صدر مملکت اپنی اوقات اور آئینی دائرے میں رہیں، عمران خان کی کٹھ پتلی نہ بنیں، وزیر داخلہ

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے صدر مملکت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر عارف علوی اپنی اوقات اور آئینی دائرے میں رہیں، عمران خان کی کٹھ پتلی نہ بنیں۔

وزیر داخلہ نے یہ بیان آج صدر مملکت کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف کو لکھے گئے خط پر رد عمل دیتے ہوئے دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں، کارکنوں، صحافیوں اور میڈیا کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے، سیاسی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، شہریوں کو بغیر وارنٹ اور قانونی جواز کے اغوا کر لیا گیا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ صدر علوی اپنی اوقات اور آئینی دائرے میں رہیں، عمران خان کے حکم پر کٹھ پتلی نہ بنیں، عارف علوی، عمران خان سے دہشت گردی کرنے کا جواب لیں۔

رانا ثنااللہ نے سوال اٹھایا کہ کلمے پڑھتے ہوئے سیاسی مخالفین پر 15 کلو ہیروئن ڈال دی تھی، اس وقت انسانی حقوق کہاں تھے ، کیا اپوزیشن لیڈر کو سزائے موت کی چکی میں انسانی حقوق کے مطابق ڈالا تھا، سیاسی مخالفین کی بہنوں، بیٹیوں سزائے موت کی چکیوں میں انسانی حقوق کے مطابق ڈالا تھا۔

انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی ہڈیاں پسلیاں توڑیں، اس وقت انسانی حقوق کہاں تھے، پولیس کے سر کھولنے، پیٹرول بم، گولیاں، غلیلیں انسانی حقوق کے مطابق چلائیں ؟

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو خط لکھیں کہ 190 ملین پاؤنڈ پاکستان کو واپس کرے، عمران کو خط لکھیں کہ ٹیریان خان کو قبول کریں، وہ سب حقوق کی خلاف ورزی ہے، عمران خان کو خط لکھیں ہے توشہ خانہ اور فارن فنڈنگ کا عدالت میں جواب دیں۔

وفاقی وزیر نے صدر مملکت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئین اور قانون شکن آئینی عہدے پر مسلط ہے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے شہباز شریف کو بذریعہ خط کہا تھا کہ وہ توہین عدالت سے بچنے کے لیے متعلقہ حکام کو پنجاب اور خیبرپختونخوا میں مقررہ وقت میں عام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کی ہدایت کریں۔

صدر مملکت نے کہا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تمام متعلقہ انتظامی حکام کو انسانی حقوق کی پامالی سے باز رہنے کی ہدایت کی جائے، ماضی قریب میں پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا نے بنیادی اور انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزیوں کے واقعات کو اجاگر کیا، ایسے واقعات کے تدارک اور اصلاح کے لیے انہیں وزیراعظم کے نوٹس میں لانے کی ضرورت تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ تشویشناک بات یہ ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے آرٹیکل 46 اور رولز آف بزنس کے تحت صدر کے ساتھ کوئی بامعنی مشاورت نہیں کی گئی۔

صدر مملکت نے خط میں وزیراعظم کی توجہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانب بھی مبذول کرائی اور پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مظالم، شہریوں کے خلاف طاقت کے غیر متناسب استعمال کی سنگینی کا بھی ذکر کیا۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ وزیر اعظم حکومت کے سربراہ ہونے کے ناطے آئین میں درج پاکستان کے ہر شہری کے انسانی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں اور وہ متعلقہ حکام کو حقوق کی خلاف ورزی سے باز رہنے اور الیکشن کمیشن کو معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کریں۔

واضح رہے کہ صدر مملکت کی جانب سے وزیر اعظم کو یہ خط ایک ایسے موقع پر تحریری کیا گیا ہے جب کہ دو روز قبل ہی الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 30 اپریل بروز اتوار کو پنجاب میں ہونے والے صوبائی اسمبلی کے عام انتخابات 8 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مشہور خبریں۔

صیہونیوں کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے:شاباک

?️ 3 اکتوبر 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت کی داخلی سلامتی سروس نے حالیہ مہینوں میں فلسطینی

امریکہ اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

?️ 6 ستمبر 2025سچ خبریں: ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، بھارت کے وزیر اعظم

پاکستان: بھارت کی جانب سے دشمنی کی کارروائی کی صورت میں فیصلہ کن جواب دیں گے

?️ 19 اکتوبر 2025سچ خبریں: پاکستانی فوج کے سربراہ نے واضح الفاظ میں خبردار کیا

سعودی اتحاد نے الحدیدہ میں 205 بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی

?️ 11 اکتوبر 2021سچ خبریں: تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سعودی اتحاد کے جنگجوؤں نے گزشتہ

سوڈان میں 100 قیدیوں کی بھوک ہڑتال

?️ 19 فروری 2022سچ خبریں:سوڈانی ٹریڈ یونین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس

افغانستان بارے اجلاس میں عدم شرکت، سہیل آفریدی نے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی۔ عطا تارڑ

?️ 17 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا

ٹی ایل پی اور حکومت کے درمیان معاہدے کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد کے راستے بحال ہو گئے

?️ 1 نومبر 2021 اسلام آباد (سچ خبریں)  تفصیلات کے مطابق حکومت اور کالعدم تنظیم کے

ایران کے حملے کے خوف سے اسرائیل نے پیوٹن سے مدد مانگی: صیہونی ذرائع

?️ 8 جنوری 2026سچ خبریں:صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہونے ولادیمیر پیوٹن سے براہ راست

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے