?️
سچ خبریں:حماس نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل جنگ بندی پر عملدرآمد میں رکاوٹ ڈال رہا ہے اور رفح میں ایک بڑے کیمپ کے ذریعے فلسطینیوں کی بتدریج اور جبری بے دخلی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
حماس کے ایک اعلیٰ رہنما نے اسرائیل کے وحشیانہ جرائم کے تسلسل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکومت جنگ بندی کے نفاذ میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صہیونی حکومت فلسطینیوں کے گھروں کی وسیع پیمانے پر مسماری کی پالیسی پر کاربند:عرب میڈیا
ایسے وقت میں جب صہیونی حکومت نے رفح کراسنگ کو محدود طور پر دوبارہ کھول دیا ہے، غزہ کی پٹی میں غیر فوجی شہریوں کے خلاف اس حکومت کے وحشیانہ جرائم میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسی تناظر میں حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ کے میڈیا مشیر طاہر النونو نے گزشتہ شب اعلان کیا کہ قابض صہیونی فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے درپے ہیں اور فلسطینی عوام کے خلاف اجتماعی سزا کی پالیسی اپنا رہے ہیں۔
طاہر النونو نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ حماس رفح کراسنگ کو اس کی سابقہ عملیاتی حالت میں واپس لانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رفح کراسنگ کا دوبارہ کھلنا ایک اہم قدم ہے جو فلسطینی عوام کی ارادے سے ممکن ہوا ہے اور اسی بنیاد پر غزہ کی پٹی میں انسانی مشکلات میں کمی آنی چاہیے۔
حماس کے اس ذمہ دار نے تاکید کی کہ غزہ کی پٹی کے انتظامی کمیٹی کے کام میں تیزی لانے کی ہماری کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ قابضین کے بہانوں کو ختم کیا جا سکے اور فلسطینی عوام کے لیے ایک بہتر مستقبل تعمیر کیا جا سکے۔
حماس کے سیاسی دفتر کے میڈیا مشیر نے غزہ کی پٹی کے انتظامی کمیٹی کے بارے میں کہا کہ ابھی تک کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی گئی کہ کب انتظام اس تکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کیا جائے گا تاکہ وہ اپنا کام شروع کرے اور اپنی ذمہ داریاں سنبھالے، تاہم اس کمیٹی سے رابطہ جاری ہے۔
انہوں نے آگے چل کر صہیونی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی فورسز کی جانب سے قابض صہیونی افواج کے خلاف کارروائیوں کے الزامات درست نہیں ہیں، اور رفح میں پھنسے مزاحمتی جنگجوؤں کا بحران ایسے حل کا متقاضی ہے جو ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنائے۔
طاہر النونو نے واضح کیا کہ ہمارے پاس رفح کے سرنگوں میں پھنسے جنگجوؤں کی درست تعداد کے بارے میں قطعی معلومات نہیں ہیں اور قابضین اس معاملے کو حل کرنے میں کوئی سنجیدگی نہیں دکھا رہے۔
حماس کے اس رہنما نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں تقریباً 15 ہزار زخمی اور بیمار افراد موجود ہیں جنہیں فوری طور پر غزہ سے باہر علاج کی ضرورت ہے اور ہم بھاری سازوسامان اور امدادی قافلوں کی آمد کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ فلسطینیوں کی زندگی بہتر بنائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ قابضین جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ جنگ کو صہیونی حکومت کے انتخابات تک طول دینا چاہتے ہیں، اور ہم تمام متعلقہ فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صہیونیوں پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ غیر فوجی شہریوں کے خلاف اپنے حملے اور جرائم بند کریں۔
یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صہیونی حکومت نے رفح کراسنگ کی آزمائشی اور محدود بنیادوں پر دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے، لیکن مکمل نگرانی اس کے اپنے کنٹرول میں ہے۔
دوسری جانب چند روز قبل صہیونی فوج کے ریٹائرڈ جنرل امیر آویوی نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل نے جنوبی غزہ کے شہر رفح میں ایک بڑے کیمپ کے لیے زمین تیار کی ہے جہاں فلسطینیوں کو منتقل کیا جا سکتا ہے اور ممکن ہے کہ اس کے داخلی راستوں پر چہرہ شناخت کرنے والی نگرانی کی ٹیکنالوجی نصب کی جائے۔
یہ صہیونی جنرل، جو اس وقت فوج کے مشیر کے طور پر کام کر رہا ہے، نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ یہ کیمپ اس علاقے میں قائم کیا جائے گا جہاں سرنگیں تباہ کی جا چکی ہیں اور وہاں آمد و رفت مکمل طور پر اسرائیل کے براہ راست کنٹرول میں ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کیمپ ان فلسطینیوں کے لیے استعمال ہوگا جو غزہ چھوڑ کر مصر جانا چاہتے ہیں، اور ان لوگوں کے لیے بھی جو غزہ میں رہنا چاہتے ہیں۔ یہ علاقہ اس وقت سے تقریباً مکمل طور پر خالی ہے جب اسرائیلی فوج نے گزشتہ جنگ بندی کے بعد اس پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔
اس صہیونی جنرل نے تاکید کی کہ توقع ہے یہ کیمپ اتنا بڑا ہوگا کہ لاکھوں افراد کو اس میں جگہ دی جا سکے اور اس میں سکیورٹی چیک کے لیے چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی بھی موجود ہوگی۔
اس حوالے سے باخبر ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل رفح کراسنگ کو دوبارہ کھول کر زیادہ تر فلسطینیوں کے غزہ سے نکلنے کی اجازت دینا چاہتا ہے، نہ کہ داخل ہونے کی، اور اس طرح بالواسطہ اور بتدریج فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا چاہتا ہے۔
مزید پڑھیں:ہم فلسطینیوں کو بے گھر کیے بغیر غزہ کی تعمیر نو کے لیے کوشاں ہیں: اردن
اسی تناظر میں غزہ کی پٹی کے سرکاری اطلاعاتی دفتر کے سربراہ اسماعیل الثوابته نے اعلان کیا کہ صہیونی حکومت کا یہ منصوبہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے لیے ایک پردہ پوشی ہے۔


مشہور خبریں۔
صدر مملکت نے اہم بل پر دستخط کر دئے
?️ 21 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اسلام آباد سینئر
جولائی
کیوبا کے خلاف امریکہ کے غیر قانونی اقدامات، ایران نے کیوبا حکومت کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا
?️ 22 جولائی 2021نیویارک (سچ خبریں) ایران نے امریکا کی جانب سے کیوبا کے خلاف
جولائی
امریکہ چین کی بحری ترقی سے خوفزدہ
?️ 4 جنوری 2023سچ خبریں: 17 جولائی کو چینی بحریہ نے ملک کے دارالحکومت
جنوری
سوڈان کی روس کو افریقہ میں پہلا بحری اڈہ قائم کرنے کی پیشکش
?️ 3 دسمبر 2025سچ خبریں: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنے ذرائع کے حوالے سے
دسمبر
ہم طویل جنگ کے لیے تیار ہیں؛حزب اللہ کا اعلان
?️ 23 مارچ 2026سچ خبریں:لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف طویل
مارچ
توشہ خانہ کیس، الیکشن کمیشن نے اسٹیٹ بینک سے عمران خان کے اکاؤنٹس کی تفصیلات مانگ لیں
?️ 5 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیراعظم عمران خان کا توشہ خانہ سے لیے
اکتوبر
شام میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد
?️ 11 اگست 2022سچ خبریں:شام میں سکیورٹی امور کے ایک ماہر نے اس ملک میں
اگست
پی آئی اےنے سڈنی کے لیے براہِ راست پروازیں چلانے کا منصوبہ بنا لیا
?️ 28 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان کی قومی ائیرلائن پی آئی اے نے
فروری