?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) پنجاب کے نگراں وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے کہا ہے اہم سرکاری و نجی املاک پر حملہ کرنے والے ہر فرد کی تصویر اور ویڈیو موجود ہیں اور ہم ایک ایک کا پیچھا کر رہے ہیں۔
لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم آئی جی کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنارہے ہیں کہ چاہے ہم پر کتنا بھی دباؤ ڈالا جائے ہم ایک بھی فرد کو غلط گرفتار نہیں کریں گے، صرف اصل مجرمان کو پکڑا جائے گا چاہے اس میں ہمیں کتنا ہی وقت لگے۔
خیال رہے کہ 9 مئی کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کے ساتھ ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جس کے دوران اہم عسکری، سرکاری اور نجی عمارتوں اور املاک میں توڑ پھوڑ کی گئی اور انہیں نذرِ آتش کردیا گیا۔
نگراں وزیراعلیٰ کہنا تھا کہ ہمارے پاس ثبوت و شواہد موجود ہیں کہ میانوالی بیس پر کیا گیا حملہ باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا جس میں پلان تھا کہ اندر موجود جہازوں کو جلادیا جائے، ان میں سے کچھ حملہ آوروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ کچھ کو کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پورے پنجاب میں سرکاری و نجی 108 گاڑیاں جلائی گئیں، 23 عمارات کو نقصان پہنچایا گیا جس میں کورکمانڈر ہاؤس، بینکس وغیرہ بھی شامل ہیں۔
میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی 2 ویگو گاڑیاں، 6 ہائی لیکس، 12 بسز، ایک جیل وین، 4 موٹر سائیکلیں اور 2 سنگل کیبن گاڑیاں جلیں، اسی طرح واسا کے ٹرک سمیت 6 گاڑیاں، ریسکیو 1122 کی 8 ایمبولینسز، آڈی کا پورا شوروم جلایا گیا جس میں ایک گاڑی مکمل تباہ ہوئی جبکہ باقی کو نقصان پہنچا، اس کے علاوہ 4 نجی گاڑیاں، 2 ٹرک اور کنٹینرز کو بھی آگ لگائی گئی۔
محسن نقوی نے کہا کہ یہ ایک سیاسی جماعت کا احتجاج تھا جو لبرٹی چوک پر ہوا اور پہلے بھی وہ وہاں احتجاجی مظاہرے کرچکی تھی جو ان کا حق تھا لیکن اس کے بعد وہ سیاسی ورکرز کینٹ پہنچ کر دہشت گردوں میں تبدیل ہوگئے، کیوں کہ جناح ہاؤس پر حملہ سیاسی جماعت کا ورکر نہیں کرسکتا، وہ دہشت گردوں نے کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 400 افراد نے جناح ہاؤس کے اندر حملہ کیا جبکہ 34 نے باہر نقصان پہنچایا۔
نگراں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ میں یہ واضح کردوں کہ ان میں سے جب تک ایک ایک کو گرفتار نہیں کرلیا جائے گا ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے، یہ کوئی عام کیس نہیں ہے، آنے والے وقت میں جو بھی اس کرسی پر ہوگا اس کی ذمہ داری اور فرض ہوگا کہ اس کیس کو انجام تک پہنچائے اور دہشت گردوں کو سزا دلوائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بات کے تمام شواہد موجود ہیں کہ یہ ایک منصوبہ بند حملہ تھا اور پہلے سے بتادیا گیا تھا کہ کن کن مقامات پر کس طرح حملہ ہوگا چاہے وہ جی ایچ کیو ہو، خفیہ ادارے کا فیصل آباد اور پنڈی کے دفاتر، عسکری ٹاور، کورکمانڈر ہاؤس ہو، یہ سب ان کی فہرستوں میں موجود تھا۔
انہوں نے کہا کہ جنہوں نے کور کمانڈر ہاؤس جلایا انہی میں سے ایک ٹیم نے جاکر عسکری ٹاور کو جلایا، ایسا نہیں کہ ایک ہجوم چلا گیا اور اس نے یہ کرلیا بلکہ شواہد ہیں کہ اسی ٹیم نے عسکری ٹاور بھی جلایا۔
محسن نقوی نے کہا کہ مرکزی ملزمان میں نے کچھ پکڑے گئے ہیں کچھ کو گرفتار کیا جائے گا لیکن ایک بات واضح ہے کہ ان میں سے کسی کے ساتھ رعایت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ میانوالی میں فائربریگیڈ کی گاڑیاں، جوڈیشل کمپلیکس، پولیس کی 5 سے 7 گاڑیاں، چوکی نذر آتش کی گئیں، پی اے ایف بیس کو نقصان پہنچا گیا، ایک جنرل پوسٹ آفس، نجی بینک اور ایئرفورس کے نمائشی جہاز کے علاوہ اے ٹی ایم مشین اور پیٹرل پمپس کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ راولپنڈی میں پولیس کی 3 بسوں، قیدیوں کی وینز، 11 پک اپس، ڈبل کیبن وغیرہ کو آگ لگائی گئی جبکہ 2 میٹرو اسٹیشنز کو بھی نذرِ آتش کیا گیا جن کی دوبارہ تعمیر پر ایک ارب روپے لاگت آئے گی۔
نگراں وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ابھی تک 6 ارب روپے سے زائد کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ مزید تخمینہ جاری ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ میانوالی میں حملہ کرنے والے افراد کی اکثریت مسلح تھی، وہ کوئی عام لوگ نہیں تھے، انہوں نے وہاں فائرنگ بھی کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ تمام مقامات وہ تھے جو طالبان کی ہٹ لسٹ پر تھے، جن کو طالبان نشانہ بنانا چاہتے تھے اور کچھ پر حملے کیے بھی جاچکے تھے، انہی کو ہدف بنایا گیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ حملہ آوروں کی گرفتاری ہماری ذمہ داری ہے اور ہمارا مقصد ہے کہ ان کا ٹرائل جلد از جلد کرایا جائے، ہم تمام کام چھوڑ کر اسی کام پر لگے ہوئے ہیں، یہ عام چیز نہیں ہے، اسے کوئی رنگ دینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تفتیش جاری ہے، ہم نے معلومات اکٹھی کرنے کے لیے جو اشتہار دیا اور نمبر فراہم کیا اس پر عوام کی جانب سے بھرپور ردِعمل موصول ہوا ہے، ہمیں اچھی معلومات مل رہی ہیں ہم اس کے حساب سے چلیں گے اور جیسے جیسے شواہد ملتے جائیں گے ہم لوگوں کے قریب پہنچتے جائیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم خواتین کا احترام کرنا چاہ رہے ہیں، ابتدا میں انہیں ایم پی او پر گرفتار کر رہے تھے، کل یاسمین راشد کی طبیعت خراب ہوئی تو انہیں ہسپتال لے گئے تاکہ ایسی کوئی چیز نہ ہو کہ کوئی وکٹمائز ہوجائے۔
انہوں نے کہا کہ ان تمام واقعات میں یاسمین راشد ایک مرکزی کردار ہیں، میرے خیال میں عدلیہ کو یہ کیسز غیر متعلقہ نہیں لگیں گے کیونکہ عدلیہ کو بھی اتنی ہی تشویش ہوگی جتنی ہمیں ہے اور یہ سب کے لیے اتنا اہم واقعہ ہے جتنا میرے لیے ہے۔
نگراں وزیراعلیٰ پنجاب نے خبردار کیا کہ اگر مظاہرین میں سے کوئی بھی کسی سرکاری عمارت میں داخل ہوا تو پولیس اس کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔
انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے قبل، انہوں نے پولیس اہلکاروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ پی ٹی آئی کے کسی حامی پر گولی نہ چلائیں، حالانکہ ’پولیس اہلکاروں کی طرف سے شکایات موصول ہوئی تھیں کہ انہیں پتھر کھانے کے لیے بھیجا جا رہا ہے‘۔
محسن نقوی نے متنبہ کیا کہ گزشتہ کچھ دنوں کے واقعات کے بعد پالیسی اب واضح ہے کہ پولیس ’اگر کوئی کسی سرکاری عمارت میں داخل ہوا تو قانون کے ذریعے انہیں حاصل اختیارات کے مطابق کارروائی کرے گی‘۔


مشہور خبریں۔
کتنے فیصد صیہونی نیتن یاہو کو چاہتے ہیں؟
?️ 2 مئی 2024سچ خبریں: ایک سروے کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ نصف
مئی
روس کا سومی پر حملہ؛ یوکرین بحران پر امریکہ-نیٹو میں بڑھتی خلیج اور کریملن کی برتری
?️ 21 اپریل 2025 سچ خبریں:ماسکو-واشنگٹن مذاکرات کے درمیان سومی پر روسی حملہ سفارتی منظرنامے
اپریل
غزہ کو امداد کی فراہمی میں رکاوٹ کا ذمہ دار کون ہے؟برطانوی وزیر اعظم کا دعویٰ
?️ 24 اکتوبر 2024سچ خبریں: برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن
اکتوبر
وزیر خارجہ نے یورپی پارلیمان میں منظور کردہ قرارداد کو مایوس کن قرار دیا
?️ 26 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) یورپی یونین کی خارجہ امور کمیٹی کے ساتھ ورچوئل
مئی
پنجاب حکومت کا فتنہ فساد پھیلانے والوں کے خلاف بڑا اعلان
?️ 16 اکتوبر 2025لاہور (سچ خبریں) تشدد، فتنہ فساد اور خون ریزی کی سیاست کا
اکتوبر
صیہونی انتخابات؛خونی ووٹوں سے جنگ تک،کارٹون
?️ 3 نومبر 2022سچ خبریں:عرب ذرائع ابلاغ نے کارٹونز کی زبان میں صیہونی حکومت کی
نومبر
ایک نہتے انسان کا ٹینک کے ساتھ مقابلہ؛ دنیا کی انوکھی تصویر
?️ 29 دسمبر 2024سچ خبریں:صہیونی ریاست کی غزہ پر جارحیت کے 440 سے زائد دن
دسمبر
ترکی اور اسرائیلی حکومت کے لیے دو اہم علاقائی چیلنجز پر ایک نظر
?️ 21 ستمبر 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت کے حکام امریکی دباؤ کے ذریعے شام کے
ستمبر