?️
سچ خبریں:ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت کے آغاز کے ایک سال بعد شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ کی خارجہ اور داخلی پالیسیوں نے بین الاقوامی اصولوں اور جمہوری اقدار سے پہلے سے کہیں زیادہ فاصلے اختیار کر لیا ہے، اور دنیا کو غیر مستحکم حالات، یکطرفہ رویہ اور اعتماد کے بحران کی نئی لہر سے دوچار کر دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری 2025 کو دوسرے دور کے لیے امریکہ کے صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔ اس دور میں انتخابی وعدوں کے برخلاف، جو داخلی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کے متعلق تھے، خارجی مداخلتیں بڑھیں، روایتی اتحادیوں کو دھمکیاں دی گئیں، اور بین الاقوامی اداروں کو کمزور کیا گیا۔ مغربی تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کے پہلے سال نے نہ صرف امریکہ کو عالمی نظام میں ایک ذمہ دار کھلاڑی کے طور پر مضبوط نہیں کیا، بلکہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے قائم عالمی نظم کو مزید نقصان پہنچایا۔
یہ بھی پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی
امریکہ کے اندر بھی صورتحال مختلف نہیں۔ ٹرم1/21/2026پ نے گزشتہ سال 228 ایگزیکیٹیو آرڈرز جاری کیے، جو سابقہ صدور کے مقابلے میں بے مثال ہیں، جس سے کانگریس کے کردار کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ ان کے حامی اسے قاطعیت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے طاقت کے مرکزیت اور جمہوری نظام کی کمزوری کے طور پر دیکھتے ہیں۔
6 جنوری 2021 کے کانگریس پر حملے میں ملوث افراد کی وسیع معافی، مہاجرین کے ساتھ سخت رویہ، اور وائٹ ہاؤس کی مہنگی تعمیر نو جیسے منصوبے امریکی معاشرے میں دو قطبی صورتحال کو مزید گہرا کر چکے ہیں۔ باوجود اس کے، ٹرمپ نے اپنی پارٹی کی بنیاد برقرار رکھی ہے اور اقتصادی و سیاسی نخبگان کی طرف سے کوئی سنجیدہ مخالفت سامنے نہیں آئی۔
سروے کے مطابق، امریکی شہریوں کا زیادہ تر حصہ ٹرمپ کے پہلے سال کی کارکردگی سے ناخوش ہے، لیکن یہ نارضایتی ابھی تک ان کی پالیسیوں کے آگے رکاوٹ نہیں بنی۔ ایسی صورت حال میں، کانگریس کے درمیان مدتی انتخابات اس عمل کو یا تو محدود یا مزید بڑھا سکتے ہیں۔
ٹرمپ کے طنزیہ لیکن تشویشناک بیانات، انتخابات کی اہمیت کو کم کرنے اور 2028 کے انتخابات پر مزاحیہ تبصروں کے بارے میں، امریکی سیاست میں اقتدار گرایانہ گفتگو کے معمول بننے کی علامت سمجھے جاتے ہیں، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس ہو سکتے ہیں۔
خارجہ تعلقات اور بین الاقوامی قوانین پر اثرات
ایشیاپلاس کی رپورٹ کے مطابق، اس دوران امریکہ اور یورپ کے تعلقات میں بے مثال تناؤ پیدا ہوا ہے۔ ٹرمپ کے گرینلینڈ سے متعلق بیانات اور ڈنمارک (ناتو کا رکن) کے خلاف تجارتی ٹریف پر دباؤ، عالمی قوانین اور قومی خودمختاری کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف سمجھے گئے۔
سیکیورٹی پالیسی میں بھی ٹرمپ یوکرین جنگ کو ختم کرنے میں ناکام رہے، حالانکہ انہوں نے دعوی کیا تھا کہ 24 گھنٹوں میں یہ ممکن ہے۔ حقیقت میں، امریکہ نے زیادہ تر غیر فعال ثالث کا کردار ادا کیا اور یوکرین کی مکمل حمایت سے دور رہا، جس سے یورپی اتحادیوں میں شدید تشویش پیدا ہوئی۔
وائٹ ہاؤس نے صلح کمیٹی کے نام سے ایک ادارے کے قیام کا ذکر کیا، جس میں روس کے صدر کو بھی مدعو کیا گیا، لیکن یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کھلاڑیوں کو جائز قرار دینے کی کوشش کے طور پر ناقدین کی تنقید کا شکار ہوا۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ کی مقبولیت میں ایک بار پھر کمی،کیا کمزور معیشت ریپبلکنز کو شکست دے سکتی ہے؟
ٹرمپ نے بار بار واضح کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے پابند نہیں ہیں اور ان کے مطابق ان کی ذاتی اخلاقیات اور فردی فیصلہ ہی ان کے فیصلوں کی حد بندی کرتی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ رویہ بین الاقوامی تعلقات میں کثیرالجہتی نظام کے کمزور ہونے اور طاقت کے سادہ منطق پر واپس جانے کی نشانی ہے۔


مشہور خبریں۔
امریکی پارلیمنٹ اسپیکر کا اس ملک کی ریپبلک پارٹی پر بہت بڑا الزام
?️ 15 جون 2021سچ خبریں:امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نے اس ملک کی ریپبلک پارٹی
جون
مہنگا تیل اور لڑکھڑاتی معیشت؛ مغربی ایشیا کی جنگ کا بھارت پر بھاری پڑتا ہوا معاشی بوجھ
?️ 9 جون 2026سچ خبریں:تیل کی 90 فیصد درآمدات پر انحصار کرنے والی بھارتی معیشت
جون
ایران خطہ کی ایک بڑی طاقت بن چکا ہے:سید حسن نصراللہ
?️ 17 فروری 2021سچ خبریں:حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نےکہا کہ
فروری
بلاشبہ یوکرین میں ہمارے آپریشن کے اہداف پورے ہوں گے: پوٹن
?️ 12 اپریل 2022روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا ہے کہ یوکرین میں ان کے
اپریل
صیہونی فوج کی بھونڈی حرکات
?️ 31 مئی 2021سچ خبریں:صیہونی فوج نے سوشل میڈیا پر اپنی خواتین فوجیوں کی ہیجان
مئی
خطے میں امریکی پالیسیوں کے تسلسل کیلئے پاکستان نے بھاری نقصان اٹھایا، دفتر خارجہ
?️ 21 دسمبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) وزارت خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ
دسمبر
بجلی قیمت پھر مہنگی ہو گئی
?️ 20 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں)۔ تفصیلات کے مطابق سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی
اگست
توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار
?️ 4 جولائی 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیشن کورٹ کے اس
جولائی