یمن کی میزائل قوت اور امریکہ و اسرائیل کی صنعاء کے سامنے بے بسی  

یمن کی میزائل قوت اور امریکہ و اسرائیل کی صنعاء کے سامنے بے بسی  

?️

سچ خبریں:روسی عسکری جریدے کی رپورٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں اب تک یمن کے میزائلوں کی صحیح تعداد، ان کے ذخیرے کی وسعت اور سپلائی چین کا درست تعین کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

یمن نیوز کی رپورٹ کے مطابق، روس کے عسکری تجزیے کے ماہر جریدے ٹاپ وار نے یمنی فوجی صلاحیتوں پر تفصیلی تجزیہ شائع کیا، جس میں کہا گیا کہ انصار اللہ کے پاس وسیع پیمانے پر جدید ہتھیار موجود ہیں۔
 یہ رپورٹ ایسے وقت میں آئی ہے جب یمنی مسلح افواج نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیلی کشتیوں پر حملے دوبارہ شروع کر رہے ہیں، جب تک کہ غزہ کی ناکہ بندی ختم نہیں ہو جاتی۔
 جریدہ ٹاپ وار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انصار اللہ یمن کے پاس مختلف اقسام کے ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے، جس میں جدید میزائل سسٹمز بھی شامل ہیں۔
 رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں اب تک یمن کے میزائلوں کی صحیح تعداد، ان کے ذخیرے کی وسعت، اور سپلائی چین کا درست تعین کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
 یمن کی عسکری قوت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انصار اللہ کے پاس دفاع اور حملے کے جدید نظام ہیں جو خطے میں کسی بھی بڑے فوجی اتحاد کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔
 یمنی فوج کے پاس مختلف اقسام کے دور مار میزائل سسٹمز موجود ہیں، جن میں بیلسٹک اور کروز میزائل شامل ہیں،رپورٹ کے مطابق، 2015 میں یمن نے القاہر 1 نامی میزائل متعارف کروایا، جو بعد میں ترقی کر کے 250 کلومیٹر تک مار کرنے لگا، 2016 میں برکان میزائل لانچ کیا گیا، جس کی رینج 700 سے 800 کلومیٹر تک تھی،
 2023 میں یمن نے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی کشتیوں کو اپنے میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنانا شروع کر دیا۔
 رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انصار اللہ نے ایک مکمل فوجی ڈھانچہ تیار کر لیا ہے، جو زمینی افواج، میزائل یونٹس، اور ڈرون فورسز پر مشتمل ہے۔
 یمن کی جنگی صلاحیتیں محض ایک مسلح گروہ کی حد تک نہیں رہیں، بلکہ وہ ایک مکمل آرمی کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔
یمنی فورسز نے ایسی دفاعی ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہے جس سے وہ اسرائیل اور امریکہ جیسے حریفوں کے خلاف مزاحمت کر سکیں۔
 امریکہ اور اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسیاں اب تک یہ معلوم کرنے میں ناکام رہی ہیں کہ انصار اللہ کو جدید ہتھیار کہاں سے ملتے ہیں اور ان کے میزائل سسٹمز کہاں نصب ہیں۔
 رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یمن کی انٹیلی جنس حکمت عملی بہت مضبوط ہے، جس کی وجہ سے بیرونی طاقتیں ان کی فوجی نقل و حرکت کا سراغ لگانے میں ناکام رہی ہیں۔
یمنی فورسز جدید ڈرون ٹیکنالوجی بھی استعمال کر رہی ہیں، جو ان کے میزائل نظام کی معاونت کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
 یمن کے پاس موجود اینٹی شپ میزائل سسٹمز اور ڈرون فورسز نے خطے میں اسرائیلی اور امریکی بحری نقل و حرکت کو شدید متاثر کیا ہے۔
یمن کی میزائل قوت اور اس کی حربی حکمت عملی اسرائیل کے لیے براہ راست خطرہ بن چکی ہے، اور امریکہ اس کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام نظر آ رہا ہے۔
یہ واضح ہے کہ یمنی مزاحمت اور اس کی جنگی حکمت عملی اسرائیل اور امریکہ کے لیے مستقل دردِ سر بنی رہے گی۔

مشہور خبریں۔

صیہونی حکومت کے سربراہ کا استعفیٰ

?️ 14 نومبر 2023سچ خبریں:اسرائیلی وزیر خارجہ کے دفتر کے سربراہ یوسی امرنی نے آج

تحفظات دور ورنہ ناصر باغ پراجیکٹ روک دیا جائے گا: لاہور ہائیکورٹ

?️ 12 دسمبر 2025لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے سموگ تدارک کیس میں خبردار کیا

سوڈان کے منظر نامے سے تل ابیب کی حکمت عملی؛ مغربی ایشیا کی نئی ترتیب کو توڑنا!

?️ 6 مئی 2023سچ خبریں:ایک سیاسی تجزیہ نگار نے مغرب سے مشرق میں اقتدار کی

کیا اسرائیل میں فوجی بغاوت ہونے والی ہے؛خود صیہونی کیا کہتے ہیں؟

?️ 26 جولائی 2023سچ خبریں: صیہونی حکومت کے نیشنل سکورٹی انسٹی ٹیوٹ کے سینئر محقق

اقوام متحدہ کا حکومتوں پر غذائی تحفظ کیلئے ’فوڈ کولڈ چینز‘ کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے پر زور

?️ 14 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ

عبرانی میڈیا: سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیلی نہیں جانتے کہ ان کے راستے میں کیا آ رہا ہے

?️ 21 جولائی 2025سچ خبریں: اسرائیل ابہام کے سمندر میں ڈوب رہا ہے اور جواب

پاکستان نے افغانستان میں کسی شہری علاقے کو نشانہ نہیں بنایا۔ عطاء تارڑ

?️ 9 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا

عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے وقت صیہونی حکومت تذبذب کا شکار

?️ 27 نومبر 2023سچ خبریں: غزہ میں عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے قریب آتے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے