?️
سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حزب اللہ کے مقابلے کی ذمہ داری شام کی نئی حکومت کو سونپنے کی تجویز پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ منصوبہ لبنان میں اسرائیل کی مشکلات، تل ابیب کے عدم اعتماد اور جولانی کی سیاسی مصلحتوں کے باعث عملی رکاوٹوں کا شکار ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک ایسا تصور پیش کیا ہے جو ایک قابل عمل تزویراتی منصوبے سے زیادہ وائٹ ہاؤس کی ایک خواہش معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے لبنان میں حزب اللہ کے مقابلے کی ذمہ داری شام کی نئی حکومت کو سونپنے کی بات کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ تجویز، جس کا مقصد بظاہر لبنان میں صہیونی حکومت کی مسلسل ناکامیوں کا بوجھ کم کرنا ہے، تل ابیب کی سرد مہری اور احمد الشرع المعروف ابو محمد جولانی کی محتاط مخالفت کا سامنا کر رہی ہے۔
لبنان کی دلدل سے نکلنے کی کوشش
اس تجویز کے پس منظر کو لبنان کی موجودہ صورتحال میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ جنوبی لبنان پر قبضے کا مقصد حزب اللہ کو کمزور کرنا اور شمالی مقبوضہ فلسطین سے نقل مکانی کرنے والے صہیونی آبادکاروں کی واپسی تھا، لیکن صہیونی حلقوں کے اعتراف کے مطابق یہ منصوبہ ایک معلوماتی اور سلامتی کی ناکامی میں تبدیل ہو گیا۔
بھاری اقتصادی اخراجات، داخلی سطح پر نفسیاتی دباؤ اور واضح کامیابی حاصل نہ کرنے کی وجہ سے واشنگٹن اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اس راستے کو جاری رکھنا بنیامین نیتن یاہو اور امریکہ کے اہم علاقائی اتحادی کے لیے سیاسی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
اس تناظر میں ٹرمپ کی تجویز کو ایک ایسے منصوبے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کے ذریعے اسرائیل کو محاذ سے پیچھے ہٹا کر ایک کمزور اور محدود صلاحیت رکھنے والے فریق کے سپرد کیا جائے تاکہ حزب اللہ کے مقابلے کی قیمت دمشق کی نئی حکومت ادا کرے۔
تل ابیب کی ناممکن مساوات
اس منصوبے کی سب سے بڑی کمزوری خود تل ابیب کے اندر موجود ہے۔ صیہونی سلامتی اور عسکری حلقے ابو محمد جولانی کو بداعتمادی اور شکوک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
ان حلقوں کے مطابق جولانی کا ماضی شدت پسند تنظیموں سے وابستگی کے الزامات سے جڑا ہوا ہے اور اگرچہ آج وہ سیاسی لباس میں نظر آتے ہیں، لیکن صیہونی اداروں کے لیے ان پر اعتماد کرنا آسان نہیں۔
صیہونی خدشات کی پہلی وجہ یہ ہے کہ شمالی مقبوضہ فلسطین کی سلامتی ایسے شخص کے سپرد کرنا جس کا ماضی متنازع رہا ہو، قابل قبول نہیں سمجھا جاتا۔
دوسری وجہ جنوبی شام اور مقبوضہ جولان کی صورتحال ہے۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ اگر شام کی مرکزی حکومت مستقبل میں مضبوط ہو گئی تو وہ مقبوضہ جولان پر دوبارہ دعویٰ کر سکتی ہے۔
تیسری وجہ صیہونی کابینہ کے سخت گیر عناصر ہیں، جو جولانی کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون کو سیاسی طور پر نقصان دہ سمجھتے ہیں اور ایسے کسی منصوبے کی منظوری حکومتی اتحاد کو کمزور کر سکتی ہے۔
جولانی کی سیاسی مصلحت
دوسری جانب احمد الشرع نے بھی اس معاملے میں محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق وہ گزشتہ عرصے کے دوران ایک مہم جو نظریاتی رہنما سے زیادہ ایک عملی سیاسی شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
شام اس وقت اقتصادی بحران، داخلی مشکلات اور مختلف بیرونی چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے جبکہ ملک کے بعض حصے غیر ملکی افواج یا مختلف مسلح گروہوں کے اثر و رسوخ میں ہیں۔
ایسی صورتحال میں حزب اللہ کے خلاف ایک نیا محاذ کھولنا شام کی نئی حکومت کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
حزب اللہ گزشتہ کئی دہائیوں کے جنگی تجربے کی حامل ایک قوت ہے اور صیہونی فوج بھی اس کے خلاف فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ اسی لیے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ نئی شامی فوج اس طرح کی ذمہ داری کس طرح نبھا سکتی ہے۔
اسی وجہ سے لبنان کے سیاسی اور عسکری معاملات میں شام کی موجودہ قیادت کی ہچکچاہٹ کو بعض مبصرین ایک حقیقت پسندانہ فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق لبنان کی جنگ کی ذمہ داری جولانی کو سونپنے کا تصور عملی طور پر متعدد رکاوٹوں سے دوچار ہے، کیونکہ ایک طرف اسرائیل اپنی سلامتی کسی غیر یقینی فریق کے سپرد کرنے پر آمادہ نہیں اور دوسری طرف شام کی نئی حکومت بھی ایسے تصادم میں شامل ہونے سے گریز کر رہی ہے۔
اسی بنا پر بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ تجویز ایک عملی حل سے زیادہ لبنان میں مزاحمتی قوتوں کے خلاف جاری منصوبوں کی مشکلات اور خطے میں موجود پیچیدہ حالات کی عکاسی کرتی ہے۔


مشہور خبریں۔
کیا سعودی عوام فلسطین کی حمایت کرتے ہیں ؟
?️ 29 ستمبر 2023سچ خبریں:ان دنوں امریکہ کی طرف سے صیہونیوں اور سعودی عرب کے
ستمبر
بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں،یمن کے خلاف جارحیت بند کردو؛امریکی اخبار کا آل سعود کو مشورہ
?️ 9 دسمبر 2021سچ خبریں:وال سٹریٹ جرنل نے امریکی اور سعودی حکام کے حوالے سے
دسمبر
انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کی سالگرہ کے موقع پر وزیر خارجہ کا تہنیتی پیغام
?️ 10 فروری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان کے وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب
فروری
توہین عدالت کیس میں عمران خان نے جواب جمع کرادیا
?️ 31 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی
اکتوبر
بیجنگ امریکی قومی سلامتی کے بہانے چینی کمپنیوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر تنقید کرتا ہے
?️ 19 نومبر 2025سچ خبریں: چین کی وزارت تجارت نے امریکہ پر الزام لگایا کہ
نومبر
ہم آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے کوشاں ہیں؛ ہمیں خطے کے تیل کی ضرورت نہیں: ٹرمپ
?️ 15 جولائی 2026سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج منگل کو عراق کے
جولائی
آصف زرداری ایک اور کرپشن ریفرنس میں طلب
?️ 3 نومبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) احتساب عدالت اسلام آباد نے سابق صدر آصف علی
نومبر
امریکی ہتھیاروں سے یمنی عوام کا قتل عام کیا جاتا ہے :یمنی وزارت خارجہ
?️ 13 دسمبر 2021سچ خبریں:یمن کی وزارت خارجہ کے ایک سرکاری عہدہ دار نے جارح
دسمبر