غزہ کے عوام کی جنگ اور قحط کے خلاف انوکھی جدوجہد؛ کچرے سے بجلی، ہاتھ سے چلنے والی واشنگ مشین اور متبادل کرنسی تیار

غزہ

?️

سچ خبریں:صیہونی محاصرے، جنگ اور بنیادی اشیائے ضرورت کی شدید قلت کے باوجود غزہ کے شہریوں نے روزمرہ زندگی جاری رکھنے کے لیے غیر معمولی اختراعات متعارف کرائی ہیں، جن میں بجلی کی پیداوار، کپڑے دھونے، لین دین اور طبی سہولیات کے متبادل طریقے شامل ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق صیہونی جنگ، محاصرے اور بنیادی سہولیات کی تباہی نے غزہ کے باشندوں کو زندگی کی مشکلات سے نمٹنے کے لیے نئے اور غیر روایتی حل تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ شہریوں نے دستیاب اور جنگی تباہی کے ملبے سے حاصل ہونے والے سامان کی مدد سے ایسی ایجادات تیار کی ہیں جو ان کے روزمرہ مسائل کم کرنے میں مدد دے رہی ہیں۔

ہاتھ سے چلنے والی واشنگ مشین کی تیاری

غزہ کے ایک کانٹینٹ کریئیٹر تیسیّر عبید نے اپنے خاندان کی مدد کے لیے ایک ٹوکری اور جھاڑو کے دستے سے ہاتھ سے چلنے والی واشنگ مشین تیار کی۔ اس سادہ آلے نے خصوصاً سردیوں میں ان کے خاندان کے لیے کپڑے دھونے کی دشواری کم کر دی۔ انہوں نے چوہوں سے بچاؤ کے لیے خالی کھانے کے ڈبوں کو بھی استعمال کیا اور ان سے دیواریں اور چھوٹے حفاظتی ڈھانچے بنائے۔

خیمے میں باورچی خانہ اور ویڈیو اسٹوڈیو

غزہ کے باورچی احمد الکحلوت نے اپنے خیمے کو باورچی خانے اور ویڈیو ریکارڈنگ اسٹوڈیو میں تبدیل کر دیا ہے۔ وہ محدود وسائل کے باوجود کھانا پکانے اور روزمرہ زندگی کے حالات کو ریکارڈ کرتے ہیں تاکہ دنیا کو غزہ کے شہریوں کی مشکلات سے آگاہ کیا جا سکے۔

ایک اور کانٹینٹ کریئیٹر تالا درویش کا کہنا ہے کہ کیمرے، موبائل فون اور مائیکروفون جیسے آلات کی شدید قلت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مائیکروفون تلاش کرنے کے لیے انہیں بہت کوشش کرنا پڑی، جبکہ کیمرہ ملبے کے نیچے سے نکالا گیا۔

سادہ آلات سے بجلی کی پیداوار

محمد جمعہ الدباری اور رفح سے بے گھر ہونے والے دیگر شہریوں نے خان یونس کے علاقے المواصی میں کم خرچ بجلی پیدا کرنے کا طریقہ تلاش کیا ہے۔ ان کے تیار کردہ گھریلو ونڈ ٹربائنز موبائل فون چارج کرنے اور روشنی سمیت بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

الدباری کے مطابق متبادل توانائی کے ذرائع کی قیمتیں انتہائی بڑھ جانے کے بعد انہیں یہ طریقہ اختیار کرنا پڑا۔ ایک سولر پینل کی قیمت 15 ہزار شیکل، یعنی تقریباً پانچ ہزار ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے جنگ کے ملبے سے ملنے والے سائیکلوں، الیکٹرک سائیکلوں اور زرعی گرین ہاؤسز کے پائپوں کو استعمال کرتے ہوئے ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے آلات تیار کیے۔

گولہ باری سے بچاؤ کے لیے حفاظتی مورچے

خان یونس کے علاقے المواصی میں ایک بے گھر خاندان نے اپنی گدھی کو صیہونی فوج کی فائرنگ سے بچانے کے لیے زمین میں گڑھا کھود کر اس کے گرد مٹی کا حفاظتی بند بنایا۔ یہ گدھی پانچ خاندانوں کی آمدنی کا ذریعہ ہے۔

بیت لاہیا کے علاقے المشروع اور السلاطین محلے میں، جو یلو لائن کے قریب واقع ہیں، فوجی فائرنگ کے خطرے کے باعث شہریوں نے اپنے اور اپنے خاندانوں کے تحفظ کے لیے مٹی کے مورچے تعمیر کیے ہیں۔

ابومحمد نے بتایا کہ جب صیہونی فوجیوں کی ایک گولی ان کی نومولود بیٹی کے بستر سے ٹکرائی تو انہوں نے خراب اور خالی ریفریجریٹروں کے ڈھانچے خریدے اور انہیں مٹی سے بھر کر حفاظتی رکاوٹوں کے طور پر استعمال کیا۔

سردیوں میں بارش کا پانی بستیوں میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے ثقافتی و فنونِ لطیفہ کی تنظیم میاسم نے ورلڈ سینٹرل کچن کے تعاون سے پرانے برتنوں کی مدد سے ایک رکاوٹ بھی تیار کی ہے، جس کا مقصد تنظیم کے مرکز اور المیناء کیمپ کو سمندری پانی اور بارش کے اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔

غزہ میں متبادل کرنسی کا اجرا

غزہ شہر کے علاقے الزیتون میں فلسطینی شہری ابومعتصم نصار نے نقد رقم کی قلت اور انٹرنیٹ کی بندش کے باعث متبادل کرنسی متعارف کرائی ہے۔ دو، تین، چار اور دس شیکل مالیت کے یہ خصوصی نوٹ دکانوں اور ریستورانوں میں خریداری کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ اس نظام سے دو ہزار سے زائد افراد کے روزمرہ لین دین میں آسانی پیدا ہوئی ہے۔

نصار کے مطابق وہ ہر پیر اور جمعرات کو دکانداروں سے ان نوٹوں کو جمع کرتے ہیں، حساب کتاب مکمل کرتے ہیں اور پھر بینکنگ ایپلی کیشن کے ذریعے متعلقہ رقم دکانداروں کے کھاتوں میں منتقل کر دیتے ہیں۔

تباہ شدہ لکڑی سے اسکولوں کے لیے بینچ

غزہ کے بڑھئی عدنان عجور انسانی امداد اور سامان کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے لکڑی کے پلیٹ فارم کھول کر ان کی لکڑی سے اسکولوں کے بینچ تیار کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد جنگ میں تباہ ہونے والے تعلیمی فرنیچر کی جگہ نئے بینچ فراہم کرنا ہے۔

طبی سامان کی قلت میں پلاسٹک کے اسپلنٹ

الزوایدہ کے فیلڈ اسپتال میں طبی آلات اور ماہر عملے کی شدید کمی کے باوجود فزیوتھراپی اور بحالی کی خدمات جاری ہیں۔ یہ مرکز جنگ میں زخمی ہونے والے نئے مریضوں کے ساتھ ان افراد کا بھی علاج کر رہا ہے جو عارضی یا مستقل معذوری کا شکار ہوئے ہیں۔

اسپتال کے شعبۂ فزیوتھراپی کے انچارج محمد الیازجی کے مطابق روزانہ 6 سے 100 زخمی افراد اس مرکز میں آتے ہیں اور انہیں بحالی کی خصوصی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ طبی سامان کی قلت اور اس کی درآمد پر پابندیوں کے باعث اسپتال نے 2025 کے آغاز میں پلاسٹک کے اسپلنٹ تیار کرنے کا یونٹ قائم کیا، جہاں نایاب طبی اشیا کے متبادل کے طور پر مقامی طور پر دستیاب مواد استعمال کیا جاتا ہے۔

مشہور خبریں۔

دور دراز جیلوں میں قید کشمیریوں کے اہلخانہ کا ذہنی کرب اور اذیت

?️ 10 دسمبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

سعودی عرب میں امریکی فوج ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے تعینات کی گئی ہے:بائیڈن

?️ 9 دسمبر 2021سچ خبریں:امریکی صدر جوبائیڈن نے ایک تقریر میں نے دعویٰ کیا کہ

نابلس اورجنین میں شوٹنگ آپریشن میں صیہونیوں کے ساتھ استقامت کا تصادم

?️ 8 فروری 2023سچ خبریں:مقامی ذرائع نے اعلان کیا کہ جنین کے شمال مشرق میں

صیہونی فوجی اپنی شناخت کیوں چھپاتے ہیں؟

?️ 13 جنوری 2025سچ خبریں:صیہونی حکومت نے اپنے فوجیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ

پاک بحریہ نے عزم و حوصلے سے ہمیشہ قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔ وزیراعظم شہبازشریف

?️ 8 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی قرآن پاک کی ایک آیت کی تلاوت کے ذریعہ مسلمانوں کی تعریف

?️ 14 مارچ 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے قرآن پاک کی ایک آیت

کے الیکٹرک کی کپیسٹی اتنی نہیں تھی جتنا ان کو دے دیا گیا، پاور ڈویژن

?️ 3 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری نے کے

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کا ٹرائل 11 جنوری تک روک دیا

?️ 28 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں جیل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے