صیہونی ریاست سے سائنسدانوں اور اکیڈمک ماہرین کے فرار کا بڑھتا ہوا رجحان

ماہرین

?️

سچ خبریں:طوفان الاقصی آپریشن کے بعد مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے سائنسدانوں اور اکیڈمک ماہرین کی ہجرت میں خطرناک اضافہ ہوا ہے جس سے صیہونی سیکولر-مذہبی تقسیم، سلامتی کے بیانیے کی شکست اور عالمی سطح پر علمی تنہائی کے بحران واضح ہوئے ہیں۔

الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ صیہونی بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی تازہ رپورٹ کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے سائنسدانوں اور اکیڈمک ماہرین کی ہجرت میں خطرناک اضافہ ہوا ہےجس سے یہ ریاست ایک معاشی یا سماجی مسئلے سے کہیں گہرے بحران کا سامنا کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:صیہونی مقبوضہ علاقوں سے تاریخی فرار

صیہونی اخبار ہارٹیز نے تصدیق کی ہے کہ علمی اور اکیڈمک ماہرین کی ہجرت، خاص طور پر طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد غیر معمولی رفتار سے بڑھ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، صہیونی ریاست کے قیام کے آغاز سے ہی، یونیورسٹیا، تحقیقی مراکز اور ٹیکنالوجی کی صنعتیں براہ راست قبضے اور توسیع پسندانہ منصوبے کی خدمت میں تھیں۔ تل ابیب نے امریکہ اور مغرب کی حمایت پر انحصار کرتے ہوئے خود کو اسٹارٹ اپ کے میدان میں پیش قدم کے طور پر پیش کیا اور اپنی آبادیاتی اور جغرافیائی کمزوری کو تکنیکی برتری سے پورا کیا۔ لیکن آج یہ ماڈل ٹوٹ رہا ہے۔

صیہونی ریاست میں سیکولر اور مذہبی کے درمیان گہری خلیج

مقبوضہ علاقوں سے ماہرین کی ہجرت اور فرار کی ایک بنیادی وجہ سیکولر دھارے اور مذہبی-قوم پرست دھارے کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج ہے۔ اکیڈمک اور ٹیکنالوجی کے ماہرین، جو خود کو جدید اسرائیل کے معمار سمجھتے ہیں، اب دیکھ رہے ہیں کہ سیاسی طاقت اور مالی وسائل انتہائی مذہبی دھاروں اور دائیں بازو کے انتہا پسند جماعتوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

ہریدیوں کی فوجی خدمات سے وسیع چھوٹ، جامعات میں مداخلت، اور اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں کمی نے ماہرین میں عدم انصاف اور عدم استحکام کا احساس بڑھا دیا ہے۔

7 اکتوبر کے بعد سلامتی کے بیانیے کا خاتمہ

طوفان الاقصیٰ آپریشن نے صیہونی ریاست کے سلامتی کے بیانیے کو بے مثال دھچکا پہنچایا۔ وہ ریاست جس نے خود کو ناقابل تسخیر قلعہ کے طور پر پیش کیا تھا، اب غزہ، لبنان، یمن میں فرسودہ جنگوں اور ایران کے ساتھ براہ راست تصادم میں الجھی ہوئی ہے۔ یہ صورت حال محققین اور ماہرین کے لیے، جنہیں طویل مدتی استحکام کی ضرورت ہے، ایک مبہم اور خطرناک مستقبل کا پیغام ہے۔

عالمی جواز میں کمی اور علمی تنہائی

صہیونی ریاست کے غزہ پٹی میں جرائم کے ساتھ ہی، مغرب کی جامعات اور علمی مراکز میں اس ریاست کی حیثیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ طلبہ احتجاج، علمی پابندیاں اور کچھ بڑی یونیورسٹیوں کے تعاون میں کمی نے اس ریاست کے ساتھ کام کرنے کو ایک اخلاقی بوجھ میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ مسئلہ براہ راست مقبوضہ علاقوں میں موجود محققین کی علمی حیثیت اور بین الاقوامی منصوبے جذب کرنے کی اس ریاست کی صلاحیت پر اثر انداز ہوا ہے۔

آبادیاتی بحران اور الٹی ہجرت

ہجرت کا بحران صرف ماہرین تک محدود نہیں ہے؛ ریاست کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل حالیہ دہائیوں میں سب سے زیادہ منفی ہجرت کی شرح کا سامنا کر رہا ہے۔

 یہ مسئلہ اس ریاست کے لیے وجودی خطرہ ہے جس نے اپنی جائزیت یہودیوں کی آبادیاتی برتری پر قائم کی ہے، اس کے برعکس، فلسطینیوں میں شرح پیدائش کی بلند شرح اور یہودی گروہوں (ہریدی، مذہبی قوم پرست اور سیکولر) کے درمیان آبادیاتی اختلافات نے اسرائیلی ریاست کا مستقبل مزید مبہم کر دیا ہے۔

صہیونی منصوبے کے مرکز میں بحران

مقبوضہ علاقوں سے ماہرین کی ہجرت محض چند ہزار ماہرین کا نکلنا نہیں ہے؛ بلکہ یہ اس ریاست کی علم پیدا کرنے، فوجی برتری برقرار رکھنے اور قبضہ جاری رکھنے کی صلاحیت کے کمزور ہونے کی علامت ہے۔

مزید پڑھیں:تقریباً 11 ہزار اسرائیلی اپنے گھروں سے فرار 

 ایسی دنیا میں جہاں طاقت علم کی تخلیق پر مبنی ہے، ماہرین کو کھونا طاقت کی تجدید کی صلاحیت کھونے کے مترادف ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جسے بہت سے تجزیہ کار صہیونی منصوبے کے تاریخی زوال کا آغاز سمجھتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

ٹرمپ کے منصوبے/حماس کے ردعمل پر مذاکرات کے لیے قاہرہ کی تیاری نے صیہونیوں کو کس طرح الجھا دیا ہے؟

?️ 5 اکتوبر 2025سچ خبریں: عبرانی اور مغربی ذرائع نے غزہ جنگ کے خاتمے کے

ٹرمپ 83 ملین ڈالر کی سزا کو کالعدم کرنے میں ناکام

?️ 9 ستمبر 2025سچ خبریں: امریکہ کی ایک اپیل کورٹ نے معروف امریکی مصنفہ جین

لانگ مارچ نزدیک، اسلام آباد پولیس کو ڈرونز، باڈی کیمرے مہیا کر دیے گئے

?️ 21 نومبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی کا لانگ مارچ نزدیک پہنچنے

امریکی فوجی قافلے کی عراق سے شام منتقلی

?️ 12 مارچ 2022سچ خبریں:عراقی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ امریکہ کی قیادت میں

2 کروڑ سیلاب زدگان انسانی امداد پر انحصار کر رہے ہیں، شیری رحمٰن

?️ 20 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن کا کہنا ہے

سلامتی کونسل امریکہ کی استعماری پالیسیوں کا کارندہ

?️ 12 جنوری 2024سچ خبریں:یمن کی تحریک انصار اللہ کے ترجمان محمد عبدالسلام نے تل

حماس کی فلسیطین میں کیا حیثیت ہے؟ روسی سفیر

?️ 10 فروری 2024سچ خبریں: قطر میں روسی سفیر نے کہا کہ حماس کو فلسطینی

عالمی برادری کو آنلائن نفرت ختم کرنی ہو گی:عمران خان

?️ 12 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) سرکاری کینیڈین ٹی وی چینل کینیڈین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے