آئی ایم ایف کی گورننس اور بدعنوانی کی تشخیصی رپورٹ میں مالیاتی بدنظمی پر کڑی تنقید

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) اپنا 24واں پروگرام بنیادی طور پر وزارتِ خزانہ کے ساتھ چلانے کے باوجود اب بھی پاکستان کے کمزور مالیاتی نظم و نسق، نقدی کی نگرانی اور سرکاری وسائل کی تقسیم کے احتساب سے مطمئن نہیں ہے، اور اس نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکس دہندگان کے پیسے کے انفرادی یا سیاسی مقاصد کے لیے غلط استعمال کو کم سے کم کرنے کے لیے سنگل ٹریژری اکاؤنٹ (ٹی ایس اے) کے بہاؤ میں مالی نظم و ضبط اور شفافیت بہتر بنائی جائے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے اپنی گورننس اور بدعنوانی کی تشخیصی رپورٹ (جی سی ڈی اے) میں کہا کہ گزشتہ 2 برسوں میں کچھ بہتری کے باوجود، پاکستان مسلسل کمزور بجٹ کی ساکھ کا شکار رہا ہے، جس نے کئی بڑے گورننس مسائل کو جنم دیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عوامی سرمایہ کاری کے انتظام میں متعدد خامیاں موجود ہیں، جن کے باعث منصوبوں کی طویل مدت تک فنڈنگ برقرار نہیں رہتی، منصوبے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں اور لاگت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔

آئی ایم ایف نے 3 سے 6 ماہ کے اندر فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ٹی ایس اے کے ادارہ جاتی دائرہ کار سے متعلق فیصلہ سازی کو یکجا کرتے ہوئے نقدی کے مؤثر انتظام کو بہتر بنایا جائے، تجزیاتی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے اور نقدی کے اندازوں کے لیے مستقبل بینی پر مبنی طریقہ اپنایا جائے۔

بدعنوانی اور نااہلی، فوری اقدامات کا مطالبہ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صورتحال کو ایک کمزور ٹی ایس اے فریم ورک نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس میں ادارہ جاتی حدود کا کوئی واضح فیصلہ موجود نہیں، اور یہی بات حکومت کے نقدی بیلنس پر مؤثر کنٹرول کو کمزور کرتی ہے۔

آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق قرض کے انتظام کا موجودہ نظام کئی اداروں پر مشتمل ہے، جن کے اختیارات اور ذمہ داریاں ایک دوسرے سے اوپر نیچے ہوتی ہیں، جس سے فیصلہ سازی اور ہم آہنگی مشکل ہو جاتی ہے، نگرانی اور احتساب کے طریقہ کار، خصوصاً مالی و غیر مالی اثاثوں اور سرکاری ملکیتی اداروں کے انتظام میں کمزور ہیں۔

رپورٹ کے مطابق وہ ادارے جو بجٹ کے وسائل استعمال کرتے ہیں، مگر روایتی مالیاتی احتساب کے دائرے سے باہر کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، ریاستی اداروں کو کمزور کرتے ہیں اور بدعنوانی کے خطرات بڑھاتے ہیں۔

مزید برآں، مالی اور معاشی طرزِ حکمرانی کی کمزوریاں رسمی پالیسی اور عملی صورتحال کے درمیان مستقل فرق کی عکاسی کرتی ہیں، جو سرکاری اختیارات کے نجی مفاد میں استعمال کے امکانات پیدا کرتی ہیں۔

رپورٹ کہتی ہے کہ پارلیمانی نگرانی بھی اس وجہ سے کمزور ہو چکی ہے کہ منظور شدہ بجٹ اور حقیقی اخراجات میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے، مثال کے طور پر قومی اسمبلی نے 25-2024 میں 9 کھرب 40 ارب روپے کے اضافی اخراجات کی منظوری دی، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ ہے۔

اس کے علاوہ، قانون سازوں کے براہِ راست اختیار میں موجود حلقہ جاتی ترقیاتی فنڈز سرمایہ کاری کے توازن کو مزید بگاڑتے ہیں اور نگرانی کو پیچیدہ کرتے ہیں، نقدی، قرض، اور ریاستی مالی و غیر مالی اثاثوں کے انتظام کے موجودہ انتظامات ناکافی ہیں، جو سرکاری عہدیداروں کو حد سے زیادہ صوابدید فراہم کرتے ہیں۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ ایک کمزور ٹی ایس اے فریم ورک، جس میں ادارہ جاتی حدود کے واضح فیصلے کا فقدان ہے، حکومت کے نقدی بیلنس پر مؤثر کنٹرول کو کمزور کرتا ہے، جس کے نتیجے میں عوامی فنڈز کے غیر مؤثر استعمال اور مجموعی بجٹ اختیار کمزور ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

مختلف اکاؤنٹس میں بکھری ہوئی نقدی کی صورت حال سے غیر ضروری بیلنس پیدا ہو جاتے ہیں جنہیں حکومتی ترجیحات کے لیے مؤثر طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید یہ کہ شفافیت کے فقدان کے باعث وفاقی بجٹ کے لیے ممکنہ طور پر سود کی ایسی آمدن کے بارے میں سوالات جنم لیتے ہیں، جو ضائع ہو سکتی ہے، یہ واضح نہیں کہ تجارتی بینکوں میں وفاقی اداروں کے اکاؤنٹس پر ملنے والا سود کس کو جاتا ہے، اور کیا یہ آمدن قومی بجٹ میں شامل ہوتی ہے یا نہیں۔

آئی ایم ایف نے کہا اور زور دیا کہ ان کمزوریوں کا حل مالیاتی نظم و ضبط مضبوط کرنے، بدعنوانی کے خطرات کم کرنے اور سرکاری مالیاتی انتظام کاری کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔

آئی ایم ایف نے تسلیم کیا کہ وزارت خزانہ نے نقدی اور قرض کے انتظام کے لیے ادارہ جاتی فریم ورک تو قائم کیا ہے، مگر اس فریم ورک پر عمل درآمد کمزور رہا ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے نے کہا کہ قانونی تبدیلیوں نے ایک اعلیٰ سطح کی کیش کوآرڈینیشن کمیٹی (سی سی سی) اور وزارتِ خزانہ میں کیش فورآسٹنگ یونٹ (سی ایف یو) کے قیام کو لازمی قرار دیا تھا تاکہ بیرونی تجارتی قرضے اور ملکی قرضے کے انتظامات کو یکجا کیا جا سکے۔

تاہم سی ایف یو ابھی فعال نہیں ہے، کیوں کہ اس میں عملہ تعینات نہیں، اور سی سی سی بھی ماہانہ اجلاس کے بجائے طویل وقفوں کے بعد غیر باقاعدہ طور پر بیٹھتی ہے، جس کے باعث نقدی کے اندازوں اور کیش بفر پالیسی کے مؤثر جائزے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، اور قرض کے مؤثر پروگرام متاثر ہوتے ہیں۔

کمزور بجٹ کنٹرول کی نشاندہی کرتے ہوئے آئی ایم ایف نے کہا کہ اخراجات کے عمل کے کئی مراحل دستی طور پر انجام دیے جاتے ہیں اور اس وقت مالیاتی اکاؤنٹنگ اور بجٹنگ سسٹم میں درج نہیں ہوتے، جس سے بجٹ کے نفاذ کے دوران گورننس کی کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں۔

مشہور خبریں۔

صہیونی شہری قابض فوج پر کتنا اعتماد کرتے ہیں؟

?️ 15 فروری 2024سچ خبریں: جب کہ مقبوضہ علاقوں کے شمالی علاقے روحوں کے قصبوں

سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بننے پر مبارکباد اور بھرپور تعاون کی پیش کش کی، وزیراعظم

?️ 31 اکتوبر 2025چترال: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی

گودار بندرگاہ کو شمسی توانائی سے چلایا جائے گا، وزیر بحری امور

?️ 27 اگست 2025گوادر: (سچ خبریں) وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری

حریدی یہودیوں نے اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دینے سے انکار کیا ؛ وجہ؟

?️ 18 نومبر 2024سچ خبریں: غزہ اور لبنان کی جنگ میں ایک بار پھر حریدی

جماعت اسلامی پاکستان کی نظر میں اسرائیل کیا ہے؟

?️ 20 اپریل 2024سچ خبریں: ہم ایران کے اسرائیل پر حملے کا خیرمقدم کرتے ہیں

اسرائیل جانے والے جہاز ڈبو دیے جائیں گے: انصار اللہ کا انتباہ

?️ 12 جولائی 2025سچ خبریں: یمن کی انصار اللہ تحریک کے اطلاعاتی شعبے کے نائب

مقبوضہ جموں وکشمیر میں ڈھونگ انتخابات غیر قانونی بھارتی قبضے کو جائز قراردینے کی کوشش ہے : مشعال ملک

?️ 30 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں نظربند

وزیر اعظم کا اگست میں پہلی جامع سولر انرجی پالیسی سامنے لانے کا اعلان

?️ 7 جولائی 2022اسلام آباد:(سچ خبریں)وزیر اعظم کی زیرِ صدارت انرجی ٹاسک فورس کے اجلاس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے