عسکریت پسندی کے خطرے کا ’دوبارہ جائزہ‘ لینے کیلئے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا

?️

اسلام آباد;(سچ خبریں) مئی میں ہونے والے انتخابات کے معاملے پر اپوزیشن اور سپریم کورٹ کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے، ایسے میں وزیراعظم شہباز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کا اجلاس (آج) جمعہ کو طلب کر لیا ہے۔ امکان ہے کہ بظاہر اجلاس میں سیکیورٹی خدشات کے بہانے فوجی قیادت سے انتخابات میں تاخیر کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اگرچہ کمیٹی کے اجلاس کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان نہیں جاری کیا گیا تاہم ذرائع نے ڈان کو تصدیق کی کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس جمعہ کو ہوگا۔

قومی سلامتی کمیٹی ’قومی سلامتی کے معاملات پر فیصلہ سازی کرنے والے بنیادی ادارے‘ کی حیثیت میں کام کرتی ہے۔

اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) جنرل ساحر شمشاد مرزا، فضائیہ اور بحریہ کے سربراہان اور وفاقی وزرا برائے دفاع، خزانہ اور اطلاعات شرکت کریں گے۔

اندرونی ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت ایک بار پھر اعلیٰ حکام سے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات ہونے کی صورت میں عسکریت پسندوں کے ممکنہ خطرات کے بارے میں بریفنگ طلب کرے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ فوجی حکام نے حکومت کو ایک تفصیلی بریفنگ دی تھی کہ افغانستان کی سرحد سے ملحقہ قبائلی اضلاع میں دہشت گرد تنظیمیں دوبارہ منظم ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے حالات انتخابی مہم کے لیے سازگار نہیں ہیں۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حالات کی روشنی میں اجلاس کے دوران ملک میں ’ایمرجنسی نافذ کرنے‘ کے آپشن پر بھی تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے۔

ایمرجنسی کا اعلان آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت کیا جا سکتا ہے، جو جنگ اور اندرونی خلفشار کی صورت میں زیادہ سے زیادہ ایک سال کی مدت کے لیے ایمرجنسی کے اعلان سے متعلق ہے، تاہم ایمرجنسی کا اعلان کرنے کے لیے پارلیمنٹ سے قراردار منظور کرانا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ سال اپریل میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا تھا تاکہ عدم اعتماد کے ووٹ کے نتیجے میں اقتدار سے بے دخلی کے بعد پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی جانب سے پیش کیے جانے والے ’غیر ملکی سازشی بیانیے‘ کو مسترد کیا جا سکے۔

دریں اثنا عمران خان نے قومی سلامتی کمیٹی اجلاس طلب کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ حکومت سیکیورٹی کو انتخابات ملتوی کرنے کے بہانے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرے گی’۔

سابق وزیر اعظم نے ایک خطاب کے دوران اپنے خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ (اقدام) مسلح افواج کو براہ راست نہ صرف عدلیہ بلکہ قوم کے خلاف کھڑا کر دے گا‘۔

پی ٹی آئی کے سربراہ نے کہا کہ ’وہ سپریم کورٹ پر ایک غیر آئینی بل اور (عدلیہ) کے خلاف قومی اسمبلی کی قرارداد لائے، پی ڈی ایم حکومت کسی بھی قیمت پر انتخابات سے بھاگنا چاہتی ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے امید ظاہر کی کہ قومی سلامتی کمیٹی بھی وزیراعظم شہباز شریف کو یہ احساس دلائے گی کہ ریاستی ادارے آئین کے تحفظ کے لیے کھڑے ہیں۔

پی ٹی آئی کے ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’کل (جمعہ) کو این ایس سی کا اعلامیہ فیصلہ کرے گا کہ کون سا ادارہ کس کے ساتھ کھڑا ہے‘۔

آرمی چیف کے اس بیان کہ پاکستان کے مسائل اتفاق رائے سے حل کیے جاسکتے ہیں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ ہم انتظار کر رہے ہیں کہ آرمی چیف کے بیان کو عملی طور پر کیسے آگے بڑھایا جائے گا۔

مشہور خبریں۔

سعودی عرب کی صیہونیوں کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی شرط

?️ 9 اگست 2023سچ خبریں: صیہونی فوج کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے مسئلہ فلسطین

کیا پاکستان میں امریکہ کی کوئی مداخلت نہیں؟

?️ 13 ستمبر 2023سچ خبریں: امریکہ  نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے آئندہ

ایران کے سامنے ایک عرب ملک کا اسٹریٹجک موڑ

?️ 26 مئی 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے خلاف عالمی اقدامات بالخصوص بین الاقوامی فوجداری عدالت

فیول ایڈجسمنٹ کی مد میں بجلی 2 روپے یونٹ سستی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

?️ 27 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) نیپرا نےجنوری کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد

بجلی کی اوور بلنگ پر ایف آئی اے اور لیسکو نے معاملات طے کرلیے

?️ 23 اپریل 2024لاہور: (سچ خبریں) بجلی کی اوور بلنگ کے معاملے پر ایف آئی اے

امریکی فضائیہ ناکارہ اور کمزور ہو چکی ہے: ہیریٹیج

?️ 26 اکتوبر 2021سچ خبریں:  2022 میں امریکی فوجی طاقت کے انڈیکس پر اپنی تازہ

ملک کیسے ترقی کرے گا؟عمر ایوب کی زبانی

?️ 27 جولائی 2024سچ خبریں: قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف کے

غزہ میں جنگ بندی تباہ کن جنگ کے خاتمے کا ایک بہترین موقع ہے:یورپی یونین 

?️ 11 اکتوبر 2025غزہ میں جنگ بندی تباہ کن جنگ کے خاتمے کا ایک بہترین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے