?️
سچ خبریں:عرب تجزیہ کار عبدالباری عطوان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ کے اخراجات خلیجی ممالک سے وصول کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، حالانکہ ان ممالک کو خود جنگ کے باعث بھاری مالی نقصانات کا سامنا ہے۔
علاقائی امور کے معروف تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے اپنے تازہ تجزیہ میں لکھا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک غیر معمولی طرزِ عمل کے تحت ایران کے ساتھ جنگ کے اخراجات ان عرب ممالک پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں جنہیں خود امریکہ کی جنگی پالیسیوں کے نتیجے میں بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
عطوان نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے متضاد اور غیر معمولی بیانات دینے کی عادت کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ امریکی صدور کی تاریخ میں ٹرمپ اس حوالے سے ایک منفرد مثال بن چکے ہیں۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ٹرمپ گزشتہ تقریباً 8 ماہ سے مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکی فوج نے ایران کی عسکری قوت کو تباہ کر دیا ہے اور آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ تاہم ان کے مطابق بڑی مقدار میں ایرانی تیل کی کھیپیں روزانہ اسی آبنائے سے گزرتی رہی ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر امریکی بحریہ کے کنٹرول میں ہے۔
ٹرمپ کا خلیجی ممالک سے جنگ کے اخراجات کا مطالبہ؟
عطوان نے ٹرمپ کے اس حالیہ بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران پر حملے کے بعد خطے کے متعدد ممالک کے رہنماؤں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ ٹرمپ کے حوالے سے انہوں نے لکھا:میں نے ان سے کہا کہ آپ اس کی قیمت کب ادا کریں گے؟
عطوان کے مطابق ٹرمپ کا اشارہ مصر، اردن، مراکش اور سوڈان جیسے ممالک کے رہنماؤں کی جانب نہیں بلکہ خلیج فارس کے ان ممالک کی طرف ہے جن کی معیشتیں تیل اور گیس کی آمدنی پر قائم ہیں اور ٹرمپ کے خیال میں انہیں جنگ کے اخراجات ادا کرنے چاہئیں۔
عطوان کا کہنا ہے کہ شاید یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہاز رانی اور تیل و گیس کی برآمدات معمول پر آ رہی ہیں، جبکہ زمینی حقائق ان دعووں سے مختلف ہیں۔
جنگ شروع کرنے والوں کو اخراجات ادا کرنے چاہئیں
عطوان نے اس جنگ کا آغاز امریکہ اور اسرائیل کو قرار دیتے ہوئے لکھا کہ انہی فریقوں کو اپنے خزانے سے جنگ کے اخراجات ادا کرنے چاہئیں، نہ کہ خلیجی ممالک کو، جو امریکہ کے اس فیصلے کے نتیجے میں خود بھاری مالی نقصانات برداشت کر رہے ہیں۔
انہوں نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی تعمیر پر خرچ ہونے والے سینکڑوں ارب ڈالر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہی اڈوں کو ایران پر حملوں کے لیے استعمال کیا گیا، لیکن وہ میزبان ممالک کو ایران کے جوابی میزائل حملوں سے محفوظ رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
عطوان نے خلیجی ممالک کی جانب سے ٹرمپ کے ممکنہ مطالبے کو مسترد کرنے کے لیے کئی وجوہات بیان کی ہیں، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ آنے والے مہینوں میں یہ مطالبہ کر سکتے ہیں۔
1۔ جنگ بنیادی طور پر اسرائیلی مفادات سے جڑی تھی
عطوان کے مطابق امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ بنیادی طور پر ایک اسرائیلی جنگ تھی، جسے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان سے وابستہ صہیونی لابیوں کی قیادت میں اس مقصد کے لیے تیار کیا گیا کہ ایران کو کمزور کرنے کے لیے امریکی طاقت استعمال کی جائے۔
2۔ خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کا کردار
عطوان کے مطابق خلیجی ممالک اور اردن میں موجود امریکی فوجی اڈے ایران کے خلاف میزائل حملوں، F-35 جنگی طیاروں اور سیکڑوں ڈرونز کے استعمال کے لیے اہم مراکز تھے۔
ان کے مطابق ایران کے جوابی میزائل حملوں سے ہونے والی تباہی میں بھی ان اڈوں کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
3۔ خلیجی ممالک کو پہلے ہی بھاری مالی نقصان
عطوان نے لکھا ہے کہ خلیج فارس کے بیشتر ممالک اس وقت پہلے ہی بڑے مالی نقصانات سے دوچار ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ 8 ماہ کے دوران تیل اور گیس کی برآمدات معمول کی سابقہ سطح پر نہ ہونے، آبنائے ہرمز کی مکمل بندش اور باب المندب کی جزوی بندش کے باعث ان ممالک کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
ان کے مطابق صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بعض خلیجی ممالک کو اپنے بجٹ خسارے پورے کرنے کے لیے عالمی بینکوں سے قرض لینے کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔
عطوان نے مثال دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سرکاری رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کا رواں سال بجٹ خسارہ 44 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
ٹرمپ خلیجی ممالک سے مزید رقم وصول کر سکتے ہیں
عطوان کے مطابق ٹرمپ خلیجی ممالک کو مالی طور پر دباؤ میں لانے، ان سے رقم وصول کرنے اور ایران کے خلاف جنگ کے اخراجات ادا کرنے پر مجبور کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔
انہوں نے یہاں تک امکان ظاہر کیا کہ ٹرمپ خلیجی ممالک کو ایران کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے اخراجات ادا کرنے پر بھی مجبور کر سکتے ہیں۔ عطوان کے مطابق جنگ روکنے کے لیے کسی حتمی سفارتی معاہدے کی صورت میں ایران کی جانب سے جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ بھی اہم مطالبات میں شامل ہو سکتا ہے۔
عطوان نے اپنے تجزیہ کے اختتام پر معروف ضرب المثل کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ:ایسے دوستوں کے ہوتے ہوئے عرب ممالک کو دشمنوں کی کیا ضرورت ہے؟


مشہور خبریں۔
میانمار کی سربراہ کے خلاف فرد جرم عائد
?️ 3 فروری 2021سچ خبریں:میانمار میں سکیورٹی کی صورتحال کے بعد اس ملک کی پولیس
فروری
اسرائیل نے غزہ کی تمام یونیورسٹیوں پر بمباری کی
?️ 21 جنوری 2024سچ خبریں:یورپی میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس واچ نے اعلان کیا ہے کہ صیہونی
جنوری
کتنے فیصد امریکی شہری ٹرمپ کی کارکردگی سے راضی نہیں؟
?️ 31 دسمبر 2025سچ خبریں:ایک نئے سروے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت
دسمبر
16 ملین شامی پناہ گزینوں کو فوری انسانی امداد کی ضرورت : اقوام متحدہ
?️ 3 دسمبر 2025سچ خبریں: اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق، شام میں انسانی بحران
دسمبر
تل ابیب کی نصف آبادی نیتن یاہو کے خلاف سڑکوں پر
?️ 2 اپریل 2023سچ خبریں:صیہونی ریاست کے دارالحکومت کی نصف آبادی نے نیتن یاہو کے
اپریل
پاکستان علماء کونسل کی اپیل پر خطبات جمعہ میں یوم آزادی پر روشنی ڈالی جائیگی
?️ 7 اگست 2025لاہور (سچ خبریں) پاکستان علماء کونسل کی اپیل پر 8 اگست جمعۃ
اگست
جنرل سلیمانی کا قتل بین الاقوامی قانون کی توہین تھی: یورپی پارلیمنٹ رکن
?️ 4 جنوری 2022سچ خبریں:یورپی پارلیمنٹ کے رکن نے کہا کہ جنرل سلیمانی کا قتل
جنوری
لبنانی حکومت، استقلال کا وہم اور قبضے کو جائز قرار دینا
?️ 28 جون 2026سچ خبریں: فریم ورک معاہدہ لبنان کی حکومت اور صہیونی حکومت کے
جون