?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) جنوبی ایشیا کی موجودہ صورت حال اور ایران کی جانب سے کشیدگی کو کم کرنے میں مدد کی پیشکش کے تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ کا حالیہ دورہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اسلام آباد پہنچنے پر اعلیٰ پاکستانی حکام اور پاکستان میں ایرانی سفیر نے ان کا استقبال کیا۔
بیان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ پاکستان کے صدر، وزیر اعظم اور نائب وزیر اعظم سمیت پاکستانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاکستان کے دورے کے دوران عباس عراقچی پاکستان کے اعلیٰ حکام سے خطے کی حالیہ صورت حال پر بات چیت کریں گے۔
ان کی ورکنگ ملاقاتوں کا سلسلہ پاکستانی فوج کے چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کے ساتھ شروع ہو گا۔
خیال رہے کہ 26 اپریل کو، سید عباس عراقچی نے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کے ساتھ بات چیت میں، دہلی اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں مدد کے لیے ایران کے تعاون کی پیشکش کی تھی۔
پاکستان اور بھارت کی فوجی قوت ایک نظر میں
پاکستانی وزارت خارجہ نے اس سے قبل ایک بیان میں کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ پاک ایران مستحکم تعلقات کا عکاس ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی رواں ہفتے ہی بھارت کا سرکاری دورہ بھی کریں گے۔ حالانکہ وہ پاکستان کے دورے کے بعد پہلے تہران واپس آئیں گے۔
عباس عراقچی کا بھارت کا مجوزہ دورہ
پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اس ہفتے کے آخر میں بھارت کا دورہ بھی کرنے والے ہیں۔
عراقچی کے بھارت کا دورہ کئی ہفتے پہلے ہی بنایا گیا تھا۔ لیکن پاکستان کے دورے کے بعد بھارت کا ان کا دورہ ایک اضافی سفارتی مشن بن گیا ہے، کیونکہ ایران نے دو ‘برادر ہمسایہ ممالک’ کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے۔
پہلگام حملے کے فوراﹰ بعد، ایران نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی تھی، لیکن بھارت نے فوری طور پر یہ کہتے ہوئے اسے مسترد کر دیا کہ وہ اس معاملے کو خود ہی نمٹانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
عراقچی نے پچیس اپریل کو ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ تہران "اس مشکل وقت میں زیادہ افہام و تفہیم پیدا کرنے کے لیے اسلام آباد اور نئی دہلی میں اپنے اچھے تعلقات کو استعمال کرنے کے لیے تیار ہے ۔”
عراقچی نے گزشتہ ہفتے بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر اور پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر بات کی تھی، جب کہ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو فون کرکے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت اور اظہار تعزیت کیا، اور شہباز شریف سے پاک بھارت کشیدگی کے بارے میں بات کی تھی۔
بھارتی وزارت خارجہ نے ثالثی یا کشیدگی کو کم کرنے کی پیش کش کا ابھی تک، جواب نہیں دیا ہے۔
بھارت نے دو طرفہ مسائل پر تیسرے فریق کی ثالثی کے مطالبات کو ہمیشہ مسترد کیا ہے، حالانکہ بھارت-پاکستان بیک چینل بات چیت کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سمیت متعدد ممالک نے سہولت فراہم کی ہے۔
نئی دہلی کے اپنے دورے کے دوران عراقچی اور جے شنکر اقتصادی تعاون پر مشترکہ کمیشن کی میٹنگ کی صدارت کریں گے۔


مشہور خبریں۔
امریکہ جمہوریت کانفرانس کے ذریعہ دنیا میں تفرقہ پھیلا رہا ہے:چین
?️ 29 مارچ 2023سچ خبریں:چینی وزارت خارجہ نے امریکہ سے کہا کہ وہ جمہوریت کے
مارچ
دوستی سب سے غلامی کسی کی نہیں:عمران خان
?️ 17 اپریل 2022کراچی(سچ خبریں)عمران خان کا کہنا ہے کہ بہت بڑے سطح پر ہمارے
اپریل
نابلس میں فائرنگ سے سینئر صہیونی کمانڈر زخمی
?️ 30 جون 2022سچ خبریں: گزشتہ شب بدھ کی رات سینکڑوں صیہونیوں نے مغربی کنارے
جون
رفح پر اسرائیلی فوج کے رفح پر وسیع زمینی، ہوائی اور بحری حملے
?️ 15 جون 2024سچ خبریں: اسرائیلی فوج نے آج صبح جنوبی غزہ کی پٹی میں
جون
پیوٹن اور ٹرمپ کی ملاقات کا ایران-امریکہ مذاکرات پر اثر
?️ 18 اگست 2025سچ خبریں: لبنانی ماہر روسی امور، احمد الحاج علی کا کہنا ہے
اگست
سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے سے متعلق فیصلہ آج بھی نہ ہوسکا
?️ 27 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن میں سنی اتحاد کونسل کی خصوصی
فروری
اسرائیل کا فلسطینیوں کے خلاف جرائم کا سلسلہ جاری
?️ 23 جولائی 2025سچ خبریں: تل آویو کے سابق فوجی افسر اور صیہونی ریژیم کے ڈیموکریٹک
جولائی
"زنگزور” کوریڈور کے لیے امریکہ کا منصوبہ اور سفارتی اسٹیبلشمنٹ کو وارننگ
?️ 17 جولائی 2025 سچ خبریں: جنوبی قفقاز کا خطہ صدیوں سے ایران، روس اور
جولائی