جوڈیشل کمیشن 2 دسمبر کو اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کا فیصلہ کرے گا

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری اور وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کے قیام کے بعد جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کا پہلا اجلاس 2 دسمبر کو ہوگا، جس میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کا فیصلہ کیا جائے گا۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ (آئی ایچ سی) کے ایک جج کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے کے ساتھ ساتھ سندھ ہائیکورٹ (ایس ایچ سی) اور بلوچستان ہائیکورٹ (بی ایچ سی) کے چیف جسٹسز کی نامزدگیوں پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔

جے سی پی کا اجلاس دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر سپریم کورٹ کی عمارت اسلام آباد کے کانفرنس روم میں منعقد ہوگا۔

ایجنڈے کی ایک شق کے مطابق آئی ایچ سی کے سینئر ججوں میں سے ایک جج کی سپریم کورٹ میں تقرری پر غور کیا جائے گا، تاہم متعلقہ ججوں کے نام اور ان کی سنیارٹی کا انکشاف بعد میں کیا جائے گا۔

ایف سی سی کے قیام کے بعد سپریم کورٹ کے چار ججز جسٹس امین الدین خان، سید حسن اظہر رضوی، عامر فاروق اور علی باقر نجفی کو نئی آئینی عدالت کے لیے منتخب کیے جانے کے علاوہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفوں کے بعد سپریم کورٹ کے ججوں کی مجموعی تعداد 24 سے کم ہو کر 18 رہ گئی ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں ایف سی سی کے چیف جسٹس امین الدین خان، جسٹس منیب اختر، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، پاکستان بار کونسل کے نمائندے احسن بھون، سینیٹر فاروق حمید نائیک، سینیٹر سید علی ظفر اور اراکین قومی اسمبلی شیخ عاطف احمد اور گوہر علی خان بھی شریک ہوں گے۔

اسی طرح اجلاس کے دوران سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری پر بھی غور کیا جائے گا، جس کے لیے عدلیہ کے تین سینئر ترین جج زیرِ غور ہوں گے۔

اس عہدے کے لیے متوقع ناموں میں قائم مقام چیف جسٹس ظفر احمد راجپوت اور جسٹس محمد اقبال کلہوڑو اور جسٹس محمود اے خان شامل ہیں۔

اسی طرح بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری کے لیے بھی ہائی کورٹ کے 3 سینئر ججوں پر غور کیا جائے گا۔

ان میں بلوچستان ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخئی اور جسٹس اقبال احمد کاکڑ اور جسٹس شوکت علی رخشانی شامل ہیں۔

27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد عدلیہ کے اہم آئینی اور قانونی اداروں میں تبدیلیاں کی گئیں۔

ان تبدیلیوں کے بعد سپریم کورٹ کے جسٹس جمال خان مندوخیل کو سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) اور پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں شامل کیا گیا، جب کہ آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق کو جے سی پی کا رکن بنایا گیا۔

تینوں قانونی اداروں میں، ایس جے سی ججوں کے احتساب کے لیے سب سے بڑا فورم ہے جو ججوں کے خلاف بدانتظامی کے الزامات کی تحقیقات کرتی ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی بینچ تشکیل دیتی ہے اور مقدمات کی سماعت کے لیے تاریخیں مقرر کرتا ہے، جبکہ جے سی پی اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کی ذمہ دار ہے۔

مشہور خبریں۔

آئندہ امریکی انتخابات میں بائیڈن کامستقبل غیر یقینی

?️ 21 نومبر 2021سچ خبریں: جو بائیڈن جو ریاستہائے متحدہ میں سب سے معمر صدر کا

بن گوئیر کی کابینہ میں واپسی اور گولان کا صیہونی حکومت کی کرپٹ کابینہ پرغصہ

?️ 19 مارچ 2025سچ خبریں: بین گویر نے غزہ میں جنگ کے خاتمے اور جنگ

کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے والی عمارتیں تعمیر کرنے کا فیصلہ

?️ 6 دسمبر 2021لندن (سچ خبریں) ماہرین تعمیرات نے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے والی

بینکوں کا مقررہ حد سے زائد کیش ڈپازٹس پر ماہانہ 5 فیصد فیس عائد کرنے کا اعلان

?️ 22 نومبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) کمرشل بینکوں نے حکومت کے عائد کردہ

یمنی انقلاب کا نام آزادی اور تسلط سے نجات ہے؛ یمنی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ

?️ 16 ستمبر 2021سچ خبریں:یمنی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ نے اس ملک کے شہریوں

پاکستان میں بہت زیادہ ٹیلنٹ موجود ہے: زوہا رحمٰن

?️ 2 نومبر 2021لندن (سچ خبریں) پاکستانی نژاد برطانوی اداکارہ زوہا رحمٰن کا کہنا ہے

افغان حکام کا کابل میں موبائل چیک پوسٹوں کا قیام

?️ 31 جولائی 2021سچ خبریں:افغان سکیورٹی فورسز نے اس ملک کے دارالحکومت کابل میں سکیورٹی

نیتن یاہو کے گینگ کی سفید فام بغاوت کا نام کیا ہے ؟

?️ 25 نومبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت نے 2023 میں عدالتی اصلاحات کی وجہ سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے