?️
سچ خبریں:خلیج فارس، عراق، شام اور دیگر علاقوں میں امریکی فوجی اڈے ایران کے ممکنہ جوابی حملے کی زد میں آ سکتے ہیں، ایران کے پاس اڈوں کی تفصیل اور جغرافیائی محلِ وقوع بھی ہے۔
الجزیرہ نیوز چینل نے اپنی تازہ رپورٹ میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کا مشروع ہدف قرار دیا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب کہ امریکی افواج نے اسرائیلی حملے کے بعد ایران کے جوہری مراکز کو نشانہ بنایا ہو۔
یہ بھی پڑھیں:امریکہ کا ایران پر حملہ؛ عالمی سطح پر مذمتوں کی لہر
بین الاقوامی قوانین کے مطابق کسی ملک کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ جنگی جرم سمجھا جاتا ہے، اور اسی بنیاد پر ایران کے جوابی اقدام کو قانونی طور پر جائز قرار دیا جا رہا ہے۔
خطے میں امریکی عسکری موجودگی میں اضافہ
16 جون 2025: پینٹاگون نے اعلان کیا کہ امریکی ایئرکرافٹ کیریئر USS Nimitz کو جنوبی بحیرہ چین سے مشرق وسطیٰ روانہ کر دیا گیا ہے۔
19 جون: امریکہ نے USS Ford ایئرکرافٹ کیریئر کو مشرقی بحیرہ روم میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا، جو اسرائیل کے قریب تعینات ہوگا۔
مزید برآں، امریکہ نے اپنے 3 پہلے سے موجود جنگی بحری جہازوں کے علاوہ دو اور ناو شکن (Destroyers) بھی مشرق وسطیٰ میں تعینات کیے ہیں تاکہ ایران کے میزائلوں کو روکا جا سکے۔
خلیج میں امریکی فوجی اڈوں کی تفصیل اور مقام
خطے میں 19 سے زائد امریکی اڈے فعال ہیں جن میں 8 مستقل فوجی اڈے شامل ہیں:
| ملک | مقام | تفصیل |
| ———————— | ———- | ————————————————————————– |
| قطر | العدید | سب سے بڑا امریکی ہوائی اڈہ، 24 ہیکٹر رقبہ، 10 ہزار فوجی، CENTCOM ہیڈکوارٹر |
| بحرین | NSA بحرین | 9 ہزار فوجی، پانچویں بحری بیڑے کا مرکز، بحری سلامتی کی نگرانی |
| کویت | عریفجان | جنوبی کویت میں، 1999 سے فعال، اہم لاجسٹک اور کمانڈ بیس |
| امارات | الظفرہ | F-22، ڈرون، AWACS طیارے، جاسوسی اور فضائی حملے |
| عراق | اربیل | عراق اور شمالی شام میں امریکی آپریشنز کا مرکز |
| سعودی عرب، مصر، اردن | مختلف | فضائی، بری اور انٹیلی جنس آپریشنز کی حمایت |
| بحیرہ احمر | متحرک بیڑے | ایران کے خلاف دفاعی لائن کی تقویت |
امریکی افواج کی تعداد
2025 کے وسط تک امریکہ کے 40 سے 50 ہزار فوجی خطے میں موجود ہیں۔
سب سے زیادہ تعداد قطر، کویت، امارات، بحرین، اور سعودی عرب میں تعینات ہے۔
ایران کی نظر میں یہ اڈے کیوں اہم ہیں؟
مزید پڑھیں:امریکہ کا ایران پر حملہ؛کمزور اسرائیل کی پشت پناہی یا سفارتکاری کا خاتمہ؟
یہ اڈے صرف امریکہ کے فوجی مفادات نہیں بلکہ خطے میں موجود سیٹلائٹ بیس، کمانڈ کنٹرول مراکز، اور لاجسٹک نیٹ ورک کے اہم حصے ہیں، جنہیں ایران کسی بھی فوجی جارحیت کے بعد براہ راست نشانہ بنا سکتا ہے۔ ایران کی میزائل رینج ان تمام اہداف تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جیسا کہ حالیہ برسوں میں مختلف مشقوں اور حملوں میں دیکھا گیا۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
عرب ممالک صہیونی ہتھیاروں کے سب سے بڑےخریدار
?️ 14 جون 2023سچ خبریں:اسرائیلی حکام نے اعلان کیا کہ 2022 میں اس حکومت کی
جون
بائیڈن کے منصوبے پر حماس اور تل ابیب کا ردعمل کیا ہے؟
?️ 5 جون 2024سچ خبریں: قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے غزہ کے
جون
امریکی وزیر دفاع کا دورہ یوکرین
?️ 20 نومبر 2023سچ خبریں:غزہ کے تنازعات کو دیکھتے ہوئے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن
نومبر
نیتن یاہو کی نئی شرائط پر صیہونیوں کا عدم اطمینان
?️ 13 جولائی 2024سچ خبریں: عبرانی اخبار Ha’aretz نے صہیونی ذرائع کے حوالے سے خبر دی
جولائی
پاکستان نے یوکرین کو دفاعی آلات کی فراہمی کی منظوری نہیں دی
?️ 17 فروری 2023سچ خبریں:پاکستان کی وزارت خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا نے آج اسلام
فروری
انتخابات کیس: نئی مردم شماری کالعدم قرار دیں تو انتخابات کس مردم شماری کے تحت ہوں گے؟ چیف جسٹس
?️ 23 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک میں عام انتخابات 90 روز میں کرانے
اکتوبر
چیف جسٹس کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے، قمر زمان کائرہ
?️ 11 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے
مئی
بلوچستان میں بڑی تعداد میں اومیکران کے کیسز سامنے آگئے
?️ 22 دسمبر 2021قلات (سچ خبریں) کیسز میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر ضلع
دسمبر