روپے کی قدر میں کمی کا ذمہ دار مسلم لیگ ن ہے

شوکت ترین

?️

اسلام آباد (سچ خبریں) قومی اسمبلی میںروپے کی قدر میں کمی کا ذمہ دار مسلم لیگ ن کو ٹہراتے ہوئے کہا کہ  ایکسچینج ریٹ پالیسی کی وجہ سے60 ارب ڈالراس ملک سے ڈرین ہوگئے اور پیپلزپارٹی 25 ارب ڈالرزکی ایکسپورٹس چھوڑکرگئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مفتاح اسماعیل نے روپے کی قدر کو گرایا، ٹیکسیشن کی یہ بات نہ کریں،گروتھ ریٹ کم ہوتوٹیکسیشن گرتی ہے، ہم گروتھ ریٹ کو 5 فیصد پر لے کر جائیں گے، ہم ٹیکس کے ہدف کو نہ صرف مکمل بلکہ اس سےزیادہ جمع کریں گے۔

ان کا کہنا تھاکہ کتنے ماہ سے عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہیں بڑھائیں، عمران خان غریب آدمی پر بوجھ نہیں ڈالیں گے، ہم نے غریب کیلئے عملی منصوبہ دے دیا ہے، عمران خان آئی ایم ایف کے سامنے کھڑے ہوگئے ہیں،۔ شوکت ترین نے کہا کہ کورونا کے باوجود پاکستان کی گروتھ بڑھی، کرنٹ اکاؤنٹ ابھی بھی سرپلس ہے، ہم نےایڈوائزری کونسل بنائی،22 وزارتیں ہیں جس نے اسٹریٹیجک پلاننگ کی، اسٹریٹیجک پلاننگ ماضی میں توبالکل چھوڑ دی گئی تھی، ہماری برآمدات بڑھیں گی اوردرآمدات کم ہوں گی، حکومت جب کوئی وعدہ کرتی ہے تو اس کو پورا کرتی ہے۔
اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیرخزانہ کا کہنا تھاکہ ہم مسائل سےگھبراتےنہیں ہیں، یہ لوگ اپنے گریبان میں جھانکیں، یہ عوام کی بات کرتے ہیں، یہ آئی ایم ایف کی بات کرتے ہیں، کیا ان کی حکومتیں آئی ایم ایف کے پاس نہیں گئیں؟ انہوں نے 60 ارب ڈالرز کا ٹیکا لگایا، اگر یہ چیلنج کرنا چاہتے ہیں تو میں ان کو کاغذ دکھاؤں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی ایکسپورٹ گری، اس کی وجہ سے آئی ایم ایف آئی، آئی ایم ایف آپ کی وجہ سے آئی۔
شوکت ترین کا کہنا تھاکہ ایف بی آر میں اصلاحات کر رہے ہیں، ٹیکس ڈیفالٹرز کی گرفتاری کا اختیار مجھ سمیت دو دیگر افراد کے پاس ہوگا، ہدف سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کریں گے، اس سال 4700 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس جمع کریں گے اور اگلے سال 5800 ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کریں گے۔ اسی طرح وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے گزشتہ روز نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دو روز قبل آئی ایم ایف سے بات چیت ہوئی، آئی ایم ایف سے کہا سرکلرڈیٹ اور پاورسیکٹر کو ٹھیک کریں گے، بجلی ٹیرف بڑھایا تو لوگ سڑکوں پر آجائیں گے۔
انہوں نے بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پانے سے متعلق بتایا کہ ابھی تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح کم ہے، ایک ہفتے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل ہو جائےگا۔ مزید برآں انہوں نے بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ پاور سیکٹر میں صلاحیتی ادائیگی کا مسئلہ ہے اس کی وجہ سے 900 ارب روپے ہم اس مد میں ادا کررہے ہیں جو ہم استعمال بھی نہیں کرتے تاہم ٹیرف میں کوئی اضافہ نہیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ حکومت نے آئی ایم ایف کو کہہ دیا ہے کہ غریب عوام پر ہم بوجھ نہیں ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس نقصان کو کم کرنے کیلئے ان پاور پلانٹس کی انتظامیہ تبدیل کردی ہے، اسے کنٹریکٹ پر دینے کی کوشش کریں گے تاکہ نقصانات کم ہوں، یہ بہت بڑا چیلنج ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ 2018-2019 کے درمیان نمو کم ہوکر 2 فیصد تک آگئی تھی تاہم عمران خان صاحب نے سخت فیصلے کیے جس میں سے ایک تعمیرات کے شعبے کو بڑھاوا دینا ہے، یہ بہت بڑا قدم تھا، اس میں قوانین کو درست کرنے کی ضرورت تھی، مارک اپ کی شرح کم کرنی تھی اور آئی ایم ایف سے مراعات حاصل کرنی تھیں۔

مشہور خبریں۔

توہین عدالت کیس: ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، ایس ایس پی آپریشنز سمیت دیگر افسران پر فرد جرم عائد

?️ 7 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ نے دارالحکومت کے ڈپٹی کمشنر

نیتن یاہو معاملات پر اپنا کنٹرول کھو چکے ہیں: اسرائیلی تجزیہ نگار

?️ 16 جون 2023سچ خبریں:صیہونی حکمت عملی ساز اور دبئی گروپ کمپنی کے بانی اور

پاکستان ترقی کی بلند رفتار اور روزگار کی سطح کو برقرار رکھے گا: وزیر اعظم

?️ 21 جنوری 2022اسلام آباد ( سچ خبریں ) وزیراعظم عمران خان نے جی ڈی

مغربی کنارے میں صیہونی جارحیت کے خلاف جدہ میں او آئی سی کا ہنگامی اجلاس

?️ 23 فروری 2026سچ خبریں:اسلامی تعاون تنظیم نے مغربی کنارے میں فلسطینی اراضی کو سرکاری

ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے بعد نیا بجٹ اب ٹیکس شرحوں میں اضافے پر مرکوز ہوگا

?️ 10 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) محدود گنجائش کے باعث نئے ٹیکس اقدامات کے

عمران خان کی گرفتاری کا معاملہ آسان ہو گیا

?️ 23 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) ‏وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ ہماری

پی ٹی آئی اب مضبوط ترین پارٹی بن کر ابھرے گی

?️ 17 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی رہائی کیلئے اقوام متحدہ سے رجوع

?️ 13 ستمبر 2025نیو یارک: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے پیٹرن انچیف عمران خان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے