قدرتی آفت کے ساتھ انسانوں کی پیدا کردہ آفت کی کوئی گنجائش نہیں، وزیراعظم

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آخر کب تک وفاقی اور صوبائی حکومتیں غیرقانونی تعمیرات کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرتی رہیں گی، قدرتی آفت کے ساتھ انسانوں کی پیدا کردہ آفت کی کوئی گنجائش نہیں، سیلاب متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کا کام مکمل ہونے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، بحالی کے کاموں کو پورے خلوص کے ساتھ جاری رکھنا ہوگا جب تک یہ اپنے اختتام کو نہ پہنچ جائے۔

وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حالیہ دنوں میں طوفانی بارشوں سے دریاؤں میں طغیانی آئی ہے، سوات، صوابی،مانسہرہ،شانگلہ میں بھی بے پناہ نقصانات ہوئے، خیبرپختونخوا میں بادل پھٹنے سے فلش فلڈنگ سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔

وزیراعظم نے کہا کہ بارشوں سے متاثرہ علاقے بونیر کا دورہ کیا، جہاں بے پناہ نقصان ہوا، آفت کی اس گھڑی میں وفاق نے صوبائی حکومت ساتھ مل کر کام کیا، وفاقی وزرا نے امدادی کاموں میں بھرپور حصہ لیا، جب تک بحالی اور تعمیر نو کا کام مکمل نہیں ہوتا چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بارشوں سےجاں بحق افرادکے لواحقین کو معاوضےکی ادائیگی کی جارہی ہے، افواج پاکستان امدادی کارروائیوں میں بھرپور حصہ لے رہی ہیں، بونیر کے دورے کے مواقع پر سپہ سلار بھی موجود تھے۔

وزیراعظم نے کہاکہ 2022 میں بھی آفت آئی اور بڑی شدید آفت آئی، اس وقت سندھ اس کا نشانہ تھا، پھر بلوچستان، کے پی کے اور پنجاب کے چند اضلاع درجہ بدرجہ نشانہ بنے، مگر سندھ میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی تھی، مگر اتنی تباہی کے باوجود صرف 100 اموات ہوئی تھیں، مگر اس مرتبہ پاکستان بھر میں 700 سے زیادہ اموات ہوئی ہیں اور صرف خیبرپختونخوا میں 400 اموات ہوئی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس صورتحال میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں، 3 روز قبل کراچی میں تباہ کن بارش ہوئی، میں نے فون پر وزیراعلیٰ سندھ اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو سے اظہار ہمدردی کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سوال اٹھایا کہ آخر کب تک وفاقی اور صوبائی حکومتیں غیرقانونی تعمیرات کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرتی رہیں گی؟

وزیراعظم نے کہا کہ وہ بہت جلد ایک اجلاس بلانے والے ہیں جہاں پر ہم بات کریں گے کہ دریا کے اندر موجود تعمیرات چاہے وہ ہوٹل ہوں ، ریسٹورنٹس یا پھر گھر ہیں، انہیں ہٹایا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کہاجاتا ہے ہمیں خوبصورتی دکھانی ہے، آپ کو قیامت خیز خوبصورتی چاہیے یا وہ خوبصورتی چاہیے جہاں پھر انسانی زندگی ہر ممکن حد تک بچائی جاسکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ گلیات وہ علاقہ تھا جہاں کوئی ایک درخت نہیں گراسکتا تھا، آج گلیات میں اتنی کٹائی ہوئی اور اتنے پلازے بن گئے ہیں کہ دل خون کے آنسو روتا ہے، وزیراعظم نے کہاکہ قدرتی آفت کے ساتھ انسانوں کی پیدا کردہ آفت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اس حوالے سے ہم سب کو بیٹھنا ہوگا۔

وزیراعظم نے اجلاس کو بتایا کہ چین کے وزیر خارجہ سے انتہائی مفید ملاقات ہوئی، چین پاکستان دوستی وقت کے ساتھ مضبوط سے مضبوط ترہورہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ جلد چین کا دورہ کررہا ہوں، جہاں ایس سی او اجلاس میں شرکت اور چینی قیادت سے ملاقاتیں ہوں گی، وزیراعظم نے کہا کہ دورہ چین میں سی پیک کے دورے مرحلے کا آغاز ہوگا۔

مشہور خبریں۔

کولمبیا یونیورسٹی مظاہرین طلباء کے ساتھ کیا کر رہی ہے؟!

?️ 30 اپریل 2024سچ خبریں: کولمبیا یونیورسٹی نے فلسطین کی حمایت میں احتجاج کرنے والے

امریکی رپورٹ نے بھارت کےخلاف جنگ میں پاکستان کی جیت پر مہر لگادی، وزیراعظم

?️ 20 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جنگ

ارشد شریف کی والدہ کا چیف جسٹس پاکستان کو خط

?️ 2 نومبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) ارشد شریف کی والدہ نے چیف جسٹس پاکستان سے ہائی

امریکی اسپتالوں میں آئی سی یو کے تین چوتھائی بیڈ بھر چکے ہیں

?️ 26 اگست 2021سچ خبریں:امریکی ہسپتالوں نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ ملک

یورپی قوانین مصنوعی ذہانت کی ترقی کو روک سکتے ہیں، سیم آلٹمین کا انتباہ

?️ 10 فروری 2025سچ خبریں: اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین نے کہا ہے

بغیر پوچھے بننے والا 15 ممالک کا بادشاہ

?️ 8 مئی 2023سچ خبریں:برطانوی بادشاہ چارلس III کی سرکاری طور پر تاجپوشی کی تقریب

ترکی کی جانب سے شامی مسلح اپوزیشن کی حمایت جاری

?️ 7 جنوری 2025سچ خبریں: ورلڈ اکانومی اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنزنے اعلان کیا ہے کہ آنکارا یکطرفہ

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس 2024 سینیٹ میں پیش

?️ 1 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) قائم مقام چیئرمین سیدال خان کی زیرِ صدارت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے