عمران خان کو سیکیورٹی نہیں دے سکتے تو انتخابات کا پُرامن انعقاد کیسے ممکن ہوگا؟ الیکشن کمیشن

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان  نے سیکریٹری داخلہ کو 13 نومبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا ہے تاکہ وہ یہ وضاحت پیش کریں کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت کے لیے کیوں پیش نہیں کیا جا سکا۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب نثار احمد درانی کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے 4 رکنی بینچ نے عمران خان اور پی ٹی آئی کے 2 سابق عہدیداروں فواد چوہدری اور اسد عمر کے خلاف ’توہین الیکشن کمیشن اور توہین چیف الیکشن کمشنر کیس‘ کی سماعت کی۔

سماعت کے لیے فواد چوہدری اور اسد عمر موجود تھے تاہم اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کو پیش نہیں کیا گیا، جسے پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین نے الیکشن کمیشن کی ’حقیقی توہین‘ قرار دیا۔

اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل آف پولیس (آپریشنز) نے رپورٹ پیش کی جس میں عمران خان کو راولپنڈی کے گنجان آباد علاقے سے لے کر آنے کے حوالے سے ممکنہ سیکیورٹی خدشات کی نشاندہی کی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے خود کہا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے، اس پر نثار احمد درانی نے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل سے عمران خان کے اِن دعوؤں کے بارے میں استفسار کیا۔

وزارت داخلہ کی جانب سے کہا گیا کہ ای سی پی کو اس کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں کرنی چاہیے، اس پر بینچ نے وزارت داخلہ کی صلاحیتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ اگر ایک فرد کی حفاظت کو یقینی نہیں بنا سکتے تو آئندہ انتخابات کیسے کرائیں گے؟

بینچ نے ریمارکس دیے کہ وزارت داخلہ الیکشن کمیشن کو کیسے حکم دے سکتی ہے؟ سیکریٹری داخلہ خود پیش ہوں، بعد ازاں الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 13 نومبر تک ملتوی کر دی۔

خیال رہے کہ یہ فیصلہ توہین ای سی پی کیس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جیل میں قید چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے جانے کے بعد کیا گیا ہے۔

قبل ازیں 11 اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں ایڈووکیٹ شعیب شاہین نے الیکشن کمیشن کو بتایا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی جیل میں ہیں، اس لیے وہ الیکشن کمیشن کے مقدمات میں اس وقت تک حاضر نہیں ہوسکتے جب تک کہ ان کے پروڈکشن آرڈرز نہ جاری کیے جائیں۔

19 اکتوبر کو جاری ایک تحریری حکم نامے میں گزشتہ سال اگست سے التوا اِس کیس کا فوری فیصلہ سنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔

حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ ’یہ ریکارڈ کی بات ہے کہ یہ معاملہ اگست 2022 سے زیر التوا ہے جس کا بلا کسی تاخیر کے فیصلہ کیا جانا چاہیے‘۔

اس میں کہا گیا کہ مدعا علیہ جیل میں ہے اور معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے ملزم کی ذاتی حیثیت میں پیشی لازمی ہے، اس لیے جواب دہندہ عمران احمد خان نیازی کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے علاوہ کوئی متبادل راستہ نہیں ہے۔

الیکشن کمیشن کے بینچ نے اپنے دفتر کو کہا تھا کہ وہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو عمران خان کو الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کرنے کے لیے تمام ضروری انتظامات کرنے کی ہدایات دیں۔

آئی جی اسلام آباد اور آئی جی پنجاب پولیس سے بھی کہا گیا کہ وہ اس سلسلے میں عمران خان کی فول پروف سیکیورٹی یقینی بنائیں۔

مشہور خبریں۔

یمن کے خلاف امریکی دوغلہ پن

?️ 17 اگست 2022سچ خبریں:امریکہ ایک طرف یمن میں جنگ بندی کی حمایت کر رہا

روس نے تہران-واشنگٹن مذاکرات کی ناکامی کی وجہ امریکہ کا تضاد گوئی قرار دیا

?️ 22 اپریل 2026سچ خبریں: ایک روسی سینئر عہدیدار نے تہران-واشنگٹن مذاکرات کی ناکامی کی

چین کہاں کہاں امریکہ کے لیے خطرہ ہے؟

?️ 2 جولائی 2023سابق امریکی صدر کا دعویٰ ہے کہ کیوبا میں چینی فوجی اڈوں

امریکی ریاست لوزیانا میں طوفان کی تباہی

?️ 30 اگست 2021سچ خبریں:امریکی ریاست لوزیانا میں آنے والے طوفان نے وسیع پیمانے پر

پنجاب حکومت نے مساجد اور مزارات میں اعتکاف کے متعلق فیصلہ بدل دیا

?️ 3 مئی 2021لاہور ( سچ خبریں ) پنجاب حکومت نے 10 اضلاع کی مساجد

امریکی نائب صدر کا غزہ کے بارے میں نیا بیان

?️ 30 اکتوبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت اور اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کے بارے

غزہ جنگ کے بارے میں صیہونی جنرل کا اہم اعتراف

?️ 16 جون 2024سچ خبریں: ایک صیہونی جنرل نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ میں

غزہ میں عام سوگ

?️ 20 نومبر 2022سچ خبریں:فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ اور فلسطینی گروپوں نے غزہ میں ایک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے