?️
سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھانے کے منصوبے کو امریکہ کے قریبی اتحادیوں نے بھی غیر عملی قرار دے کر مسترد کر دیا۔ برطانیہ، آسٹریلیا اور جاپان نے اس اقدام کی حمایت سے انکار کرتے ہوئے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔
امریکی صدر ایک ایسے وقت میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں جب واشنگٹن کے اپنے اتحادی بھی اس اقدام کو غیر معقول اور غیر عملی قرار دیتے ہوئے مسترد کر چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایک بار پھر تہران کے خلاف اپنی پرانی دھمکی دہرائی۔ ایران کے خلاف اپنی جنگ جویانہ پالیسی کے اقتصادی اثرات کے باعث عالمی رائے عامہ کے دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے انہوں نے اس مرتبہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا دعویٰ کیا، جسے بے بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔ اس بیان کو خود امریکہ کے اندر کئی شخصیات کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
استارمر; آبنائے ہرمز کے محاصرے کی حمایت نہیں کریں گے
برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا کہ ان کا ملک امریکی صدر کی جانب سے پیش کیے گئے آبنائے ہرمز کے محاصرے کے منصوبے میں شامل نہیں ہوگا۔
اسٹارمر نے پیر کے روز بی بی سی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ہم اس محاصرے کی حمایت نہیں کرتے، انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ ایران کے خلاف واشنگٹن اور تل ابیب کی جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا انتہائی اہم ہے۔ معمول کے حالات میں عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل اسی اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے ہوتی ہے جو خلیج فارس کو بحر ہند سے ملاتی ہے۔
برطانوی وزیر اعظم نے کہا: میری رائے میں یہ انتہائی ضروری ہے کہ یہ آبنائے کھلا اور مکمل طور پر قابل رسائی رہے۔ حالیہ ہفتوں میں ہم نے اپنی تمام تر کوششیں اسی سمت مرکوز رکھی ہیں اور اس عمل کو جاری رکھیں گے۔
آلبانیز: کشیدگی میں اضافہ ایک چیلنج ہے
امریکہ کے اہم اتحادی آسٹریلیا نے بھی آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھانے کے ٹرمپ کے مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے اسے چیلنج قرار دیا ہے۔
آسٹریلیا کے وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے ملک کو ایران کی بندرگاہوں کے بحری محاصرے میں فوجی شرکت کے لیے امریکہ کی جانب سے کوئی باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی۔
آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی آلبانیز نے کہا: ہم سے ایسی کوئی درخواست نہیں کی گئی اور مجھے توقع بھی نہیں کہ ایسی کوئی درخواست کی جائے گی۔
آسٹریلیا کی وزیر برائے وسائل میڈلین کنگ نے بھی کہا کہ ایسے وقت میں جب کشیدگی کم کرنے کی شدید ضرورت ہے، امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کا محاصرہ بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال عالمی تجارت کے لیے انتہائی مشکل حالات پیدا کر سکتی ہے۔ ان کے بقول آسٹریلیا کے لیے بہترین راستہ یہ ہے کہ دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی ترغیب دی جائے۔
کیہارا: آبنائے ہرمز میں مائن صاف کرنے کے آپریشن میں شرکت کا ارادہ نہیں
جاپان کے چیف کابینہ سیکریٹری مینورو کیہارا نے بھی ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جاپان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات سمیت تمام سفارتی کوششوں اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ سب سے اہم بات کشیدگی میں حقیقی کمی اور سفارتکاری کے ذریعے جلد از جلد حتمی معاہدے تک پہنچنا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مقصد حاصل ہو جائے گا۔
کیہارا نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا جاپان آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے کسی آپریشن میں حصہ لے گا، کہا کہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔


مشہور خبریں۔
غزہ میں ناکامی مغربی کنارے پر حملے کا باعث بنی
?️ 25 فروری 2025سچ خبریں: پیر کے روز اپنے اداریے میں ہاریٹز نے مزید کہا کہ
فروری
اردن نے الکرامہ آپریشن کو انفرادی کارروائی قرار دیا!
?️ 9 ستمبر 2024سچ خبریں: اردن کی وزارت داخلہ نے اردن اور مقبوضہ فلسطین کی
ستمبر
فرحان اختر دوسری شادی کا جشن منانے کے لئے تیار
?️ 16 جنوری 2022ممبئی (سچ خبریں)بالی ووڈ کے معروف ہدایتکار و اداکار فرحان اختر کی
جنوری
ایرانی حملوں سے نواتیم ایئربیس میں شدید آتشزدگی
?️ 17 جون 2025 سچ خبریں:اگرچہ صہیونی حکومت کی جانب سے شدید میڈیا سنسر شپ
جون
اسرائیل ابوظہبی کو آئرن ڈوم فروخت کرنے کے لیے تیار
?️ 5 فروری 2022سچ خبریں:صیہونی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ متحدہ عرب امارات میں
فروری
صیہونی حکومت کا طیارہ مغربی کنارے میں گر کر تباہ
?️ 1 اکتوبر 2022سچ خبریں: اسرائیل کا ایک تربیتی طیارہ جمعہ کو بیت المقدس کے
اکتوبر
New Zealand man goes missing during Mount Merbabu hike
?️ 25 جولائی 2021Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such
حکومت کو تحریک انصاف کے ساتھ دہشت گرد جماعت کی طرح ڈیل کرنا چاہیے، مریم نواز
?️ 18 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ(ن) کی سینئر نائب صدر مریم نواز
مارچ