مریم نواز نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ مسترد کر دیا

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں)وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز  نے  کہا ہے کہ ‘میں عوام کے ساتھ کھڑی ہوں، اس فیصلے کی تائید نہیں کر سکتی۔’

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹر ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں مریم نواز نے کہا کہ ‘میاں نواز شریف نے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے اور یہاں تک کہہ دیا کہ میں مزید ایک پیسے کا بوجھ عوام پر نہیں ڈال سکتا اور اگر حکومت کی کوئی مجبوری ہے تو میں اس فیصلے میں شامل نہیں ہوں اور اجلاس چھوڑ کر چلے گئے’۔

ان کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر حکومت بالخصوص وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کو آڑے ہاتھوں لیا۔

جس کے جواب میں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ ‘میں ایک آسان ہدف ہوں لیکن قیمت میں یہ تبدیلی صرف پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے اخراجات میں تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے اور اس میں کوئی نیا ٹیکس شامل نہیں ہے۔’

خیال رہے کہ رات گئے حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے 72 پیسےاضافہ کردیا تھا جس کے بعد نئی قیمت 233 روپے 91 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 51 پیسے سستا ہونے کے بعد 244 روپے 44 پیسے کا ہوگیا تھا۔

وزارت خزانہ سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں اور شرح تبادلہ میں ہونے والی ردوبدل کی روشنی میں حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی تبدیلی کے اثرات عوام تک منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم عالمی منڈی میں تیل کی کم ہوتی قیمتوں اور ملک میں ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کے دعوے کے باوجود قیمتیں بڑھانے پر حکومت پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔

چنانچہ مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر سلسلہ وار ٹوئٹس میں وزیر خزانہ نے پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مقرر کرنے کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) پلیٹ (بینچ مارک) قیمتوں کا اوسط لیتی ہے، پھر ان قیمتوں پر پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی جانب سے ادا کردہ مال برداری اور پریمیئم کا اضافہ کر کے اسے شرح تبادلہ سے ضرب دیتی ہے، اس کے علاوہ یہ گزشتہ 15 روز کی لاگت کو بھی ‘حقیقی’ بناتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پی ایس او کے ذریعے ادا کیے گئے روپوں کو حساب میں لے کر اصل شرح تبادلہ پر گزشتہ 15 روز کی لاگت کا تخمینہ لگانے کے لیے استعمال کی جانے والی اوسط کے سوا ہم نے قیمت میں کوئی نیا ٹیکس یا لیوی شامل نہیں کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حساب سے پیٹرول کی قیمت بڑھ گئی ہے (اور ڈیزل کی کم ہوئی) کیونکہ لاگت پی ایس او کی جانب سے گزشتہ 15 روز میں ادا کی گئی قیمت اوگرا کے تخمینے سے زیادہ تھی۔

ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وجہ سے بھی قیمت بڑھی کہ پی ایس او کی جانب سے پیٹرول پر ادا کردہ پریمیئم میں اضافہ ہوا جبکہ ڈیزل پر ادا کردہ پریمیئم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

انہوں نے واضح کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نئے ٹیکس یا لیویز کا ایک پیسہ بھی شامل نہیں کیا گیا۔

ان کی وضاحت کے جواب میں سینیئر صحافی حامد میر نے سوال اٹھایا کہ آپ پاکستان کے وزیر خزانہ ہیں، آپ نے پیٹرول کی قیمت میں اضافے سے ایک روز پہلے یہ دعویٰ کیوں کیا تھا کہ آپ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہیں بڑھائیں گے؟

جس کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ حامد میر صاحب، میں نے کہا تھا کہ میں قیمت میں نئے ٹیکس یا لیویز کا ایک پیسہ بھی نہیں اضافی شامل نہیں کروں گا اور میں نے نہیں کیا۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ لیکن آپ جانتے ہیں کہ ایندھن کی قیمتوں کی سمری اوگرا نے پیٹرولیم ڈویژن کے ذریعے فنانس ڈویژن کو بھیجی ہے جو ہمیں قیمتیں طے ہونے سے چند گھنٹے پہلے ہی ملتی ہے۔

وزیر خزانہ نے اپنے اوپر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘میں ایک آسان ہدف ہوں، جو ٹھیک ہے لیکن قیمت میں یہ تبدیلی صرف پی ایس او کے اخراجات میں تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے اور اس میں کوئی نیا ٹیکس شامل نہیں ہے۔’

انہوں نے کہا کہ میں لوگوں کی اپنے اوپر تنقید کا خیر مقدم کرتا ہوں کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ میں اپنے ملک کے لیے مخلص ہوں، اسے دیوالیہ ہونے بچایا ہے اور اپنی بہترین صلاحیت کے مطابق کام کر رہا ہوں۔

مشہور خبریں۔

درجنوں صیہونی آبادکاروں کا مسجد الاقصی پر حملہ

?️ 6 فروری 2022سچ خبریں:درجنوں صیہونی آبادکاروں نے آج اتوار کو مسجد الاقصی پر حملہ

عراق میں امریکہ کی غلطیوں نے یوکرین کی جنگ پر کیسے سایہ ڈالا ہے؟

?️ 20 مارچ 2023سچ خبریں:چند ماہ قبل سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی عراق

تیل بردار جہازوں کی ضبطی میں لندن کی شراکت شرمناک ہے

?️ 8 جنوری 2026 تیل بردار جہازوں کی ضبطی میں لندن کی شراکت شرمناک ہے

واشنگٹن سے تل ابیب تک اسلحے کا فضائی پل

?️ 26 جولائی 2026سچ خبریں:صیہونی میڈیا کے مطابق امریکہ نے درجنوں ایندھن بردار طیاروں، جنگی

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 22 فیصد برقرار رکھنے کا اعلان

?️ 30 اکتوبر 2023 اسلام آباد: (سچ خبریں) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود ایک

اسرائیلی فوج خوفناک حالات کی تیاری میں

?️ 21 دسمبر 2024سچ خبریں: اسرائیلی فوج اس ڈیٹا بیس پر بڑے پیمانے پر سائبر

غزہ معاہدے کے حامی مسلم ممالک کو ’اپنی پوزیشن پر دوبارہ غور‘ کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے، خواجہ آصف

?️ 30 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے اتوار کو غزہ

متحدہ عرب امارات جنگ کے جاری رہنے کا ذمہ دار

?️ 19 جون 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ میں سوڈان کے نمائندے ادریس محمد نے کہا کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے