اسرائیلی قید میں مشتاق احمد کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا گیا؟ سابق سینیٹر نے روداد سنا دی

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) غزہ کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے رُکن اور سابق سینیٹر مشتاق احمد نے اسرائیل قید کے دوران گزرے دنوں کی روداد بیان کر دی۔

جیو نیوز کے پروگرام ’کیپٹیل ٹاک‘ میں میزبان حامد میر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سابق سینیٹر مشتاق احمد نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے سفر، اسرائیلی فورسز کے قبضے، قید میں ظلم و جبر اور غزہ میں جاری بدترین مظالم پر تفصیلی گفتگو کی۔

مشتاق احمد نے بتایا کہ پہلے تو ہمیں یقین ہی نہیں تھا کہ ہم فلسطین پہنچ سکیں گے، تاہم خواہش اور ایک امید ضرور موجود تھی کہ شاہد ہم وہاں پہنچ جائیں، اپنے سفر میں ہم اسرائیل کا دہشت گردانہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے لانے میں کامیاب رہے۔

’50 کشتیوں کو کنٹرول کرنے کیلئے اسرائیل نے پوری نیوی تعینات کی‘

دوران سفر بھی ہمیں معلوم تھا کہ ہم خطرے میں ہیں اور کسی بھی وقت ڈرون حملہ ہو سکتا ہے، فلوٹیلا میں موجود اراکین کو ہدایت دی گئی تھی کہ کوئی بھی کارآمد چیز اسرائیلی فورسز کے حوالے نہیں کی جائیں گی، جس کہ وجہ سے ہم نے اپنے موبائل فونز اور دیگر ضروری اشیا کو پانی میں پھینک دیا تھا۔

سابق سینیٹر کے مطابق ہماری 50 کشتیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اسرائیل نے پوری نیوی تعینات کی ہوئی تھی، پھر بھی ہمیں انٹر سیپٹ کرنے میں انہیں 12 گھنٹے کا وقت لگا، ہماری کشتی کو غزہ سے 40 کلو میٹر دور انٹرسیپٹ کیا گیا۔

جس کے تھوڑی دیر بعد 12 اسرائیلی کمانڈوز ہماری کشتی پر زبردستی آئے، اس دوران 2 بار ان کے کمانڈوز گر بھی گئے، وہ بظاہر ڈرے ہوئے لگ رہے تھے۔

’اسرائیلی کمانڈوز نے پاکستانی جھنڈا اتارا، میں نے وہ اٹھا کر محفوظ کر لیا‘

اسرائیلی کمانڈوز نے ہماری کشتی پر آتے ہی پہلے فلسطین کا جھنڈا پھاڑا، پھر انہوں نے پاکستان کا جھنڈا اتارا، تو میں جھنڈے کو اٹھا کر محفوظ کر لیا، جس کے بعد قابض فورسز ہمیں اشدود کی بندرگاہ پر لے گئے۔

انہوں نے ہمیں وہاں الٹا لٹا دیا تھا، معمولی سی حرکت پر لات مارتے تھے، میرے ساتھ دو فوجی تعینات تھے، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کہاں سے آئے ہو ؟ تو میں نے انہیں جواب دیا کہ پاکستان سے آیا ہوں، جس پر ان فوجیوں نے پہلے پاکستان کو اور پھر مجھے گالی دی۔

مشتاق احمد نے مزید بتایا کہ جس کے بعد ہمیں اسرائیلی افواج نے اشدود سے بذیعہ قیدی وین کتزیعوت جیل منتقل کیا، اس دوران اچانک سے 20 کے قریب لوگ کچھ کتوں کے ساتھ وہاں آئے، ان کے پاس گنیں بھی تھی، ہمیں لاتیں مار کر سائیڈ پر جمع کیا گیا اور ہمارے اوپر کتوں کو چھوڑا گیا، وہ کتے ہمارے منہ تک آرہے تھے۔

جس کے بعد ہماری آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر ہمیں باہر لے جایا گیا، مغرب کے وقت نماز پڑھنے کی اجازت مانگی تاہم انہوں نے اجازت نہیں دی، اس کے باوجود ہم نے بغیر وضو اور تیمم کے کھڑے کھڑے نماز ادا کی، اسرائیلی قید کے دوران ایک دن میں نے نیلسن منڈیا کے پوتے کے ساتھ بھی گزارا، جسے میں اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں۔

وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کی جانب سے ان کی رہائی کے لیے کوششوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اسحٰق ڈار نے فون پر رابطہ کیا تھا، دوران قید برطانیہ کا ایک سفارت کار 2 بار ملا تھا، اسے میری رہائی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، بلکہ وہ ڈیپورٹیشن ڈاکیومنٹس پر میرے دستخط کروانا چاہتا تھا۔

’اسرائیلی جج کو کہا، بابائے قوم، عوام، ریاست اور میں اسرائیل کو نہیں مانتے‘

اس دوران مجھے دو بار اسرائیلی جج کے سامنے پیش کیا گیا، جج نے مجھے کہا تم 2 بار وارننگ کے باوجود یہاں داخل ہوئے، جس پر میں نے جج کو کہا کہ میرے بابائے قوم، عوام، ریاست اور میں اسرائیل کو نہیں مانتے، لہذا میں اس پر سائن نہیں کر سکتا۔

مجھے برطانوی ڈپلومیٹ نےکہا کہ یہ آپ کو آپ کے جرائم کی نئی چارج شیٹ دیں گے، آپ کی ہڈیاں اس جیل میں گل جائیں گی، 70 فیصد لوگوں نے ملک بدری کے کاغذات پر سائن کر دیے ہیں، جس پر میں نے اس سے کہا کہ ان لوگوں کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں، میں اس ناجائز ریاست کو نہیں مانتا۔

سابق سینیٹر نے مزید کہا کہ میری ہڈیاں گل جائیں، گوشت کو کیڑے کھائیں لیکن میں کسی صورت اس پر سائن نہیں کر سکتا، دستخط کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل ایک ملک ہے، جس کو میں تسلیم کرتا ہوں اور جس کے قانون کی میں نے خلاف ورزی کی ہے، جو میں کسی صورت نہیں کروں گا۔

مشاق احمد کے مطابق برطانوی سفارت کار میرے ساتھ 3 گھنٹے ایک پنجرے میں بیٹھا رہا لیکن میں نے اس کی بات کی تسلیم نہیں کی، اس حد تک اسحٰق ڈار کی بات درست ہے۔

سابق سینیٹر نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے اراکین کی رہائی کا کریڈٹ یورپی عوام کو دیتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کے مظاہروں کی وجہ سے اسرائیل ہمیں رہا کرنے پر مجبور ہوا۔

انہوں نے ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بیمار بچی ہے، اسے کوئی نہ کوئی بیماری لاحق رہتی ہے، اس کے باوجود اس نے 20 دن کا سمندر کا مشکل ترین سفر کیا، اسے اسرائیل کا جھنڈا چومنے پر مجبور کیا گیا، جملے کسے گئے، گریٹا کی توہین و تذلیل کی گئی، پورے عالم اسلام کو ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔

مشہور خبریں۔

رقم ادا کرنا اور زمین دینا؛ غزہ میں اسرائیلی فوج کے لیے کرائے کے فوجیوں کا انعام

?️ 18 ستمبر 2025سچ خبریں:  ہآرتض اخبار نے اسرائیلی فوجی افسران کے حوالے سے خبر

مفاد عامہ کے کاموں کے علاوہ سوموٹو کا کوئی مقصد نہیں، وزیراعظم

?️ 23 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سوموٹو کا

صیہونیوں کے خلاف آئرلینڈ کا بے مثال موقف: یورپ کی ساکھ اسرائیل کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت ہے

?️ 31 اگست 2025سچ خبریں: آئرلینڈ کے نائب وزیر اعظم نے غزہ کے مظلوم عوام

کیلیفورنیا میں فائرنگ سے ماں اور 6 ماہ کا بچہ ہلاک

?️ 17 جنوری 2023سچ خبریں:خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا میں فائرنگ کے

عید الاضحیٰ پر ملک بھر میں قربانی کا سلسلہ جاری

?️ 21 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) عید الاضحیٰ پرسنت ابراہیمی کی یاد میں ملک

1 ٹریلین $ انفراسٹرکچر پلان کے تحت بائیڈن کے دستخط

?️ 16 نومبر 2021سچ خبریں: امریکی صدر جو بائیڈن نے تنازع کے بعد کانگریس میں امریکی

غزہ نے تمام اسرائیلی کابینہ کو اقتدار کا سبق سکھایا: معاریو

?️ 6 مئی 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے تجزیہ کار ایلون بن ڈیوڈ نے ایک تجزیے

شہباز شریف کی دعوت، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اتوار کو پاکستان آئیں گے

?️ 31 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) ایران کے صدر مسعود پزشکیان 2 اگست کو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے