غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے 32 ممالک کے عوام کی آواز

غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے 32 ممالک کے عوام کی آواز

?️

سچ خبریں:دنیا کے 32 ممالک کے شہریوں نے غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کے لیے عالمی مارچ کا آغاز کر دیا، اس مارچ کا مقصد اسرائیلی مظالم کی روک تھام، فوری انسانی امداد کی فراہمی اور رفح بارڈر کھلوانا ہے۔ 

الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی مسلسل ناکہ بندی اور اسرائیلی حملوں کے خلاف دنیا کے 32 ممالک کے انسانی حقوق کے کارکنان اور سول سوسائٹی کے اتحاد نے عالمی مارچ برائے غزہ کا آغاز کیا ہے،یہ اقدام عالمی سطح پر غزہ میں جاری انسانی بحران، خوراک و ادویات کی شدید قلت اور اسرائیلی مظالم کے خلاف بھرپور آواز اٹھانے کی کوشش ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اس مارچ میں شامل شرکاء مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا مقصد غزہ کے محاصرے کو توڑنا، فوری امداد کی رسائی کو ممکن بنانا اور اسرائیل کی جانب سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنا ہے۔
مارچ کے مقاصد اور شرکاء کے مطالبات
اس مارچ کے اہم اہداف میں شامل ہیں:
1. غزہ میں نسل کشی اور جنگی جرائم کو روکنا:
   شرکاء کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ میں بڑے پیمانے پر انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، اور دنیا کو متحد ہو کر ان جرائم کو روکنا چاہیے۔
2. انسانی امداد کی فوری اور براہ راست فراہمی:
   مارچ کا بنیادی مطالبہ ہے کہ رفح بارڈر کو فی الفور اور بغیر کسی شرط کے کھولا جائے تاکہ خوراک، پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء غزہ کے عوام تک براہ راست پہنچ سکیں۔
3. محاصرہ کا مکمل خاتمہ اور مستقل انسانی راستہ:
   شرکاء اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ غزہ کا محاصرہ ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے اور انسانی بنیادوں پر ایک محفوظ اور مستقل راستہ مہیا کیا جائے۔
4. عالمی رائے عامہ اور حکومتوں پر دباؤ:
   یہ اتحاد دنیا بھر کے پارلیمان، سیاسی حلقوں اور میڈیا سے اپیل کر رہا ہے کہ وہ اسرائیلی مظالم کے خلاف اپنی آواز بلند کریں اور اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اس سلسلے میں عملی اقدامات کریں۔
5. جنگی جرائم کے مرتکبین کا احتساب:
   اتحاد کا مطالبہ ہے کہ ان جرائم میں ملوث تمام افراد اور اداروں کو بین الاقوامی عدالت میں پیش کیا جائے اور عالمی ادارے اپنی قانونی و اخلاقی ذمہ داریاں نبھائیں۔
مارچ کی منصوبہ بندی اور راستہ
اس عالمی مارچ کے شرکاء مختلف جغرافیائی گروپوں میں تقسیم ہیں اور ان سب کی منزل مصر کا رفح بارڈر ہے، جو غزہ کے واحد زمینی راستہ ہے۔
اتحاد کے سربراہ سیف ابو کشک کے مطابق، اب تک 10 ہزار سے زائد افراد اس مارچ کا حصہ بن چکے ہیں اور یہ تعداد مزید بڑھ رہی ہے۔
ان گروپوں کے ارکان اپنی ذاتی وسائل سے اس سفر میں شریک ہو رہے ہیں اور ان کے لیے بنیادی سطح پر ہی مدد فراہم کی جائے گی۔
مارچ کے شرکاء 12 جون سے قاہرہ کی طرف سفر شروع کریں گے اور پھر وہاں سے العریش پہنچیں گے۔
العریش سے وہ پیدل رفح بارڈر تک جائیں گے اور اس کے بعد غزہ میں داخلے کی کوشش کریں گے۔
ابو کشک کا کہنا ہے کہ صحرا میں پیدل سفر کے چیلنجز کے باوجود، یہ قدم غزہ کے عوام کی مشکلات کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہے۔
عالمی دباؤ اور انسانی آواز
منتظمین کا کہنا ہے کہ اس مارچ کا مقصد نہ صرف اسرائیلی محاصرے کو چیلنج کرنا ہے بلکہ عالمی برادری اور میڈیا کی توجہ اس انسانی بحران کی طرف مبذول کروانا بھی ہے۔
شرکاء نے دنیا کے بڑے میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مارچ کو کوریج دیں اور اسرائیلی جرائم کو اجاگر کریں۔
ساتھ ہی عالمی اداروں، اقوام متحدہ اور دیگر فورمز سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر رفح بارڈر کو کھولنے اور غزہ تک امداد پہنچانے میں کردار ادا کریں۔

مشہور خبریں۔

ماسکو کے خلاف ٹرمپ کا موقف تبدیل کرنے کا مقصد کیا ہے

?️ 15 جولائی 2025سچ خبریں: امریکی اخبار پولیٹیکو نے ایک رپورٹ میں وائٹ ہاؤس کے

توہین رسالت اخلاقی دیوالیہ پن:انصاراللہ

?️ 9 جون 2022سچ خبریں:یمن کی انصاراللہ تحریک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رسول

سپرنٹنڈنٹ جیل احکامات نہیں مانتے تو فی کس 25ہزار جرمانہ کیا جائیگا،اسلام آباد ہائیکورٹ

?️ 5 مارچ 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ سپرنٹنڈنٹ جیل احکامات نہیں

لبنان میں امریکی مداخلت

?️ 8 فروری 2025سچ خبریں:امریکی حکومت کی مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی نمائندہ کی معاون،

امریکہ بن سلمان کو ہٹانا چاہتا ہے:سابق صیہونی وزیر

?️ 6 مارچ 2021سچ خبریں:سابق اسرائیلی وزیر انصاف نے دعوی کیا کہ جو بائیڈن نے

امریکہ یوکرین میں فوج بھیجنے کے لیے تیار

?️ 23 اکتوبر 2022سچ خبریں:امریکی فوج کے 101ویں ایئر بورن ڈویژن کے ہیڈ کوارٹر کا

اٹلی کی جانب سے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت جاری

?️ 24 نومبر 2021سچ خبریں:  اگرچہ رومی حکومت نے اس سال کے شروع میں اعلان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے