?️
اسلام آباد (سچ خبریں) اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ہم، ہمیں انہیں ثابت کرنا ہے کہ ہم جو اقدامات کریں گے اس سے ریونیو بڑھالیں گے انہوں نے کہا کہ ‘ٹیکسز کے حوالے سے بھی ایسے ہی اقدامات کریں گے اور اسے بڑھائیں گے تاہم ہم اچانک سے بڑا اضافہ نہیں کرسکتے، تھوڑا تھوڑا اضافہ کرکے ہم آگے جاسکتے ہیں اور آئی ایم ایف کو یہ سمجھانے کی کوشش کریں گے’۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ‘ریونیو ہم نے بڑھانا ہے تاہم جس طرح سے آئی ایم ایف کہہ رہا ہے ویسے نہیں کرسکتے، ہمیں اپنے طریقے سے ریونیو بڑھانا ہوگا’۔
وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ ان کا اور وزیر اعظم کا فلسفہ ہے کہ ملک کو اب مستحکم نمو کی طرف لے کر جانا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘حکومت نے سخت شرائط کے باوجود آئی ایم ایف پروگرام کی پروی کی اور ملک کو استحکام کی طرف لے کر گئے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘2008 میں جب میں آئی ایم ایف کے پاس گیا تھا اس وقت ماحول مناسب تھا تاہم اب ماحول کچھ اور ہے جس کی وجہ سے آئی ایم ایف نے ہم پر سخت شرائط لگائیں جس کی سیاسی قیمت بھی ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے سخت شرائط پر عمل کیا اور ملک کو استحکام کی جانب لے کر گئے اور جب نمو کی جانب جانا تھا تو ملک میں کورونا آگیا۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس بحران کے دوران حکومت نے 1200 کھرب روپے کا پیکج دیا جس سے معیشت میں کچھ بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے کہا کہ مارچ میں ریونیو گزشتہ سال سے 46 فیصد بڑھا اور 20 اپریل تک 92 فیصد نمو تھی تاہم اپریل کے آخر میں کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ کم ہوکر 57 فیصد پر آگیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں کورونا سے خطرہ ہے ورنہ ہماری معاشی بحالی کا عمل شروع ہوچکا ہے’۔
شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ‘اس معیشت کو نمو کی جانب لے کر جانا ہے، اس کے لیے ہمیں صنعتوں کو مراعات دینی ہوں گی تاکہ صنعتیں ترقی کریں اور عوام کے لیے روزگار پیدا ہوں’۔انہوں نے کہا کہ ‘کوشش ہے کہ کورونا کا سایہ کم ہو اور ہم ترقی کی پٹری پر واپس چڑھیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم قیمتوں میں استحکام، سماجی تحفظ، معاشی استحکام، اخراجات کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کر رہے ہیں’۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ‘بجٹ میں ایسے پروگرام لائیں گے کہ عام آدمی کو ٹیکس نیٹ میں آنے میں کوئی پریشانی نہیں اٹھانی پڑے گی’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ایف بی آر میں عوام کو ہراساں کیا جاتا ہے تاہم ایسی پالیسیز لائیں گے کہ جس سے اس کا خاتمہ ہوگا’۔
انہوں نے کہا کہ ‘میں کسی پر تنقید نہیں کرتا مگر صلاحیت کی ادائیگی ساڑھے 5 فیصد سے بڑھتی رہتی تو ہمیں اسے ادا کرنے کی ضرورت نہ ہوتی تاہم ہم نے اسے بہت زیادہ بڑھا دیا ہے جس سے اب ہمیں نمٹنا ہوگا’۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ 62 فیصد آبادی ہماری دیہاتوں میں رہتی ہے اور ان کا پیشہ زراعت ہے تاہم اس شعبے میں گزشتہ 10 سالوں میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے اور ہمیں اس پر پیسے خرچ کرنے پڑیں گے اور یہ ہماری ترجیح میں شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ہماری صنعتیں معیار کے مطابق نہیں، برآمدات کی زیادہ تر صنعتیں خاندانی کاروبار ہیں جس کا دو نسلوں بعد بٹوارا ہوجاتا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ کی صنعت میں غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کا نام و نشان نہیں، دنیا میں برآمدات کو بڑھانے کے لیے ایف ڈی آئی کو متعارف کروایا گیا تھا، ‘ہم اس حوالے سے چین سے بات کر رہے ہیں کہ ٹیکسٹائل اور چمڑے کی صنعت یہاں لگائے اور یہاں سے بر آمد کرے’۔
شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ‘آئی ٹی سالانہ بنیاد پر 65 فیصد کے حساب سے نمو کی جانب جارہی ہے اور یہ 100 فیصد تک جاسکتی ہے اور یہ شعبہ ہمارے لیے گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ہاؤسنگ کے شعبے میں بھی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں اور جب اس نے اپنی رفتار پکڑی تو یہ بہت آگے تک جائے گی اور یہ بینکس کے لیے بہت اچھا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بینکنگ سیکٹر میں 100 روپے ڈپازٹ ملتا ہے تو 48 روپے قرض لیے جاتے ہیں، یہ بہت بڑا فرق ہے۔
انہوں نے کہا کہ بینکنگ سیکٹر کا فوٹ پرنٹ جی ڈی پی کا 33 فیصد ہے جو دنیا میں سب سے کم ترین میں سے ایک ہے اور اسی وجہ سے ہماری سیونگ کی شرح میں اضافہ نہیں ہورہا۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ گورنر اسٹیٹ بینک کے ساتھ اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایس ایم ای) قرضے کی اسکیم کا آغاز کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘تعجب ہے کہ اب تک پورے سسٹم میں صرف ایک لاکھ ایس ایم ای قرضے ہیں، ہمارا مقصد ہے کہ آئندہ سالوں میں یہ ایک لاکھ 20 سے 30 لاکھ تک پہنچے’۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس میں مراعات دے رہی ہے اور اس کے 50 فیصد نقصانات کو انشورنس کمپنی کے ذریعے حکومت برداشت کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ‘کامیاب نوجوان پروگرام میں صرف ساڑھے 8 ہزار قرضے ہیں جو بہت کم ہیں، اسے ہم تبدیل کریں گے اور اس کے ساتھ کامیاب کسان پروگرام کا بھی آغاز کریں گے اور اس طریقے سے ہم ملک میں نچلی سطح پر استحکام لاسکتے ہیں’۔


مشہور خبریں۔
آیت اللہ سیستانی: ہم ایران کے خلاف جابرانہ جنگ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں
?️ 21 مارچ 2026سچ خبریں: عراق کے اعلیٰ ترین شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ سید
مارچ
پنجاب کے وزیر تعلیم نے اسکول کھولنے کا نوٹس جاری کر دیا
?️ 29 جولائی 2021 لاہور(سچ خبریں) وزیرتعلیم پنجاب مراد راس نے 2 اگست سے سکول کھولنے
جولائی
آئی ایم ایف کے ساتھ نئے پروگرام کیلئے اسٹاف لیول معاہدہ جون تک کرنا چاہتے ہیں، وفاقی وزیر خزانہ
?️ 29 مارچ 2024کراچی: (سچ خبریں) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ
مارچ
وزیراعظم کے معاون خصوصی نےاستعفی دینے کی دھمکی دے دی
?️ 24 اپریل 2021بلوچستان(سچ خبریں) بلوچستان اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے
اپریل
پوپ نے یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگوں کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا مطالبہ کر دیا
?️ 19 اپریل 2026سچ خبریں: دنیا کے کیتھولک مسیحیوں کے رہنما پوپ لیو چودھویں نے
اپریل
ٹرمپ شکاریوں کے حصار میں
?️ 20 اکتوبر 2025ٹرمپ شکاریوں کے حصار میں امریکی سیکرٹ سروس (USSS) نے فلوریڈا کے
اکتوبر
کابل میں امریکہ کے خلاف مظاہرہ
?️ 21 دسمبر 2021سچ خبریں:امریکہ کی طرف سے افغانستان کے مرکزی بنک کی مسلسل ناکہ
دسمبر
حماس کے عسکری وِنگ القسام بریگیڈ نے صہیونی ریاست کو شدید دھمکی دے دی
?️ 13 جون 2021غزہ (سچ خبریں) فلسطین کی اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے عسکری بازو
جون