?️
استنبول (سچ خبریں) اسرائیل کی جانب سے ان دنوں فلسطینیوں کے خلاف وحشیانہ کاروائیاں کی جارہی ہیں جن کی وجہ سے سینکڑوں فلسطینی زخمی ہوگئے ہیں، اسرائیل کی اس دہشت گردی کو دیکھتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کو دہشت گرد ریاست قرار دے دیا ہے۔
خیبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق رجب طیب اردوان نے کہا کہ انقرہ نے اس واقعہ پر عالمی اداروں کو جھنجوڑنا شروع کردیا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق استنبول میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران ترک صدر رجب طیب اردوان نے تمام مسلمان ممالک اور عالمی برادری سے اسرائیل کے حوالے سے مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا، انہوں نے کہا کہ جو ان ظالمانہ واقعات پر خاموش ہیں وہ پارٹی ہیں۔
ترک صدر کا کہنا تھا کہ ظالم، دہشت گرد ریاست اسرائیل بے رحمی اور غیر اخلاقی طور پر بیت المقدس میں مسلمانوں پر حملہ آور ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ترکی نے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور تمام متعلقہ عالمی اداروں کو فوری کارروائی کرنے کا مطلبہ کرتے ہوئے ضروری اقدامات اٹھائیں ہیں۔
فلسطینیوں پر اسرائیل کی فورسز کے مظالم کے خلاف ترکی کے دیگر عہدیداروں اور اپوزیشن نے بھی فوری طور پر مذمتی بیانات جاری کیے تھے۔
دوسری جانب اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ یروشلم میں امن و امان بحال کیا جائے گا اور عبادت کا حق دیا جائے گا۔
مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں پر اسرائیلی حملے کے خلاف انقرہ میں اسرائیلی سفارت خانے اور استنبول میں قونصل خانے کے باہر کورونا کے باعث لاک ڈاؤن کے باوجود سیکڑوں افراد جمع ہو کر پرتشدد واقعات کے خلاف احتجاج کیا تھا۔
ترکی نے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی اسرائیلی منظم کوششیں طویل قانونی جنگ کی خلاف ورزی ہے اور ترک صدر نے بے دخلی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔
طیب اردوان نے خبردار کیا تھا کہ دوسری صورت میں ظلم و زیادتی کے خاتمے کے لیے وہ سب کچھ کریں گے جو کرسکتے ہیں۔
یاد رہے کہ جمعے کو مشرقی بیت المقدس میں رات کے وقت ہونے والی جھڑپ میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینی صحت ورکرز نے بتایا تھا کہ کم از کم 205 فلسطینی اور 17 اسرائیلی پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے، یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں ایک طویل عرصے سے جاری قانونی کیس میں متعدد فلسطینی خاندان کو بے دخل کیا گیا ہے۔
امریکا اور اقوام متحدہ کی طرف سے تشدد میں کمی کا مطالبہ سامنے آیا جبکہ یورپی یونین اور اردن سمیت دیگر نے ممکنہ بے دخلی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
علاوہ ازیں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے بیت المقدس میں اسرائیلی فورسز کے حملوں کے بعد فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کے تل ابیب کے منصوبوں کی مذمت کی ہے۔
جس کے بعد گزشتہ روز بھی اس علاقے میں کشیدگی دیکھی گئی اور اسرائیلی فورسز نے 80 فلسطینوں کو زخمی کردیا جبکہ ایک اسرائیلی افسر کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔


مشہور خبریں۔
ہماری قوم قابضین کے ساتھ کسی بھی جنگ کے لیے تیار ہیں: حماس
?️ 9 اپریل 2022سچ خبریں: حماس کے ترجمان عبداللطیف القانو نے جنین کیمپ پر صیہونی
اپریل
امریکہ کا یوکرین کو مزید 400 ملین ڈالر کا اسلحہ فراہم کرنے کا اعلان
?️ 4 مارچ 2023سچ خبریں:امریکی وزیر خارجہ نے جمعہ کو اعلان کیا کہ یہ ملک
مارچ
عدالت کی پنجاب حکومت کو آخری مہلت
?️ 22 جون 2022لاہور (سچ خبریں)لاہورہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاون کی دستاویزات فراہمی سے متعلق
جون
حزب اللہ نے رامات ایئر بیس کو نشانہ بنایا
?️ 24 ستمبر 2024سچ خبریں: لبنان کی حزب اللہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے
ستمبر
پیوٹن کی ماسکو میں دہشت گردانہ حملے کے مرتکب افراد کو دھمکی
?️ 25 مارچ 2024سچ خبریں: روس کے صدر نے ماسکو میں دہشت گردانہ حملے کے
مارچ
افغان حکمرانوں سے فواد چوہدری کا اہم سوال
?️ 11 اگست 2021اسلام آباد(سچ خبریں ) وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد حسین چوہدری نے
اگست
آپریشن بنیان مرصوص کی شاندار کامیابی پر یوم تشکر منانے کا اعلان
?️ 15 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) حکومت نے آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کی شاندار کامیابی
مئی
ایران کے تباہ کن میزائل جواب پر اسرائیلی حکومت کے خلاف حماس کا ردعمل
?️ 8 جون 2026سچ خبریں: حرکت مزاحمت اسلامی حماس کے ترجمان حازم قاسم نے تاکید کی
جون