حکومتی وفد اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر میں حتمی معاہدہ، مظاہرین کی گھروں کو واپسی

?️

مظفر آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت کے مذاکراتی وفد نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی آزاد جموں و کشمیر کے ساتھ حتمی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔

حکومت کے مذاکراتی وفد کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے کہ مظاہرین اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں، تمام سڑکیں کھل گئی ہیں، اور یہ امن کی فتح ہے، آزاد کشمیر زندہ باد۔ پاکستان پائندہ باد۔

سازشیں اور افواہیں آخر کار دم توڑ گئیں، وزیراعظم

دوسری جانب وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے آزاد کشمیر میں مذاکرتی عمل کی کامیابی، حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔

وزیراعظم نے مذاکراتی کمیٹی کے اراکین کو خراج تحسین پیش کیا، اراکین کی انفرادی اور اجتماعی کاوشوں کو سراہتے ہوئے بھرپور شاباش دی۔

وزیر اعظم نے اسے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کی بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ امن کا قیام اور حالات کا معمول پر آ جانا خوش آئند ہے۔

انہوں نے کہا کہ سازشیں اور افواہیں آخر کار دم توڑ گئیں اور تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل ہوئے الحمدللہ، انہوں نے مذاکرات کی کامیابی پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اراکین کا بھی شکریہ ادا کیا اور امن کے قیام پر مبارکباد دی۔

وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت اپنے کشمیری بھائیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے، عوامی مفاد اور امن ہماری ترجیح ہے اور آزاد کشمیر کی خدمت کرتے رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیری بھائیوں سے گزارش ہے کہ افواہوں پر کان دھرنے سے گریز کریں. ہم پہلے بھی کشمیری بہن بھائیوں کے حقوق کے محافظ تھے اور آئندہ بھی ان کے حقوق کا تحفظ کرتے رہیں گے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ آزاد کشمیر کے مسائل پر ہمیشہ توجہ رہی ہے اور میری حکومت نے ہمیشہ ترجیح بنیادوں پر ان مسائل کو حل کیا ہے۔

یاد رہے کہ 3 روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران مواصلاتی بلیک آؤٹ نے آزاد کشمیر کو مفلوج کر دیا تھا۔

مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) اپنے مطالبات پر بضد تھی، پچھلے ہفتے عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی وزرا کے ساتھ مذاکرات کے دوران اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں سے سے متعلق شرائط پر ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا تھا۔

اس کے بعد حریف گروپوں نے مظاہرے کیے اور ایک دوسرے کو اس تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا جس سے بڑے پیمانے پر پُرامن تحریک متاثر ہوئی تھی، تاہم حکومت نے مذاکرات کرکے مظاہرین کے متعدد مطالبات تسلیم کرلیے تھے، اور جن مطالبات کے لیے آئینی ترامیم درکار ہیں، ان پر مزید کچھ وقت بعد عمل در آمد کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

مشہور خبریں۔

عمران خان نے نور مقدم کیس کے سوال کا کیا جواب دیا

?️ 1 اگست 2021اسلام آباد ( سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان

السوڈانی کا عراقی فوج کی جنگی سطح کو بڑھانے پر زور

?️ 6 جنوری 2024سچ خبریں:اس ملک کی فوج کے قیام کی سالگرہ کے موقع پر

حکومت نے میٹرک اور انٹر کے امتحانات کا اعلان کر دیا

?️ 29 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) نیشنل کنٹرول اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی)

ریابکوف: ایٹمی تصادم کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے

?️ 27 دسمبر 2025سچ خبریں: روس کے نائب وزیر خارجہ نے ایک انٹرویو میں جوہری

کیا پی ٹی آئی ایک دہشت گرد جماعت ہے؟ وفاقی وزیر اطلاعات کی زبانی

?️ 22 جولائی 2024سچ خبریں: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ

بحیرہ احمر میں یمنیوں کےپیچیدہ حملے

?️ 10 جنوری 2024سچ خبریں:امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ یمنیوں نے بحیرہ

یمنی سپریم کونسل کے چیئرمین: ہم سعودی عرب سے یمن پر جارحیت، محاصرہ اور قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں

?️ 14 اکتوبر 2025سچ خبریں: مہدی المشاط نے سعودی حکومت سے جارحیت اور محاصرہ ختم

نیویارک کی کانگریس خاتون: اسرائیل کو حمایت فراہم کرنا بند کرنا ہوگی

?️ 2 اپریل 2026سچ خبریں: نیویارک سے امریکی کانگریس کی رکن الیگزینڈریا اوکازیو کورٹز نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے