنماؤں کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہ دی گئی تو کیا ملک میں جاری سیاسی بحران میں اضافہ ہو گا تو انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے، ہم قیاس آرائیاں نہیں کر سکتے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا چونکہ یہ ہمارے مینڈیٹ سے باہر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک میری حکومت کا تعلق ہے تو ہمارا مقصد بحران روکنا یا بحران پیدا کرنا نہیں ہے، ہمارا کردار قانون کے مطابق انتخابات میں جانا ہے اور اگر انتخابات کے نتیجے میں بحران پیدا ہوتا ہے تو پھر یہ پورے معاشرے اور ریسات کے لیے سوال ہے، یہ نگراں حکومت کے لیے نہیں ہے۔


مشہور خبریں۔
صیہونیست "جنگ بندی” یا "تابوتوں کے استقبال” کے دو راستوں کے درمیان
?️ 7 جون 2025سچ خبریں: ابو عبیدہ، عزالدین قسام بریگیڈز کے ترجمان نے اعلان کیا
جون
انوارالحق کاکڑ کو چیئرمین سینٹ بنائے جانے کا امکان
?️ 24 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کو چیئرمین سینٹ بنائے جانے کا
فروری
ہم چاہتے ہیں کہ معاملات خوش اسلوبی سے حل ہوں
?️ 29 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس
اکتوبر
نیب کا ملک ریاض کی حوالگی کیلئے متحدہ عرب امارات سے رابطہ
?️ 29 جنوری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) قومی احتساب بیورو (نیب) نے ملک ریاض
جنوری
نیتن یاہو کی کابینہ کے وزیر کی بیٹی کا والدین پر جنسی زیادتی کا الزام
?️ 13 اپریل 2025سچ خبریں: اسرائیلی ٹیلی ویژن کے چینل 12 نے ایک خبر میں
اپریل
پاکستان نے سلامتی کونسل کے صدر کی حیثیت سے غزہ کیلئے بھرپور آواز اٹھائی، وزیرخارجہ
?️ 29 اگست 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحٰق ڈار نے کہا
اگست
نگران حکومت نے سکھر-حیدرآباد موٹر وے کا معاہدہ ختم کردیا
?️ 26 فروری 2024کراچی: (سچ خبریں) نگران حکومت نے اسپیشل انویسٹمنٹ اینڈ فیسیلیٹیشن کونسل (اے
فروری
عراقی صدر کا پی کے کے اور غزہ کے بارے میں نیا بیان سامنے آگیا
?️ 29 اگست 2025عراقی صدر کا پی کے کے اور غزہ کے بارے میں نیا
اگست