?️
اسلام آباد ( سچ خبریں ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی حکومت پر نکتہ چینی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، اپوزیشن کا کام صرف حکومت پر نکتہ چینی ہے، پارلیمنٹ کا فورم بہت اہم ہے لیکن بدقسمتی سے ہم اس فورم میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں الجھ جاتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق میڈیا سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کشمیر میں الیکشن لڑ رہی ہے، اس کا کام ہم پر نکتہ چینی ہے اور ضرور کرے لیکن اس کی حدود و قیود ہوتی ہیں، جسے عبور نہیں کرنا چاہیے ، کشمیر پر ہمارا موقف بڑا واضح ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم انتخابی سیاست میں حکومت کو نیچا دکھانے کے لیے پاکستان کے مفادات کو قربان کرنے کے لیے بھی تیار ہوجاتے ہیں، ملک کی سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کے باوجود مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہم آہنگی ہے اور ایسا ہی رہنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا ایک ہی موقف رہا ہے، ہماری پارلیمنٹ نے اس حوالے سے متفقہ قراردادیں پیش کی ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر بریفنگ کے لیے ملک کی سیاسی جماعتوں کے قائدین کو دفتر خارجہ کے دورے کی دعوت دیتے رہے ہیں، انہوں نے پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے قومی دفاع کے اجلاس میں کشمیر اور افغانستان سے متعلق اپنا موقف پیش کیا ، اس کے علاوہ ایک خصوصی اجلاس بھی بلایا گیا جس میں تمام پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان موجود تھے۔
اس جلاس میں ڈی جی آئی ایس آئی نے تفصیلی طور پر آگاہ کیا تھا، قوم کو افغانستان اور کشمیر کے معاملے پرساتھ لے کر چلنے کی ہماری کوشش جاری رہے گی ، ہمیں اس معاملے پر سمجھداری سے آگے بڑھنا ہے، انتخابات کے دوران وقتی طور پر ایک سیاسی ابال آتا ہے، اس میں سخت جملے بھی کہے جاتے ہیں، کوشش کی جانی چاہیے کہ اس سے پرہیز کیا جائے، اپنے امیدوار کی حمایت ہر سیاسی جماعت کا حق ہے لیکن ذاتی حملوں اور ایسی باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے جس سے پاکستان کا موقف کمزور پڑے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کا فورم بہت اہم ہے لیکن بدقسمتی سے ہم اس فورم میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں الجھ جاتے ہیں، بحث موضوع سے ہٹ کر ذاتیات پر آجاتی ہے ، اس کا فائدہ پاکستان کے مخالفین اٹھاتے ہیں، اپوزیشن کا یقینی طور پر افغانستان کے مسئلے پر نکتہ نظر ہوگا، ان کے پاس کوئی حل ہے تو بتائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کے معاملے پر نکتی چینی ضرور کیجیے لیکن حل بھی بتایئے کہ موجودہ حالات میں ہمارے پاس کون سے آپشن ہیں ، اگر ہم مسائل کے حل پر بات کریں تو یہ بہتر ہوگا، ایک دوسرے کو غدار کہنے کا فائدہ نہیں ہے۔


مشہور خبریں۔
کیا ہوسکتا ہے کہ ٹرمپ جیل نہ جائیں؟
?️ 24 اگست 2023سچ خبریں: امریکی قانونی ماہرین نے ڈونلڈ ٹرمپ کو جیل نہ بھیجنے
اگست
لاکھوں یمنی بھوک اور افلاس کے خطرے سے دوچار
?️ 16 مارچ 2022سچ خبریں:ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یمن میں قحط یا
مارچ
پاکستان میں بانڈز‘ حصص اور دیگر ذرائع میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع اور ڈیویڈنڈ کی واپسی دوگنا ہوگئی
?️ 20 ستمبر 2025کراچی: (سچ خبریں) پاکستان میں بانڈز‘ حصص اور دیگر ذرائع میں غیر
ستمبر
قابض صیہونی فلسطینیوں کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے:عراقی رہنما
?️ 7 اگست 2022سچ خبریں:عراق کی قومی حکمت تحریک کے رہنما نے غزہ میں ہونے
اگست
ریاض اور صیہونی حکومت کے تعلقات کا فلسطینی ریاست کی تشکیل پر کوئی اثر نہیں
?️ 2 اکتوبر 2023سچ خبریں:عبدالرحمن الراشد نے بتایا کہ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ
اکتوبر
ہندوستان اچانک روسی خام تیل کی درآمد کو کیوں نہیں روک سکتا؟
?️ 20 اکتوبر 2025ہندوستان اچانک روسی خام تیل کی درآمد کو کیوں نہیں روک سکتا؟
اکتوبر
جنگ بندی سے حماس مزید مضبوط ہو رہی ہے:صیہونی میڈیا
?️ 16 مارچ 2025 سچ خبریں:اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونٹ نے صہیونی سکیورٹی ذرائع کے حوالے
مارچ
۱۲ روزہ جنگ مین سب سے بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا:اسرائیلی تجزیہ کار
?️ 26 نومبر 2025 ۱۲ روزہ جنگ مین سب سے بڑی شکست کا سامنا کرنا
نومبر