?️
ماسکو (سچ خبریں) ایک طرف جہاں امریکا اور طالبان کے مابین ہونے والے مذاکرات میں کچھ رکاوٹیں آئی ہیں وہیں دوسری طرف روس نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے افغان گروپس میں مذاکرات کی میزبانی کررہا ہے، اسی سلسلے میں روس نے ایک اہم بیان بھی جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ اگر افغانستان میں کوئی عبوری انتظامیہ بنتی ہے تو طالبان کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔
تفصیلات کے مطابق روس نے ماسکو میں افغان گروپوں کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات سے قبل کہا ہے کہ افغانستان میں کوئی عبوری انتظامیہ تشکیل پاتی ہے تو اس میں طالبان کو نمائندگی دینی چاہیے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق روس 18 مارچ کو ایک کانفرنس کی میزبانی کرے گا جس کے لیے طالبان نمائندوں سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کو دعوت دے دی ہے۔
روس ایک ایسے وقت میں افغان گروپس کی امن مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے جب امریکی فوج کے انخلا کی ڈیڈلائن یکم مئی کو ختم ہو رہی ہے اور تنازع کے حل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
خیال رہے کہ امریکا نے امن کے لیے افغانستان کی موجودہ حکومت تبدیل کر کے ایک عبوری انتظامیہ تشکیل دینے کا منصوبہ پیش کیا ہے جو ایک نئے متفقہ آئین اور انتخابات کے انعقاد تک کام کرے گی۔
دوسری جانب افغانستان کے صدر اشرف غنی نے حکومت کی تبدیلی کے منصوبے کو مسترد کردیا ہے۔
روس کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماریہ زخروف نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ عبوری متفقہ حکومت کی تشکیل کا فیصلہ خود افغانوں کو مصالحتی مذاکرات کے دوران کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی دوران ہم نے نشان دہی کی ہے کہ افغانستان کے پرامن سیاسی عمل میں طالبان کو متفقہ حکومت میں شامل کرنا مسائل کا ایک منطقی حل ہوگا۔
روس کا کہنا تھا کہ اگلے ہفتے ہونے والی کانفرنس کا مقصد دوحہ میں منعقدہ مذاکرات میں تعاون کرنا ہے کیونکہ تاحال نتیجہ حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
رائٹرز کے مطابق طالبان کے قریبی ذرائع کا شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ دوحہ میں قائم طالبان کے سیاسی دفتر سے 4 یا 5 اراکین کی ٹیم ماسکو کانفرنس میں شرکت کرے گی۔
قبل ازیں ترکی نے بھی کہا تھا کہ استنبول میں اپریل میں افغان امن مذاکرات کی میزبانی کریں گے، ترک وزیر خارجہ میولت کیوس اوغلو کا کہنا تھا کہ ‘طالبان اور افغان حکومت کا مذاکراتی وفد دونوں نے ہمیں اجلاس کی میزبانی کرنے کے لیے کہا ہے۔
دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم اس اجلاس کی میزبانی برادر ملک قطر سے مشاورت سے کریں گے۔
افغانستان سے امریکی فوج کی دستبرداری کے معاملے نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ جلد بازی میں انخلا سے مزید افراتفری ہوسکتی ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارا مقصد طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے اور پوری توجہ نتیجے پر مرکوز ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم طالبان کو پیغام دے رہے ہیں، انہیں کہہ رہے ہیں کہ حملے ختم کریں اور ان سے کہہ رہے ہیں کہ حملوں کے دوران حقیقی معنوں میں کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے۔


مشہور خبریں۔
حزب اللہ نے فلسطینی کمانڈر العاروری کا بدلہ کیسے لیا؟
?️ 8 جنوری 2024سچ خبریں: صالح العروری کے قتل کے ابتدائی ردعمل کے ایک حصے
جنوری
جارج بش الیکشن میں آنے کے امیدوار
?️ 8 ستمبر 2024سچ خبریں: سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے ترجمان نے اعلان
ستمبر
صیہونی سیف القدس کے تجربے کو دہرانا نہیں چاہتے: حماس
?️ 6 مئی 2022سچ خبریں:حماس کے سیاسی بیورو کے رکن نے کہا کہ صہیونیوں کے
مئی
یمن کے غزہ جنگ میں داخل ہونے سے مغربی ممالک کیوں پریشان ہیں؟
?️ 2 نومبر 2023سچ خبریں: صیہونیوں کے خلاف لڑائی کے میدان میں یمنی مسلح افواج
نومبر
صدر مملکت کو عہدے سے ہٹانے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر
?️ 18 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ آف پاکستان میں صدر مملکت ڈاکٹر
اپریل
جنوبی سوڈان میں خونریز تصادم؛ 236 افراد ہلاک اور زخمی
?️ 22 اکتوبر 2022سچ خبریں:جنوبی سوڈان میں ہونے والے خونزیر تشدد کے نتیجہ میں 150
اکتوبر
قطر افریقہ میں قدم جمانے کا خواہاں، صومالیہ کے ساتھ سیکیورٹی معاہدہ
?️ 7 دسمبر 2025سچ خبریں: صومالیہ کے صدر اور قطر کے امیر نے دونوں ممالک
دسمبر
پاکستان اور چین بشام دہشتگردی پر رابطہ میں ہیں، ترجمان دفتر خارجہ
?️ 7 جون 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان
جون