اسحٰق ڈار کی ڈالر کو قابو کرنے کی کوششیں،

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) مالیاتی شعبے نے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں استحکام لانے کی کوششیں بند کریں جوکہ آئی ایم ایف کی جانب سے ایک ارب 12 کروڑ ڈالر قرض کی قسط کے اجرا کے لیے تعطل کا شکار مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اہم شرائط میں شامل ہے۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے 2 روز قبل اعلان کیا تھا کہ آئی ایم ایف کا وفد 2 سے 3 روز میں پاکستان آئے گا۔

اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے وزیر خزانہ پر اب دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ایکسچینج ریٹ پر مصنوعی طور پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں کو روکیں کیونکہ اس پالیسی کے نتیجے میں 3 قسم کے ایکسچینج ریٹس (انٹربینک، اوپن مارکیٹ اور گرے مارکیٹ) وجود میں آگئے ہیں جو عملی طور پر معاشی عدم استحکام کو ہوا دے رہے ہیں۔

تاہم ذرائع نے دعویٰ کیا کہ وزیر خزانہ ’سنگل ایکسچینج ریٹ مارکیٹ‘ کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کو پاکستان کے دورے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی پیشگی شرائط پہلے ہی وزیر خزانہ کے علم میں ہیں، دورہ یا آن لائن مذاکرات سے کوئی فرق نہیں پڑتا جب شرائط پہلے ہی دونوں فریقیں کے علم میں ہوں۔

معاشی ماہرین اور کرنسی ڈیلرز نے بھی حال ہی میں وزیر خزانہ کو مشورہ دیا کہ وہ کرنسی پر اثرانداز ہونا بند کر دیں کیونکہ یہ حکمت عملی استحکام سے زیادہ عدم استحکام کا سبب بنتی ہے۔

انٹربینک کرنسی ڈیلر عاطف احمد نے کہا کہ ’اگر ایک ہی شرح مبادلہ کو برقرار رکھا جائے تو فوری طور پر ڈالر کی قیمتیں بڑھ جائیں گی لیکن گرے مارکیٹ غائب ہو جائے گی کیونکہ اس کے وجود کی کوئی وجہ باقی نہیں رہے گی‘۔

اس وقت انٹربینک ریٹ پر ڈالر کا حصول انتہائی مشکل ہے کیونکہ لیٹر آف کریڈٹ کھولنے کے معاملے پر اسٹیٹ بینک نے مضبوط گرفت رکھی ہوئی ہے، اوپن مارکیٹ میں ڈالر دستیاب ہیں لیکن یہ اس شرح پر نہیں ہیں جس کا روزانہ اعلان کیا جاتا ہے۔

سیکریٹری جنرل ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان ظفر پراچہ نے کہا کہ ہم نے وزیر خزانہ سے ملاقات کی اور انہیں سنگل ریٹ مارکیٹ کا مشورہ دیا لیکن وزیر خزانہ نے اس رائے سے اتفاق نہیں کیا۔

انہوں نے ایکسچینج کمپنیوں کو 50 ہزار ڈالر تک کی چھوٹی ایل سیز کھولنے کی اجازت دینے کی تجویز بھی دی جس سے حکومت پر کافی حد تک بوجھ کم ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’چھوٹی ایل سیز نہ کھلنے کی وجہ سے متعدد درآمدی سامان بندرگاہ پر پھنس گئے ہیں، اگر ایکسچینج کمپنیوں کو اجازت دی جائے تو حکومت پر 50 فیصد تک بوجھ کم ہو جائے گا‘۔

تاہم بعض ماہرین کا خیال ہے کہ سنگل ایکسچینج مارکیٹ کی تجویز حکومت کے ساتھ ساتھ معیشت پر بھی بھاری پڑے گی، مہنگائی فوری طور پر بڑھے گی کیونکہ ڈالر فوری طور پر 240 سے 245 روپے تک بڑھ سکتا ہے۔

عاطف احمد کا خیال ہے کہ ملک کو سنگل ایکسچینج ریٹ مارکیٹ کی قیمت ادا کرنی پڑے گی کیونکہ اس سے قیمتیں اوپر سے نیچے تک بڑھیں گی لیکن اس کے نتیجے میں دیوالیہ پن سے نمٹنے کا امکان موجود ہے۔

مشہور خبریں۔

دھمکیوں کے بجائے کبھی امن کا پیغام بھی دے دیا کرؤ

?️ 10 مارچ 2021سچ خبریں:یمنی سپریم انقلابی کمیٹی کے سربراہ نے اپنے تازہ ترین مؤقف

ہزاروں فلسطینی مسجد اقصی میں نماز جمعہ میں شریک

?️ 21 مئی 2021سچ خبریں:صیہونی حکومت کے خلاف فلسطینی مزاحمت تحریک کی فتح کے موقع

فلسطینی بچوں کے خلاف صیہونی فوج کی بربریت

?️ 1 جولائی 2022سچ خبریں:یروشلم میں عینی شاہدین نے دو فلسطینی بچوں کے رونے کی

کویتی حکومت مستعفی

?️ 5 اپریل 2022سچ خبریں:میڈیا ذرائع کے مطابق کویت کے وزیراعظم نے سرکاری طور پر

سعودی عرب کے ساتھ ہمارے اختلافات ضرور ہیں پر ہم شراکت دار ہیں:امریکہ

?️ 23 جنوری 2023سچ خبریں:امریکی وزارت خارجہ کے مشیر نے ایک تقریر میں اپنے ملک

پی ٹی آئی کے لیے نقصان دہ لوگوں کے ساتھ کیا کیا گیا؟ حامد خان کی زبانی

?️ 29 جولائی 2024سچ خبریں: پی ٹی آئی کے رہنما حامد خان نے کہا ہے

یمن کے خلاف امریکہ کے خطرناک ہتھیار

?️ 9 جنوری 2023سچ خبریں:     سعودی عرب کی قیادت میں جارح اتحادی ممالک نے

کورونا: ملک بھرمیں متاثرہ ہیلتھ ورکرز کی تعداد16 ہزار سے تجاوزکر گئی

?️ 1 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں)کورونا وائرس سے دنیا میں جہاں عوام متاثر ہوئے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے