?️
لاہور: (سچ خبریں) سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے گزشتہ روز کراچی پولیس آفس پر دہشتگرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری مراکز میں دہشتگردی میں اچانک اضافہ انٹیلی جنس کی ناکامی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں عمران خان کا کہنا تھا کہ کراچی پولیس آفس پر کل کے دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں، ایک مرتبہ پھر ہماری بہادر پولیس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ خصوصاً شہری مراکز میں دہشت گردی میں اچانک اضافہ انٹیلی جنس کی ناکامی اور ریاست کے ہاں دہشت گردی کے انسداد کی ایک واضح فعال حکمتِ عملی کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز (17 فروری) صوبہ سندھ کے دارالحکومت میں شاہراہ فیصل پر واقع کراچی پولیس چیف کے دفتر پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا، تقریباً ساڑھے تین گھنٹے سے زائد مقابلے کے بعد عمارت کو دہشت گردوں سے کلیئر کرا لیا گیا تھا، حملے میں تین دہشت گرد مارے گئے تھے۔
پولیس ترجمان نے بیان میں کہا تھا کہ کراچی پولیس آفس پر حملہ کرنے والے تینوں حملہ آوروں کو پولیس کمانڈوز کی کارروائی میں ہلاک کردیا گیا۔
انہوں نے کہا تھا کہ پولیس کی کارروائی کے دوران ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جبکہ دیگر دو پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس آپریشن میں رینجرز اور فوج کے اہلکاروں نے بھی حصہ لیا جبکہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی آئی جی کے دفترپہنچے اور واقعے کے حوالے سے معلومات لیتے رہے۔
پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ ایک ہیڈ کانسٹیبل اور ایک شہری شہید ہوا اور 15 افراد زخمی ہوئے، جن میں پولیس اور رینجرز اہلکار بھی شامل تھے۔
دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی سربراہی کرنے والے پولیس افسران میں شامل ڈی آئی جی ایسٹ زون مقدس حیدر نے بتایا کہ مجموعی طور پر 3 حملہ آور تھے، جو انڈس کرولا کار میں تین بیگز میں کھانے پینے کی چیزوں کے ساتھ آئے تھے۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) نے ترجمان محمد خراسانی کی جانب سے کیے گئے میسج میں کراچی میں پولیس چیف کے دفتر پر حملے کی ذمے داری قبول کر لی تھی۔
اس سے قبل 2011 میں پی این ایس مہران پر بھی کالعدم ٹی ٹی پی نے حملہ کیا تھا اور اس وقت 17 گھنٹے کے آپریشن کے بعد پی این ایس مہران کو دہشت گردوں سے کلیئر کرایا گیا تھا۔
اس حملے میں 10 سیکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے تھے اور دہشت گردوں نے امریکا کے تیارہ کردہ دو طیارے تباہ کردیے تھے۔
مذکورہ واقعے کے تین سال بعد دہشت گردوں نے 8 جون 2014 کو کراچی ایئرپورٹ پر حملہ کیا تھا جس میں 24 افراد شہید ہو گئے تھے اور املاک کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تھا اور اسی حملے کے بعد دہشت گردوں کے خلاف 15 جون کو آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا تھا۔


مشہور خبریں۔
محبوبہ مفتی کا راہل گاندھی کے نام خط
?️ 22 جولائی 2025سرینگر: (سچ خبریں) مقبوضہ جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ
جولائی
پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی میں اب سیاسی لوگ ہیں جو اچھی بات ہے. ندیم افضل چن
?️ 17 دسمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم
دسمبر
کیا بائیڈن روس کے لیے بہتر ہیں؟
?️ 25 فروری 2024سچ خبریں:روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے گزشتہ روز امریکی صدر جو
فروری
ارمینیا میں امریکی ڈیٹا سینٹر؛ خفیہ مقاصد اور بڑھتے توانائی بحران پر سوالات
?️ 13 ستمبر 2026سچ خبریں:ارمینیا کے شہر ہرازدان میں امریکی کمپنی فائر برڈ کے جدید
ستمبر
مراد سعید سینیٹ انتخابات کیلئے اہل قرار، اپیلیٹ ٹریبونل نے اپیل منظور کرلی
?️ 26 مارچ 2024پشاور: (سچ خبریں) پشاور کی اپیلیٹ ٹربیونل نے رہنما پاکستان تحریک انصاف
مارچ
ریاض میں ایرانی سفارت خانے کے دروازے کئی سال بعد کھل گئے
?️ 13 اپریل 2023سچ خبریں:روئٹرز خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ سات سال بعد
اپریل
۲۱ ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کی مذمت
?️ 22 اگست 2025۲۱ ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کی
اگست
غزہ جنگ میں ہلاکتیں صہیونیوں کو عوام میں ہمرس خریدنے پر مجبور کرتی ہیں
?️ 21 جولائی 2025سچ خبرین: اسرائیلی وزارت دفاع اپنے یونٹوں کو لیس کرنے کے لیے
جولائی