?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ریاست کے خلاف کھڑے ہونےوالے دہشت گردوں کو نہ کوئی ڈھیل دی جائے گی اور نہ ہی ان سے مذاکرات ہونگے، پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ میں نہیں آنا تو استعفی دے دینا چاہیے، انہیں بالکل ملک کی فکر نہیں ان کو بس اپنے لیڈر کی فکر ہے.
رپورٹ کے مطابق رانا ثنا اللہ نے کہا کہ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی اجلاس میں عسکری اور سیاسی قیادت نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا کہ دہشت گردی کو کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی دہشت گردوں سے کسی قسم کے مذاکرات ممکن ہیں.
ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بلوچستان کے زمینی حقائق اور اس کے بنیادی مسائل سے کوئی انکار نہیں لیکن ان مسائل کو جواز بنا کر دہشت گردی سے منسلک یا اس کی وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا دہشت گردوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت یا مذاکرات نہیں ہونگے دہشت گردی ایک جرم ہے اس کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا.
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے دوسرے مسائل حقیقی ہیں انہیں حل کرنا بھی ضروری ہے ،لاپتہ افراد کا مسئلہ حقیقی ہے اس کو حل کیا جانا چاہیے لیکن ایسے مسائل کو دہشت گردی کے ساتھ رکھ کر حل نہیں کرنا چاہیے، یہ تاثر دینا کہ بلوچستان کے دیگر مسائل کی وجہ سے دہشت گردی ہورہی ہے تو یہ غلط ہے. انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ میں نہیں آنا تو انہیں استعفی دے دینا چاہیے، انہیں اجلاس میں شریک ہونا چاہیے تھا انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اسمبلی سے تنخواہیں چاہئیں اور باقی یہ اسمبلی نہیں آتے، پی ٹی آئی کو بالکل ملک کی فکر نہیں ان کو بس اپنے لیڈر کی فکر ہے انہوں نے کہا کہ اجلاس کیلئے پارلیمان میں موجود جماعتوں کے ارکان کی تعداد کا تعین کیا گیا، اجلاس میں نواز شریف کی پارٹی کی بھرپور نمائندگی موجود تھی نوازشریف اجلاس میں آتے تب بھی ٹھیک تھا نہ آتے تب بھی ٹھیک تھا وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلی پنجاب مریم نواز اجلاس میں موجود تھے.
رانا ثنااللہ نے کہا کہ جعفر ایکسپریس واقعے کے بعد جو بیانیہ بھارتی میڈیا کا تھا وہی ایک سیاسی جماعت کا تھا، سمجھ نہیں آرہی تھی کہ بھارتی میڈیا سیاسی جماعت کے بیانیے کی حمایت کررہا ہے نون لیگی راہنمانے کہا کہ پی ٹی آئی نے پہلے اجلاس کیلئے 14 لوگوں کے نام دیے کہا ہم آئیں گے، پی ٹی آئی نے رات میں مزید 3 لوگوں کے نام شامل کرائے، میرے خیال میں سحری کے بعد ان کو خیال آیا کہ اجلاس میں نہیں جانا، پی ٹی آئی اجلاس میں آتی اور اپنا موقف رکھتی تو یہ اچھی بات ہوتی مولانافضل الرحمان سمیت تمام سیاسی پارٹی اجلاس میں موجود تھیں سب متفق تھے کہ دہشت گردی کا کوئی جوازنہیں ہے ان کا کہنا تھا کہ گورننس سے متعلق آرمی چیف کی بات سول اداروں سے متعلق تھی، بلوچستان میں پولیس، سی ٹی ڈی اور دوسرے اداروں کو مضبوط کرنا چاہیے.


مشہور خبریں۔
عراق کے سیاسی عمل سے صدر تحریک کی علیحدگی یا واپسی کی حکمت عملی
?️ 28 مارچ 2024سچ خبریں: عراقی شیعہ تحریک کے رہنماوں میں سے ایک مقتدی صدر
مارچ
اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل تیسرے روز شدید مندی، انڈیکس میں 1124 پوائنٹس کی کمی
?️ 20 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل دوسرے روز سے
دسمبر
خوبصورتی میں پاکستان جیسا شائد ہی کوئی ملک ہو: وزیراعظم
?️ 28 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں
جون
پاکستان: کابل الزامات لگانے کے بجائے انسداد دہشت گردی کے وعدے پورے کرے
?️ 18 اکتوبر 2025سچ خبریں: پاکستانی وزارت خارجہ نے حالیہ سرحدی حملوں پر تشویش کا
اکتوبر
بھارت اور پاکستان کے تمام مسائل کے حل کے لئے مذاکرات ضروری ہیں:اسد عمر
?️ 26 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں)وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ بھارت
اکتوبر
صیہونی حکومت خوف و ہراس کے عالم میں
?️ 30 اپریل 2022سچ خبریں:مغربی ایشیا کی صورتحال کے ماہر نے یہ بیان کرتے ہوئے
اپریل
وزیر اعظم یا صدر،عراق میں کون سا معاملہ پہلے حل ہوگا
?️ 21 نومبر 2025وزیر اعظم یا صدر،عراق میں کون سا معاملہ پہلے حل ہوگا عراق
نومبر
سیکیورٹی فورسز کے عزم اورحوصلے کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں: وزیر داخلہ
?️ 3 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں)وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشیدنے سیکیورٹی فورسز کے عزم
فروری